Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

سرخ لکیرکے پار

(گزشتہ سے پیوستہ)
اس نے مزیدیہ دعویٰ بھی کیاتھاکہ پاکستان کے لئے چار ڈرون ہی کافی ہوں گےلیکن پاکستان نے نہ صرف69کے قریب یہ ڈرون تباہ کئے بلکہ کئی ڈرون صحیح سلامت زمین پر اتارکراسرائیل کے اس متکبردعوے کو خاک میں ملا دیا تھااور بعدازاں جہاں سے یہ آپریٹ ہورہے تھے،اس مرکزکوبھی تباہ کردیاجس کےجواب میں رات کے اندھیرے میں ان آپریٹرزکے تابوت حیفہ اسرائیل پہنچائے گئے۔جونہی یہ تابوت حیفہ پہنچے تونیتن یاہو اورمودی کی مشترکہ چیخیں اورمددکی پکار ان کے سرپرستِ اعلیٰ اورباپ،قصرسفید کےفرعون امریکی صدرٹرمپ تک پہنچی تو ٹرمپ نے فوری طور پر شب وروزاپنی کوششوں سے سیزفائرکے لئے پاکستان کوآمادہ کیا اور خودٹرمپ دودرجن سے زائد مرتبہ پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں بھارتی رافیل طیاروں کی بربادی کانوحہ ساری دنیاکوسنا چکے ہیں۔
ایک غیرملکی عسکری ماہرکے مطابق ممکن ہے کہ طالبان نے ڈرون کے پرزے بیرون ملک سے حاصل کیے ہوں۔یہ بھی ممکن ہے کہ پرزے افغانستان میں اسمبل کیے گئے ہوں یا پاکستان میں خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے جوڑے گئے ہوں۔یہ امکان بھی ظاہر کیاجا رہا ہے کہ اسمگلنگ کے ذریعے ٹیکنالوجی منتقل کی گئی ہو۔کچھ اطلاعات کے مطابق طالبان کو ڈرون ٹیکنالوجی بہتر بنانے میں بیرونی ماہرین کی مددحاصل ہوسکتی ہے۔ اگرچہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے،لیکن جنوبی ایشیاکی سیاست میں انڈیا اورپاکستان کی رقابت ہمیشہ ایک اہم عنصر رہی ہے۔اگرچہ ان حملوں سے بڑے پیمانے پر تباہی نہیں ہوئی،مگریہ پاکستان کے لئے ایک نفسیاتی دھچکا تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی مرتبہ افغان طالبان نے پاکستان کے بڑے شہروں کونشانہ بنانے کی کوشش کی۔
ابھی حال ہی میں مودی کااسرائیل کے دورہ کے دوران افغان طالبان کی حمائت کااعلان بھی اس بات کاثبوت ہے کہ یہ ڈرون حملوں کی نئی لہرکاساراپلان وہی تیارہواہے لیکن انڈیا نے اپنی سرزمین سے ان ڈرون حملوں کی اس لئے جرأت نہیں کہ کہ وہ کھلی جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں عبرت ناک شکست اوررسوائی سے واقف ہے۔یہ صورتحال اس کہاوت کی یاددلاتی ہے کہ جب دوہمسائے لڑتے ہیں توتیسرااکثر خاموشی سے فائدہ اٹھاتاہے۔انڈیااوراسرائیل کے خفیہ ہاتھ اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہے، یقینا پاکستان کے عسکری حلقے اس کاجواب مناسب وقت پرضروردیں گے کہ یہ پاکستان کی روایت ہے۔
کچھ اطلاعات کے مطابق طالبان ایک ایسے میزائل پروگرام پربھی کام کررہے ہیں جس کی رینج 200 سے 300کلومیٹرتک ہوسکتی ہے۔اگریہ خبر درست ثابت ہوتی ہے تویہ خطے کے سکیورٹی توازن کو متاثر کرسکتی ہے اورخطے میں طاقت کاتوازن مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ افغان وزیردفاع ملا یعقوب نے کہاتھاکہ اگرکابل پرحملہ ہواتواسلام آبادکوبھی نشانہ بنایاجا سکتاہے۔یہ بیان دراصل ایک سیاسی پیغام تھاجس نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیاہے۔سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ڈرون اسلام آباد تک کیسے پہنچے؟ افغان سرحد اسلام آباد سے کافی فاصلے پر ہے۔ اس کے ڈرونزکاوہاں تک پہنچ جانااس بات کی طرف اشارہ کرتاہے کہ یاتوانہیں پاکستان کے اندرسے لانچ کیاگیایاانہیں سرحدپار سے کنٹرول کیا گیا اور ان کی پروازکاراستہ خفیہ رکھاگیا۔یہ معاملہ پاکستانی سکیورٹی اداروں کے لئے ایک اہم چیلنج ہے۔
