Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

سرخ لکیرکے پار

(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستان نے حالیہ برسوں میں خطے میں جو کردار اداکیاہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ایران کوایک ممکنہ خانہ جنگی سے بچانا، دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کرنا،اورپراکسی جنگ کے منصوبوں کوناکام بنانایہ سب ایسے اقدامات تھے جنہوں نے عالمی طاقتوں کی بعض خفیہ حکمت عملیوں کوشدیددھچکہ پہنچایا۔یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان کوایک نئے دباؤکا سامناہے۔
افغانستان میں موجودمختلف شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں،تحریک طالبان پاکستان کی دوبارہ منظم ہوتی ہوئی کارروائیاں،اور جدیدٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی دراندازیاں اس بات کی علامت ہیں کہ جنگ کاچہرہ بدل چکاہے۔اب لڑائیاں صرف سرحدوں پرنہیں ہوتیں بلکہ فضائوں میں اڑتے ڈرونز،ڈیجیٹل نیٹ ورکس اوراطلاعاتی بیانیوں کے میدان میں بھی لڑی جاتی ہیں۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ جنوبی ایشیاء کے اس خطے میں دوایٹمی طاقتیں موجود ہیں۔ اگرکشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی تواس کادائرہ صرف سرحدی جھڑپوں تک محدود نہیں رہے گابلکہ عالمی سیاست کے لئے ایک خطرناک بحران بن سکتاہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض تجزیہ کاراس صورتحال کوایک ممکنہ ایٹمی تصادم کی طرف بڑھتے ہوئے خطرناک رجحان کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔تاہم تاریخ کاایک دوسراپہلوبھی ہے۔تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب بحران اپنی انتہاکوپہنچتاہے تواکثراسی مقام سے امن کی نئی راہیں بھی جنم لیتی ہیں۔ جنگ کی دھندچھٹنے کیبعدہی قوموں کویہ احساس ہوتاہے کہ طاقت کے مظاہرے سے زیادہ اہم چیزدانش اور تدبر ہے۔
پاکستان اورافغانستان دونوں ایسے ممالک ہیں جنہیں جغرافیہ نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر رکھاہے۔ان کے درمیان دائمی دشمنی نہ صرف دونوں قوموں کے لئے نقصان دہ ہوگی بلکہ پورے خطے کے امن کوبھی خطرے میں ڈال دے گی۔اس لیے ضروری ہے کہ جذبات کی آگ کوسفارت کاری کی ٹھنڈی ہوا سے بجھایاجائے اوراس کشیدگی کوایک ایسے تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جائے جوپورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے سکتاہے۔کیونکہ اگر تاریخ کافیصلہ صرف توپوں اور میزائلوں نے کیاہوتاتودنیا آج بھی جنگوں کے اندھیروں میں ڈوبی ہوتی۔مگرتاریخ کا اصل فیصلہ ہمیشہ عقل، تدبراورحکمت نے کیاہے۔اوریہی وہ سبق ہے جواس بحران کی گردمیں بھی پوشیدہ ہیکہ طاقت کی اصل آزمائش میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اس لمحے میں ہوتی ہے جب ایک قوم جنگ کے دہانے پرکھڑی ہوکربھی عقل ودانش کا راستہ اختیارکرتی ہے۔
تاریخ کے افق پرجب کبھی قوموں کی تقدیرکے فیصلے لکھے جاتے ہیں تووہ محض تلواروں کی جھنکاریاتوپوں کی گرج سے نہیں لکھے جاتے۔وہ دراصل اس لمحے میں رقم ہوتے ہیں جب ایک قوم آزمائش کے طوفان کے سامنے کھڑی ہوکراپنے عزم کی شمع کوبجھنے نہیں دیتی۔یہ بھی درست ہے کہ تاریخ کے افق پربعض لمحے ایسے بھی ابھرتے ہیں جومحض واقعات نہیں ہوتے بلکہ زمانے کے ضمیرپرثبت ہونے والی صدائیں بن جاتے ہیں۔آج جنوبی ایشیا کے افق پرجوبادل منڈلارہے ہیں وہ صرف بارودکے بادل نہیں بلکہ اس عالمی سیاست کی دھندہیں جس میں طاقت کے ایوانوں نے انسانیت کے مستقبل کوشطرنج کے مہرے بنارکھاہے۔
لیکن تاریخ کی عدالت میں طاقت کا غرور ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ فرعونوں کے محل بھی مٹی میں مل گئے اورقیصر وکسری کی سلطنتیں بھی وقت کی گردمیں گم ہو گئیں۔ باقی رہتی ہے توصرف وہ قوم جواپنے ایمان، اتحاد اور عزم کی قوت سے آزمائش کے اندھیروں میں بھی امید کا چراغ روشن رکھتی ہے۔
آج جنوبی ایشیاء کی سرزمین ایک ایسے ہی موڑپرکھڑی ہے جہاں وقت کاہرلمحہ آنے والے کل کے فیصلے کوجنم دے رہاہے۔ افغانستان کی پہاڑیوں سیاٹھنے والی یہ نئی آندھی،پاکستان کے شہروں کی فضاں میں منڈلاتے یہ ڈرون،اورعالمی سیاست کے ایوانوں میں بچھائی گئی یہ خفیہ بساطیہ سب محض حادثات کاسلسلہ نہیں بلکہ ایک ایسے کھیل کے اشارے ہیں جس میں طاقت کے سوداگراپنے مفادات کے مہرے آگے بڑھارہے ہیں۔لیکن تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب قومیں آزمائش کے کڑے مرحلوں سے گزرتی ہیں توان کے کردار کااصل جوہراسی وقت نمایاں ہوتاہے۔
پاکستان نے گزشتہ برسوں میں جس استقامت اوربصیرت کے ساتھ خطے کے بحرانوں کا سامنا کیاہے وہ اس حقیقت کاثبوت ہے کہ یہ قوم صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں بلکہ حکمت وتدبرکی آزمائش میں بھی سرخروہوسکتی ہے۔پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اس قوم نے ہردورمیں اپنے وجودکوچیلنج کرنے والی قوتوں کاسامناکیاہے۔کبھی اسے دہشت گردی کے عفریت کے حوالے کرنے کی کوشش کی گئی،کبھی اسے اقتصادی دباؤکے طوق میں جکڑنے کی تدبیریں کی گئیں،اورکبھی اسے عالمی تنہائی کے اندھیروں میں دھکیلنے کے منصوبے بنائے گئے۔مگرہرباراس سرزمین کے لوگوں نے یہ ثابت کیاکہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اپنے اجتماعی شعوراورعزم سے زندہ رہتی ہیں۔
ایران کوایک ممکنہ خانہ جنگی سے بچانا،دہشتگرد نیٹ ورکس کے پیچیدہ جال کوتوڑنا،اورخطے میں ایک بڑی سازش کوناکام بنانایہ سب ایسے اقدامات تھے جنہوں نے عالمی بساط کے بعض کھلاڑیوں کوبے چین کردیا۔یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کوایک نئی آزمائش کے دہانے پر لاکھڑاکیاگیاہے۔پاکستان اورافغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کواگرصرف سرحدی جھڑپوں یاڈرون حملوں کے محدوددائرے میں دیکھا جائے تویہ حقیقت کی توہین ہوگی۔یہ دراصل اس عالمی بساط کی ایک اورچال ہے جس کے خفیہ کھلاڑی خطے کی تقدیرکو اپنی خواہشات کے مطابق موڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔کبھی دہشت گردی کے نام پر،کبھی پراکسی جنگ کے پردے میں،اورکبھی اطلاعاتی یلغارکے ہتھیار کے ساتھافغانستان کی سرزمین سے اٹھنے والی یہ نئی آندھی بظاہرچند ڈرونزکی پروازمعلوم ہوتی ہے، مگراس کے پیچھے جوسیاسی طوفان چھپاہواہے وہ پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے سکتاہے۔اگر اس آگ کوبروقت نہ بجھایاگیاتو یہ محض سرحدی کشیدگی نہیں رہے گی بلکہ ایک ایسی جنگ کاپیش خیمہ بن سکتی ہے جس کے سائے ایٹمی تصادم تک پھیل سکتے ہیں۔
لیکن تاریخ کی ایک اورصداقت بھی ہے اوروہ یہ کہ ظلم، فریب اورسازش کی قوتیں چاہے کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہوں،آخرکار وہ قومیں ہی سرخروہوتی ہیں جو اپنے عزم،اتحاداور ایمان کی قوت سے آزمائش کے طوفانوں کامقابلہ کرتی ہیں۔پاکستان کی سرزمین نے اس سے پہلے بھی کئی آزمائشیں دیکھی ہیں۔کبھی اسے دہشتگردی کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کی گئی،کبھی اسے اقتصادی محاصروں کے ذریعے کمزورکرنے کاخواب دیکھا گیا اور کبھی اسے عالمی تنہائی میں دھکیلنے کی تدبیریں کی گئیں۔ مگر ہربارتاریخ نے یہ ثابت کیاکہ اس قوم کے حوصلے کو شکست دیناآسان نہیں۔
آج بھی اگرعالمی بساط کے کھلاڑی یہ سمجھتے ہیں کہ سازشوں اورپراکسی جنگوں کے ذریعے پاکستان کوگھٹنے ٹیکنے پرمجبور کیاجاسکتاہے توشاید وہ تاریخ کے اس سبق کوبھول رہے ہیں کہ قوموں کی طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں بلکہ ان کے اجتماعی عزم میں ہوتی ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جب خطے کی قیادت کویہ فیصلہ کرناہوگاکہ آیاوہ نفرت اورجنگ کے راستے پرآگے
بڑھنا چاہتے ہیں یادانش اورسفارت کی راہ اختیارکرکے آنے والی نسلوں کوایک محفوظ مستقبل دیناچاہتے ہیں۔کیونکہ اگرجنگ کادروازہ کھل گیاتواس کی آگ صرف سرحدوں تک محدودنہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے لے گی اور اگر تدبر کا چراغ جلایاگیاتویہی بحران شایداس خطے کیلئیامن کی ایک نئی صبح کاپیش خیمہ بھی بن سکتاہے۔تاریخ کی عدالت میں قوموں کافیصلہ صرف ان کی طاقت سے نہیں بلکہ ان کی بصیرت سے بھی ہوتاہے۔اورآنے والے دن یہ طے کریں گے کہ جنوبی ایشیاکی اس شطرنج میں کون سافریق صرف ایک مہرہ ثابت ہوگااورکون اپنی حکمت سے تاریخ کی بساط پر ایک نئی داستان رقم کرے گا۔
وقت کی عدالت خاموش نہیں رہتی۔وہ ہرقوم کے فیصلے کواپنے اوراق میں محفوظ کرلیتی ہے۔آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ جنوبی ایشیا کی اس بساط پرکون محض ایک مہرہ ثابت ہوگااورکون اپنی حکمت وبصیرت سے تاریخ کے افق پرایک نئی داستان رقم کرے گا اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب قوموں کویہ یادرکھنا چاہیے کہ جنگیں میدان میں جیتنے سے پہلے دلوں میں جیتی جاتی ہیں، اور وہ قوم جس کے دل میں یقین کی آگ روشن ہو اسے شکست دینا تاریخ کے کسی لشکر کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں