Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

سرخ لکیرکے پار

تاریخ کبھی محض واقعات کاسلسلہ نہیں ہوتی، وہ دراصل قوموں کے عزم،طاقت کے توازن اور عالمی سیاست کے پوشیدہ کھیل کی ایک زندہ دستاویز ہوتی ہے۔جب مورخ قلم اٹھاتا ہے تووہ صرف حادثات کو نہیں لکھتابلکہ اس پردہ غیب کوبھی ہٹانے کی کوشش کرتا ہے جس کے پیچھے عالمی طاقتیں اپنی بساط بچھاتی ہیں۔جنوبی ایشیاء اورمشرقِ وسطیٰ کی سرزمین بھی صدیوں سے اسی خاموش مگرہولناک شطرنج کی بازی کامیدان بنی ہوئی ہے جہاں کبھی بادشاہ مات کھاتے ہیں اورکبھی پیادے قربان ہوجاتے ہیں۔
9مارچ 2026ء کوشائع ہونے والے میرے مضمون’’عالمی بساط کاخفیہ کھیل‘‘میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیاگیاتھا کہ خطے میں جوکچھ دکھائی دے رہاہے وہ اصل کھیل نہیں بلکہ اس کھیل کاصرف ایک سایہ ہے۔اس مضمون میں واضح کیاگیاتھاکہ پاکستان نے گزشتہ مہینوں میں خطے میں ایک ایساتعمیری کردار ادا کیا جس نے نہ صرف ایک ممکنہ تباہ کن بحران کوروکابلکہ ایران کواس انجام سے بھی بچالیاجوکبھی شام کے مقدر میں لکھ دیاگیاتھا۔عالمی طاقتوں کی ایک خفیہ حکمتِ عملی یہ تھی کہ ایران کوداخلی انتشار نسلی بغاوتوں اورمعاشی دبائوکے ذریعے کمزورکرکے اسے ایک نئے خانہ جنگی کے میدان میں دھکیل دیاجائے۔اس مقصدکے لئے منصوبہ یہ تھاکہ افغانستان میں موجودمختلف شدت پسند گروہوں کو استعمال کرتے ہوئے ایران کی سرحدوں پرعدم استحکام پیدا کیا جائے اورپھر اندرونی احتجاج کوہوا دے کرتہران کی حکومت کومفلوج کردیاجائے۔
لیکن تاریخ کے بعض موڑایسے ہوتے ہیں جہاں ایک ریاست کی بصیرت پورے خطے کی تقدیربدل دیتی ہے۔پاکستان نے نہ صرف سفارتی سطح پربلکہ خفیہ اور عملی سطح پربھی ایسے اقدامات کئے جنہوں نے اس خطرناک منصوبے کوناکام بنادیا۔ اطلاعات کے مطابق افغانستان میں موجودخراسان کے پچیس ہزارسے زائد شدت پسند،تحریک طالبان پاکستان کے بیس ہزارکے قریب جنگجو،اور بعض دیگرعناصرکوایک وسیع منصوبے کے تحت ایران کے خلاف استعمال کرنے کی تیاری کی جارہی تھی۔ مقصدیہ تھاکہ ایران کواندرسے ٹکڑوں میں تقسیم کردیاجائے اورخطے میں ایک اورشام جیسی خونریزی پیداکرکے امت مسلمہ کوایک اورتاریک شام میں غرق کردیاجائے۔
اسی سلسلے میں ایک اورمنصوبہ بھی تیار کیا گیا تھا جس کے تحت سٹارلنک انٹرنیٹ کے ذریعے پروپیگنڈہ کی جنگ شروع کی جانی تھی۔اس مقصدکے لئے تقریباتیرہ ہزارسے زائدخصوصی ڈیوائسزافغانستان کے راستے ایران اورپاکستان کے سرحدی علاقوں میں اسمگل کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ سوشل میڈیااورڈیجیٹل نیٹ ورک کے ذریعے بڑے پیمانےپرعوامی بغاوت کومنظم کیاجا سکے۔لیکن پاکستان کی سکیورٹی اورانٹیلی جنس اداروں نے اس خفیہ منصوبے کوبروقت بے نقاب کرکے اسے ناکام بنادیا۔
یہ وہ لمحہ تھاجب عالمی بساط کے کھلاڑیوں کو احساس ہواکہ ان کامنصوبہ ناکام ہوچکاہے۔جب پراکسی جنگ،اطلاعاتی جنگ اور داخلی بغاوت کے منصوبے ناکام ہوجائیں تواکثر طاقتیں ایک آخری راستہ اختیارکرتی ہیںاوروہ ہے کھلی محاذآرائی۔ چنانچہ وہی ہواجس کا خدشہ پہلے ہی ظاہرکیاجاچکا تھا۔جب ایران میں حکومت گرانے کامنصوبہ ناکام ہواتوخطے میں کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیاگیا۔افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم مختلف دہشت گرد گروہوں کودوبارہ متحرک کیاگیا اورسرحدی کشیدگی کوبتدریج عسکری تصادم کی طرف دھکیل دیاگیا۔
