Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

قرآنی معجزے، حفاظت حقیقی واقعات کی روشنی میں

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ شخص چلاگیا، پھر ایک سال کے بعد یہی شخص مسلمان ہوکر آیا اور مجلس مذاکرہ میں فقہ اسلامی کے موضوع پر بہترین تقریر اور عمدہ تحقیقات پیش کیں،مجلس ختم ہونے کےبعد مامون نےاس کو بلاکر کہا کہ تم وہی شخص ہو جو سال گزشتہ آئے تھے؟ جواب دیا، ہاں وہی ہوں ، مامون نے پوچھا اس وقت تو تم نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا تھا پھر اب مسلمان ہونے کا سبب کیا ہوا؟ اس نے کہا میں یہاں سے لوٹا تو میں نے موجودہ مذاہب کی تحقیق کرنے کا ارادہ کیا، میں ایک خطاط اور خوشنویس آدمی ہوں ، کتابیں لکھ کر فروخت کرتا ہوں،میں نے امتحان کے لیے تورات کے تین نسخے کتابت کیے جن میں بہت جگہ اپنی طرف سے کمی بیشی کردی اور یہ نسخے لے کر میں کنیسہ میں پہنچا، یہودیوں نے بڑی رغبت سے اس کو خرید لیا، پھر اسی طرح انجیل کے تین نسخے کمی بیشی کے ساتھ کتابت کرکے نصاریٰ کے عبادت خانے میں لے گیا وہاں بھی عیسائیوں نے بڑی قدر ومنزلت کے ساتھ یہ نسخے مجھ سے خرید لیے، پھر یہی کام میں نے قرآن کے ساتھ کیا اس کے بھی تین نسخے عمدہ کتابت کیے جن میں اپنی طرف سے کمی بیشی تھی ان کو لے کر جب میں فروخت کرنے کےلیے نکلا تو جس کے پاس لے گیا، اس نے دیکھا کہ صحیح بھی ہے یا نہیں ؟ جب کمی بیشی نظر آئی تو اس نے مجھے واپس کردیا، اس واقعہ سے میں نے یہ سبق لیا کہ یہ کتاب محفوظ ہے؛اس لیےمیں مسلمان ہوگیا۔ (معارف القرآن مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ ص۵/۲۸۲ سورۃ الحجر:۹، از قرطبی)فصاحت وبلاغت،علامہ طنطاویؒ نے اپنی تفسیر’’الجواہر فی تفسیر القرآن‘‘ میں اپنے دوست کا ایک واقعہ نقل کیا ہے ان کے دوست نے فرمایا کہ میں جرمنی میں تھا، وہاں کےچند عربی علوم سے دلچسپی رکھنے والے فضلاء کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ان میں سے ایک نے پوچھا کیا تم بھی عام مسلمانوں کی طرح قرآن کے بارے میں یہ خیال رکھتے ہو کہ قرآن عربیت وفصاحت وبلاغت کےلحاظ سے معجزہ ہے؟ میں نے کہا ہاں میں ایمان رکھتا ہوں اس میں تعجب کی کیابات ہے؟ یہ تو ایک علمی مسئلہ ہے اس کا امتحان ابھی ہوسکتا ہے میں ایک بات کہتاہوں آپ اس کو فصیح عربی میں ادا کریں ، وہ یہ ہے: جہنم بےحد وسیع ہے، ان سب نے مل کر ۱۵-۲۰ جملے بنائے مثلاً میں نے کہا اور محنت کیجیے، انھوں نے کہا ہم اپنی محنت اور فکر ختم کرچکے، میں نے کہا قرآن نے جو بیان کیا ہے اس کو سنیے: یوم نقول لجہنم ہل امتلئت وتقول ہل من مزید (ق:۳۰) چونکہ وہ عربی داں تھے، اچھل پڑے اور اپنی رانوں پر ہاتھ دے مارے اور اقرار کیا کہ ہم عاجز رہے۔ (تفسیر الجواہر للطنطاوی ۲۳/۱۰۷) قرآن کی جامعیت، ہارون رشید کے پاس ایک نصرانی طبیب علاج کے لیے رہتا، تھا اس نے علی بن حسین بن واقد سے کہا کہ تمہاری کتاب قرآن میں علم طب کا کوئی حصہ نہیں ہے؛ حالانکہ دنیا میں دوہی علم ہیں ایک علم ادیان دوسرا علم ابدان جس کا نام طب ہے، علی بن حسین نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سارے فن طب اور حکمت کو آدھی آیت میں جمع کردیا ہے، وہ ہے کُلوا وشرَبوا ولا تُسرِفُوا (اعراف:۳۱) پھر اس نے پوچھا کیا تمہارے رسول کے کلام میں بھی طب کے متعلق کچھ ہے، انھوں نےفرمایا: رسول اللہ ﷺ نے چند کلمات میں سارے فن طب کو جمع کردیا، فرمایا:
معدہ بیماریوں کا گھر ہے، مضر چیزوں سے پرہیز ہر دوا کی اصل ہے، ہر بدن کو وہ چیز دو جس کا وہ عادی ہے، نصرانی طبیب نے سن کر کہا کہ تمہاری کتاب اور تمہارے رسول نے جالینوس کے لیے کوئی طب نہیں چھوڑی۔ (معارف القرآن ۳/۵۴۷، کشاف ۲/۹۷، اعراف ۳۱) ملیشیا میں منعقد ہونے والی کتابوں کی نمائش میں پانچ سو (۵۰۰) سالہ قدیم ایک میٹر لمبا نسخہ قرآنی متعارف کرایاگیا،نیز ایک نصف میٹر لمبا کھجور کے پتوں پر قلم بندقرآنی نسخہ بھی دکھایا گیا، یہ قرآن کی عظمت اور مسلمانوں کی اس کتاب کے ساتھ وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔ (الفاروق کراچی، ص۲۹، رجب ۱۴۲۸ھ)حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ فرماتے ہیں کہ ہینڈن ایک ندی ہے قریب مدرسہ شاہ عبدالرحیم دہلوی کے، ایک دفعہ اُس ندی کی ایک ڈہانگ گری، اس میں سے ایک لاش جوں کی توں نکلی جس کا کفن میلا تھا اور وہاں سے بہہ کر عین دھار میں ٹھہرگئی، کچھ دیر بعد دوسری ڈھانگ گری اوراس میں سے بھی ایک لاش نکلی جس کا کفن بالکل صاف تھا،کہیں داغ دھبہ نہ تھا، وہ پہلی لاش سے مل کر دھاری دار چل دی جیسے کوئی کسی کا منتظر ہو اور دونوں مل کر روانہ ہوجائیں ، لوگوں نے ان لاشوں کی تحقیقات کرنی شروع کردی، جستجوکے بعد ایک بڑھیا نے بتایا کہ یہ دونوں قرآن کے حافظ تھے، اس کے بعد حضرت امام ربانی نے ارشاد فرمایا: اب قیاس جاتا ہےکہ جس کا کفن صاف تھا وہ باوضو تلاوت کرتا ہوگا اور دوسرا بےوضو۔ الخ (تذکرۃ الرشید ۲/۳۱۵ طبع جدید دیوبند)ایسے بےشمار واقعات تاریخ میں ملیں گے، ان واقعات سے قرآن کی حقانیت نیز دین متین کی حقانیت اوراس کی حفاظت روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے،اسی طرح کے واقعات محدثین عظام، فقہاء کرام اور دیگر علماءِ اسلام کے بھی ملتے ہیں ، حق فرمایا حق تعالیٰ نے: اِنَّا نَحنُ نَزَّلْنَا الذِّکرَ وانا لہ لحافظون۔

یہ بھی پڑھیں