عید محض ایک تہوار نہیں، بلکہ دلوں کو جوڑنے، محبتوں کو تازہ کرنے اور اخوت کے رشتوں کو مضبوط بنانے کا ایک حسین موقع ہوتی ہے۔ ہر سال عید آتی ہے، خوشیاں لاتی ہے اور گزر جاتی ہے، مگر بعض عیدیں اپنی یادوں اور اثرات کے باعث زندگی بھر کے لیے دل میں نقش ہو جاتی ہیں۔ اس عید الفطر کا دن میرے لیے کچھ انوکھا، منفرد اور سبق آموز ثابت ہوا۔ ہفتہ عید کی صبح کا منظر ہی نرالا تھا۔ بادلوں کی رم جھم، فضا میں گھلی ہوئی خنکی، اور زمین پر پانی کی چمک نے عید کے دن کو ایک خاص طراوت عطا کر دی تھی۔ تاہم بارش کی وجہ سے کھلے میدان میں نمازِ عید کی ادائیگی ممکن نہ رہی، چنانچہ امام صاحب نے جامعہ مسجد آمنہ پیراڈائز ہومز کو اس سعادت کے لیے منتخب کیا ۔ بارش کے باعث ہمیں بھی یہاں عید پڑھنے کی سعادت مل گئی ، نمازِ عید ادا ہوئی، دعا کے لیے ہاتھ اٹھے، اور ایک روحانی کیفیت نے ماحول کو اپنے حصار میں لے لیا۔ خطبے کے بعد جب لوگ ایک دوسرے سے گلے ملنے لگے تو ہر طرف عید کی خوشیوں کی مہک پھیل گئی۔ چہروں پر مسکراہٹیں تھیں اور دلوں میں خلوص کی گرمی۔مگر اصل منظر اس کے بعد شروع ہوا۔نماز کے فوراً بعد نمازی حضرات بڑی محبت اور عقیدت کے ساتھ امام صاحب سے ملنے کے لیے ممبرو محراب کی جانب بڑھے۔ ہر کوئی مصافحہ کرنا چاہتا تھا، ہر ایک کے دل میں احترام اور اپنائیت کا جذبہ تھا۔ یہ سلسلہ خاصی دیر تک جاری رہا، یہاں تک کہ امام صاحب نے اشارہ فرمایا کہ اندر تشریف لے چلیں۔ لوگ جوق در جوق ان کے پیچھے روانہ ہو گئے۔مسجد کے سامنے واقع کوریڈور سے گزرتے ہوئے جب اندرونی ہال میں داخل ہوئے تو ایک دل فریب منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔ ترتیب سے سجی میزیں، ان پر رکھے انواع و اقسام کے کھانے ، بسکٹ، کیک، چاٹ، میکرونی، شربت اور مٹھائیاں ، یہ سب کچھ کسی رسمی ضیافت کا نہیں بلکہ خلوص بھری میزبانی کا پتہ دے رہے تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے عید کی اصل روح اسی جگہ جلوہ گر ہو گئی ہو۔لوگ آتے جا رہے تھے اور امام صاحب ہر آنے والے کو خود بٹھا رہے تھے۔ نہ کوئی امیر و غریب کا فرق، نہ کوئی بڑے چھوٹے کی تخصیص ، ہر ایک کو عزت، محبت اور اپنائیت کے ساتھ جگہ دی جا رہی تھی۔ پھر وہ خود اپنے ہاتھوں سے کھانے پیش کرتے، شربت ڈالتے اور ہر شخص کی دلجوئی کرتے۔ یہ منظر محض خدمت نہیں تھا، بلکہ عاجزی، اخلاص اور حقیقی قیادت کی عملی تصویر تھا۔یہ خاکسار کچھ دیر تک ایک طرف کھڑا یہ سب دیکھتا رہا۔ دل میں عجیب سی کیفیت تھی،خوشی بھی، حیرت بھی، اور ایک گہرا تأثر بھی۔ ذہن میں بار بار یہی خیال آ رہا تھا کہ آج کے دور میں جب منصب اکثر فاصلے پیدا کر دیتا ہے، وہاں ایک بڑا دینی رہنما کس طرح خود کو لوگوں کے قریب رکھے ہوئے ہے۔اسی اثنا میں امام صاحب کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ انہوں نے مجھے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں ایک میز پر جا بیٹھا اور اس محبت بھری محفل کا حصہ بن گیا۔ کھانے کا ذائقہ اپنی جگہ، مگر اصل لطف اس ماحول میں تھا جہاں ہر شخص خود کو اہم اور محترم محسوس کر رہا تھا۔امام صاحب مسلسل ایک میز سے دوسری میز کی طرف جا رہے تھے، ہر فرد سے مل رہے تھے، حال احوال دریافت کر رہے تھے۔۔۔ اور اپنی موجودگی سے محفل کو زندہ رکھے ہوئے تھے۔ آخر میں انہوں نے بھی اپنی پلیٹ میں تھوڑا سا کھانا لیا اور ایک طرف بیٹھ کر کھانے لگے۔ یہ منظر دل کو چھو لینے والا تھا ، ایک ایسا رہنما جو سب کو کھلا کر آخر میں خود کھاتا ہے۔یہ پہلو میرے لیے نیا نہیں تھا کہ وہ ایک بڑے دینی ادارے کے سربراہ ہیں، جنہوں نے ادارہ معارف القرآن کے ذریعے تعلیمی میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ملک بھر میں مکاتبِ قرآنیہ کا قیام، قرآن کریم کی تعلیم و اشاعت، اور عالمی سطح پر سعودی عرب، مصر اور فلسطین جیسے ممالک میں بچوں کی نمایاں کامیابیاں ، یہ سب ان کی محنت کا ثمر ہیں۔ ان کی دینی و رفاعی خدمات بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ مزید برآں، جامعہ مسجد آمنہ میں ان کے زیرِ نگرانی اعتکاف کو بھی کراچی میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔جس پر پھر کبھی روشنی ڈالیں گے ۔لیکن اس عید پر ان کی شخصیت کا جو پہلو سامنے آیا، وہ سب سے زیادہ متاثر کن تھا۔ یہ صرف ایک امام یا منتظم کا کردار نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے رہنما کا نمونہ تھا جو اپنی قوم کے ساتھ جڑا ہوا ہے، جو ان کے درمیان رہ کر ان کی خوشیوں میں شریک ہوتا ہے، اور خدمت کو اپنی پہچان بناتا ہے۔یہ منظر ہمیں ایک اہم سبق دیتا ہے: اصل عظمت عہدے یا لقب میں نہیں، بلکہ کردار میں ہوتی ہے۔ لوگوں کے دل جیتنے کے لیے لمبی تقاریر نہیں، بلکہ چھوٹے مگر مخلصانہ اعمال کافی ہوتے ہیں۔ عید کی حقیقی خوشی تب ہی مکمل ہوتی ہے جب اسے دوسروں کے ساتھ بانٹا جائے، جب ہر شخص خود کو اس خوشی کا حصہ محسوس کرے۔آج کے دور میں جب معاشرتی فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں، ایسے مناظر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہماری اصل طاقت محبت، اخوت اور خدمت میں مضمر ہے۔ اگر ہمارے ادارے، مساجد اور قائدین اس طرزِ عمل کو اپنائیں تو معاشرہ یقیناً ایک مثالی شکل اختیار کر سکتا ہے۔میرے لیے یہ عید محض ایک دن نہیں رہی، بلکہ ایک زندہ سبق بن گئی،ایسا سبق جو شاید زندگی بھر ساتھ رہے گا۔ واقعی، یوں بھی عید ہوتی ہے: جہاں خوشیاں صرف منائی نہیں جاتیں بلکہ بانٹی جاتی ہیں، جہاں محبت کا دعویٰ نہیں بلکہ اس کا عملی اظہار ہوتا ہے، اور جہاں ایک امام محض پیشوا نہیں بلکہ اپنے مقتدیوں کا سچا خادم بن کر سامنے آتا ہے۔بلاشبہ، مولانا عبد الوحید کشمیری مہتمم ادارہ معارف القرآن نہ صرف خادمِ قرآن ہیں۔۔۔ بلکہ انسانیت سے پیار کرنے والے انسانوں کے حقیقی خادم اور مخلص دینی رہنما کہلانے کے بھی مستحق ہیں۔ایک ایسا مخلص راہنما کہ جو حب جاہ اور شہرت پسندی سے کوسوں میل دور ہے ۔