ماہرین کاخیال ہے کہ طالبان روایتی جنگ میں پاکستان کامقابلہ نہیں کرسکتے۔ان کی اصل طاقت، گوریلاجنگ،دہشتگردگروپس کی حمایت اورخود کش حملہ آوراورغیرروایتی حربوں میں ہے۔لہذابڑے پیمانے کی فوجی کارروائی ان کے لئے ممکن نہیں۔کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان کے پاس سینکڑوں ڈرونزہوسکتے ہیں۔اگریہ درست ہے تومستقبل میں مزید حملوں کاخطرہ موجودہے۔ یہ امکان پاکستان کے لئے تشویش کاباعث بن سکتاہے۔
ابتدامیں انڈیااس تنازع کوزیادہ اہمیت نہیں دے رہاتھا۔لیکن حالیہ واقعات کے بعدمضبوط شواہد موجودہیں کہ انڈیاافغان طالبان کے ساتھ روابط بڑھاکر پاکستان میں پراکسی وارکو اپنے تزویراتی مفادات کیلئے استعمال کررہاہے تاکہ پاکستان پر دبائو بڑھایا جاسکے۔ انڈین وزارت خارجہ نے افغانستان میں پاکستانی حملوں کوجارحیت قراردیتے ہوئے اس پرتنقید کی جبکہ پاکستان نے اس بیان کو غیرضروری اورمنافقانہ قراردیتے ہوئے سخت ردعمل دیاہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تنازع جلد ختم ہوتا نظر نہیں آتاکیونکہ پاکستان ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی چاہتاہے،طالبان اس مطالبے کو قبول کرنے پرتیار نہیں، کیونکہ دونوں ممالک اپنے موقف پرقائم دکھائی دیتے ہیں اس لئے کسی تیسرے فریق کی ثالثی ضروری ہو سکتی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق چین نے اس تنازع کوکم کرنے کے لئے سفارتی کوششیں شروع کی ہیں۔ چین اس تنازع میں ثالثی کی کوشش کررہاہے۔چین خطے میں استحکام چاہتاہے کیونکہ پاکستان اورافغانستان دونوں اس کے اقتصادی منصوبوں کے لئے اہم ہیں۔
پاکستان اورافغانستان کے تعلقات تاریخ کے نشیب وفرازسے گزرتے ہوئے آج ایک نازک موڑ پر آکھڑے ہوئے ہیں۔ڈرون حملے بظاہر ایک محدود واقعہ تھے،مگران کے مضمرات وسیع ہیں۔ڈرون حملوں کے یہ واقعات بظاہرچھوٹے ہیں،مگران کے اثرات دور رس ہوسکتے ہیں۔یہ واقعہ اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ جدیددنیامیں جنگ صرف توپوں اوربندوقوں سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، بیانیے اورسفارت کاری کے میدان میں بھی لڑی جاتی ہے۔اگردونوں ممالک نے دانش مندی سے کام نہ لیاتویہ تنازع ایک طویل کشمکش میں تبدیل ہوکرایک ایسی آگ بن سکتاہے جس کی لپٹیں پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے لیں۔لیکن اگرتدبراورحکمت کی راہ اختیارکی جائے توممکن ہے کہ یہی بحران مستقبل میں امن کی ایک نئی راہ بھی ہموارکردے۔ کیونکہ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں ہمیشہ تلوارسے نہیں بلکہ عقل اورتدبیرسے ختم ہوتی ہیں اورتاریخ ہمیں یہ سبق بھی سکھاتی ہے کہ قوموں کی بقاء صرف طاقت میں نہیں بلکہ حکمت اوراعتدال میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
تاریخ کے اوراق ہمیں بارباریہ سبق دیتے ہیں کہ قوموں کے درمیان تنازعات کبھی اچانک پیدا نہیں ہوتے۔ان کے پیچھے برسوں کی منصوبہ بندی،طاقت کی کشمکش اورعالمی مفادات کی پیچیدہ گتھیاں کارفرماہوتی ہیں۔آج پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کوبھی اسی وسیع تناظرمیں دیکھنے کی ضرورت ہے۔افغانستان کی سرزمین سے ہونے والے ڈرون حملوں کی کوششیں بظاہرایک محدودعسکری واقعہ محسوس ہوسکتی ہیں،لیکن اگران کے پس منظرمیں جھانکاجائے تو یہ ایک بڑی سیاسی بساط کی محض ایک چال دکھائی دیتی ہیں۔وہ بساط جس پرعالمی طاقتیں اپنے مفادات کے مہرے چلاتی ہیں اورخطے کی ریاستیں کبھی دانستہ اورکبھی نادانستہ اس کھیل کاحصہ بن جاتی ہیں۔
(جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں