Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

آسیہ اندرابی مودی کنگرو کورٹ اور سرکاری جہاد ؟

اپنے گھروں سے 800 کلومیٹر دور مسلسل آٹھ سالوں سے دہلی کی تہاڑ جیل میں قید کشمیری خواتین کی تنظیم دختران ملت کی سربراہ 65 سالہ سیدہ آسیہ اندرابی کو عمر قید اور ان کی دو ساتھی خواتین 59سالہ ناہیدہ اور اکتالیس سالہ صوفی فہمیدہ کو تیس،تیس سال سزائیں سنا کر بدمعاش نریندر مودی حکومت کی بھارتی کنگرو کورٹ نے ثابت کر دیا کہ بھارت خواتین پہ ظلم و ستم ڈھانے میں امریکہ سے بھی دو قدم آگے ہے،اب اسلام آباد اور مظفر آباد کا امتحان شروع ہو چکا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی عفت ماب خواتین پر ڈھائے جانے والے مظالم کب تک برداشت کرتے رہیں گے؟بد معاش نریندر مودی اور بھارتی کنگرو کورٹس کی ایسی کی تیسی ، آسیہ اندرابی جیسی مسلمان ماں کو قیدو بند کی سزائیں سنانے والے بدمعاش ایک اور معرکہ ’’بنیان مرصوص‘‘کے مستحق ہیں، کون کہتا ہے کہ کشمیر کا جہاد بند ہو چکا؟ اگر ایسا کچھ تاثر تھا بھی تو بھارت کی ’’مودی کنگرو کورٹ‘‘نے مظلوم کشمیری خواتین کو ظالمانہ سزائیں سنا کر نہ صرف یہ کہ اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی ،بلکہ مظفرآباد اور اسلام آباد کے حکمرانوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ ’’ہم تو کشمیری خواتین کو سزائیں سنا چکے اب تم نے جو کرنا ہے کر لو؟یہ خاکسار اس موقع پر ’’پرائیویٹ جہاد‘‘والوں سے نہیں بلکہ ’’سرکاری جہاد‘‘ بلخصوص مفتی اعظم کراچی مفتی عبد الرحیم سے مخاطب ہے،مودی کنگرو کورٹ کے اس ظالمانہ فیصلے کے بعد بھی اگر سرکار پر جہاد فرض نہیں ہوا تو پھر کب ہو گا؟ ہم خوارج سے بھی نبٹ لیں گے۔
ناصبیوں اور روافض کے خلاف بھی واللہ ہم پاک فوج کے شانہ ،بشانہ رہیں گے ،لیکن، لیکن مسلمان مائوں ،بہنوں بیٹیوں پر ’’دہلی‘‘کا ظلم و ستم اب برداشت کی ساری حدیں پار کر چکا،اقتدار کی راہ داریوں ،غلام گردشوں ،اور بالکونیوں میں عروج حاصل کر کے دیکھتی آنکھوں کو چکا چوند کر دینے والے’’پیارے مفتی صاحب‘‘ اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ پرائیویٹ جہاد پہ نہ جائیں، ایسے موقعوں پر کسی حرکت ،کسی حزب کسی لشکر یا جیئش کی طرف نہ دیکھیں تو پھر آگے بڑھئے کشمیری خواتین کے دفاع کے لئے سرکاری جہاد ہند کا اعلان کروائیے، واللہ،میرے اس مطالبے میں نہ مزاح ہے اور نہ طنز،اگر اسلام آ باد سرکار آسیہ اندرابی جیسی عفت مآب ماں بہنوں ،بیٹیوں کا دفاع نہ کر سکی تو یہ25کروڑ پاکستانیوں کے لئے سو ہان روح بنا رہے گا،گو کہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے آسیہ اندرابی ،فہمیدہ صوفی،اور محترمہ ناہیدہ کو دی جانے والی سزاں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی عدالت کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے منافی اور بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل پامالی کی عکاسی کرتا ہے،یہ فیصلہ کشمیری قیادت اور حق خود ارادیت کی اواز کو دبانے کی کوشش ہے،دفتر خارجہ کے مطابق ان سزائوں سے منصفانہ ٹرائل، عدالتی خود مختاری،عالمی انسانی حقوق کے تقاضوں پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں،آسیہ اندرابی کی سزا مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اظہار، شہری آزادیوں کے لئے سکڑتی ہوئی گنجائش کو ظاہر کرتی ہے، پاکستان نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے بھی اس معاملے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ،پاکستانی دفتر خارجہ کا یہ بیان اچھا ہے،لیکن کیا اس بیان سے آسیہ اندرابی ، فہمیدہ ، اور ناہیدہ کی سزائوں اور مشکلات میں کوئی کمی واقع ہو جائے گی ،؟اس لئے اس خاکسار کی مفتی اعظم کراچی استاد صاحب سے گزارش ہے کہ وہ سرکار سے غزوہ ہند کی بات کریں،اس سے قبل بھی متعدد بار یہ تجربات ہو چکے ہیں کہ بھارت صرف لاتوں کا بھوت ہے جو کبھی بھی باتوں سے نہیں مانے گا بھارت دنیا کا وہ واحد ملک ہے کہ جس نے وشوا ہندو پریشد اور آر ایس ایس جیسی دہشت گرد خونی تنظیموں کو سرکار کی چھتری فراہم کی،ہندو توا جیسی متشدد تحریکیں چلا کر کمزور مسلمانوں کو زور زبردستی سے ہندو بنانے کی کوشش کرنا یہ بدترین ظلم بھی بھارت کی سرزمین پر ہی ہو رہا ہے،مسلمانوں کی مسجدوں پر قبضہ کر کے انہیں مندروں میں تبدیل کرنا مودی ڈاکٹرائن کا حصہ ہے ۔
موجودہ حالات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیاء کا خطہ ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں جذبات، سیاست، انسانی حقوق اور سفارت کاری ایک دوسرے سے الجھتے نظر آتے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ محض ایک جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے بنیادی حقوق، شناخت اور مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس تنازع نے دہائیوں سے خطے میں بے یقینی، خوف اور بداعتمادی کو جنم دیا ہے۔ ایسے ماحول میں ہر خبر، ہر عدالتی فیصلہ اور ہر سیاسی بیان عوام کے جذبات پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ انسانی حقوق کی پاسداری ہر ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر کسی بھی خطے میں شہری آزادیوں، منصفانہ ٹرائل اور سیاسی اظہار کی گنجائش پر سوال اٹھتے ہیں تو یہ صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ عالمی ضمیر کے لئے چیلنج بن جاتا ہے۔ اسی لئے عالمی اداروں خصوصاً United Nations اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ ان اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر جانبدارانہ انداز میں حقائق کا جائزہ لیں اور انصاف و انسانی وقار کے اصولوں کو مقدم رکھیں۔پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ بھارت کو کشمیری مسلمانوں پر ظلم وستم سے روکا جائے، تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں مسائل کو حل نہیں کرتیں، بلکہ نئی پیچیدگیاں پیدا کرتی ہیں۔ پائیدار امن ہمیشہ بات چیت، اعتماد سازی اور سفارتی حکمت عملی سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ لیکن جب تک نریندر مودی متشددانہ مائنڈ سیٹ میں تبدیلی نہیں آتی اسوقت تک یہ ممکن نہیں،ھم بھی یہ چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں خوف اور کشیدگی کے ماحول میں نہیں، بلکہ امن، تعلیم اور ترقی کے ماحول میں پروان چڑھیں۔ہمارے ہاں تو نوجوان نسل کو نفرت، تشدد اور انتقام کے بیانیے کی بجائے برداشت، مکالمے اور ہم آہنگی کا درس دیا جاتا ہے، لیکن نریندر مودی کا بھارت اس وقت پاکستان اور ہندوستانی مسلمانوں کے لئے دکھتا ہو پھوڑا بن چکا ہے اس موقع پر دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ محض بیانات تک ہی محدود نہ رہا جاے،بلکہ انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنوانے کے لئے ایسے اقدامات کئے جائیں جو بھارت کی بدمعاشی کا توڑ کر سکیں، میڈیا، دانشوروں، مذہبی رہنمائوں اور سیاسی قیادت سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے بیانیے کو فروغ دیں جو کشمیر کے مظلوم انسانوں کے تحفظ کے لئے بھارت پہ عالمی دبائو کا سبب بن سکے۔

یہ بھی پڑھیں