آج جوصورتحال ہم دیکھ رہے ہیںپاکستان کے شہروں پرڈرون حملوں کی کوششیں،سرحدی کشیدگی، اورپراکسی جنگ کابڑھتا ہواسایہوہ دراصل اسی عالمی بساط کااگلا مرحلہ ہے۔ گزشتہ دوہفتوں میں رونماہونے والے واقعات اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ خطہ ایک خطرناک دوراہے پرکھڑاہے جہاں ایک معمولی چنگاری بھی ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔یہی پس منظراس مضمون کوسمجھنے کے لئے نہایت اہم ہے۔یہ محض چندڈرونزکی کہانی نہیں بلکہ اس عالمی شطرنج کی ایک نئی چال ہے جس میں خطے کی تقدیر،عالمی طاقتوں کے مفادات اورایٹمی صلاحیت رکھنے والی ریاستوں کامستقبل داؤپرلگاہواہے۔
برصغیرکی تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ یہاں کی سرزمین ہمیشہ طاقت،سیاست اور نظریات کے تصادم کی آماجگاہ رہی ہے۔تاریخ کے اوراق جب کبھی سرحدوں کی کہانیاں بیان کرتے ہیں توان میں صرف نقشے کی لکیریں نہیں ہوتیں بلکہ قوموں کی تقدیر،سیاست کی نزاکت اورطاقت کے توازن کی داستانیں بھی ثبت ہوتی ہیں۔جنوبی ایشیاکی جغرافیائی ساخت بھی انہی پیچیدہ حقیقتوں کی آئینہ دارہے جہاں پہاڑوں کے دامن میں بستے ہوئے قبائل،میدانوں میں آبادریاستیں اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے اس طرح الجھ جاتے ہیں کہ کبھی دوستی کی خوشبوفضامیں پھیلتی ہے اورکبھی بارودکی بوفضاکومکدرکردیتی ہے۔کبھی یہ خطہ سلطنتوں کے عروج وزوال کامنظرنامہ بنا،کبھی یہاں تہذیبوں کے سنگم نے نئے فکری افق پیدا کیے،لیکن تاریخ کے اس طویل سفرمیں ایک حقیقت ہمیشہ نمایاں رہی کہ جب بھی سرحدوں کے پارسے آتشِ نزاع بھڑکی،اس کے شعلے نہ صرف میدانِ جنگ کوبلکہ معاشرتی اورسیاسی فضاکوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
افغانستان اورپاکستان کے تعلقات بھی اسی تاریخ کے تسلسل کاحصہ ہیں۔ایک طرف مشترک مذہبی وثقافتی رشتہ ہے،دوسری طرف سرحدی سیاست کی تلخ حقیقتیں۔گزشتہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے بادل وقفے وقفے سے منڈلاتے رہے، مگر حالیہ دنوں میں مبینہ ڈرون حملوں کے واقعات نے اس کشیدگی کوایک نئے مرحلے میں داخل کردیا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی جدید جنگ کاوہ خاموش ہتھیارہے جو بظاہر ایک چھوٹے پرندے کی ماننددکھائی دیتاہے مگراس کے پرواز کرتے ہی عالمی سیاست کے ایوانوں میں تشویش کی لہریں دوڑجاتی ہیں۔حالیہ دنوں میں پاکستان کے مختلف شہروں راولپنڈی،کوہاٹ اور کوئٹہمیں مبینہ طورپرافغان طالبان کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں نے ایک بارپھر اس حقیقت کواجاگرکردیاہے کہ جدید دنیامیں جنگ کاچہرہ بدل چکاہے۔اب توپ وتفنگ کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے پرندیڈرونبھی میدانِ کارزارمیں اترآئے ہیں۔
یہ حملے بظاہرمحدودنوعیت کے تھے،مگران کے سیاسی اورسفارتی مضمرات نہایت گہرے ہیں۔ ایسے ڈرونزکی دراندازی نے صرف عسکری حلقوں ہی نہیں بلکہ سیاسی اورسماجی سطح پربھی ایک نئی بحث کوجنم دیاہے۔یہ رپورٹ انہی واقعات کے پس منظر،اسباب اورممکنہ نتائج کاتحقیقی وتاریخی جائزہ پیش کرتی ہے۔
ریاستی سیاست میں بعض اصول ایسے ہوتے ہیں جنہیں قومی وقارکی علامت سمجھاجاتاہے۔ان اصولوں کوعموماً سرخ لکیرکہاجاتا ہے یعنی وہ حدجس کے بعدبرداشت کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں مبینہ ڈرون حملوں کی کوشش کواسی تناظرمیں دیکھاجارہاہے۔پاکستان کے لئے یہ واقعہ محض چند ڈرونز کی دراندازی نہیں بلکہ ایک علامتی پیغام ہے۔ریاستیں اپنی سلامتی کے حوالے سے کچھ بنیادی اصول وضع کرتی ہیں جنہیں عرفِ عام میں ریڈ لائن کہاجاتاہے۔جب کوئی بیرونی قوت ان خطوط کوعبورکرتی ہے تویہ محض عسکری چیلنج نہیں بلکہ ریاستی وقارکے لئے بھی امتحان بن جاتاہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں