(گزشتہ سے پیوستہ)
بھارتی حکومت نےآسیہ اندرابی پرمتعدد مقدمات قائم کیے،جن میں سب سے اہم مقدمہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے درج کیا گیا۔انہیں یواے پی اے اوربھارتی پینل کوڈ کی دفعات کے تحت قصوروارقراردیاگیا۔عدالت نے انہیں عمرقیدکی سزا سنائی جبکہ ان کی ساتھیوں صوفی فہمیدہ اورناہیدہ نسرین کوبھی طویل قید تیس سال کی سزادی گئی۔
آسیہ اندرابی کے شوہرقاسم فکتو بھی ایک معروف کشمیری رہنماہیں جوکئی دہائیوں سے جیل میں قیدہیں۔ان پربھی بھارت مخالف سرگرمیوں کےالزامات عائدکئے گئے۔ان کی طویل قیدکو انسانی حقوق کےحلقوں میں ایک اہم مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ کہاجاتاہے کہ انہوں نے جیل میں شدید مشکلات اورتنہائی برداشت کی مگر اپنے نظریات سےپیچھے نہیں ہٹے۔ان کی طویل قید انسانی حقوق کےتناظر میں ایک اہم کیس کے طور پردیکھی جاتی ہے،جہاں طویل قبل ازسزا حراست اور منصفانہ ٹرائل جیسے سوالات اٹھتے ہیں۔
جیل صرف ایک قانونی سزانہیں بلکہ ایک نفسیاتی آزمائش بھی ہے۔آسیہ اندرابی اوران کے شوہردونوں نے جیل میں طویل تنہائی کا عرصہ گزاراہےلیکن وہ ابھی تک اپنے جائز مؤقف پرانتہائی استقامت سےایک چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔ رپورٹس کےمطابق،انہیں محدودسہولیات، طبی مسائل اوراہل خانہ سے دوری جیسے مسائل کاسامناکرناپڑا۔یہ حالات انسانی حقوق کے عالمی معیارکے مطابق ایک سنجیدہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آیاقیدیوں کے ساتھ مناسب سلوک کیاجارہاہے یانہیں۔ہیومن رائٹس واچ اورایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے ادارے عام طورپر ایسے معاملات کوانسانی حقوق کے تناظرمیں دیکھتے ہیں،خاص طورپرجب قید طویل ہواورحالات سخت ہوں۔بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اورہیومن رائٹس واچ عموماایسے معاملات پرآوازاٹھاتی رہی ہیں،مگر بعض ناقدین کے مطابق آسیہ اندرابی کے معاملےپران کی خاموشی یامحدودردعمل سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ یہ خاموشی کئی وجوہات کی بناپرہوسکتی ہے،جن میں سیاسی دبائو، معلومات کی کمی،یاعلاقائی حساسیت شامل ہیں۔یہ ایک اہم سوال ہے کہ عالمی اداروں کاردعمل کیوں محدودنظرآتاہے۔ممکنہ وجوہات، سیاسی حساسیت، علاقائی طاقتوں کا دبائو، معلومات تک محدود رسائی ، تاہم،اصولی طورپرانسانی حقوق کی تنظیموں کوہرایسے کیس پرغیر جانبدارانہ آوازاٹھانی چاہیے۔
کشمیرکامسئلہ صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کاایک پیچیدہ مسئلہ ہے،جہاں بڑی طاقتیں اکثراپنے مفادات کوترجیح دیتے ہوئے اکثر اپنے مفادات کے تحت اس مسئلے پرخاموشی اختیارکرتی ہیں۔ اسی وجہ سے انسانی حقوق کیمسائل اکثرپس منظر میں چلے جاتے ہیں،اورمتاثرہ افرادعالمی توجہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام، بشمول آسیہ اندرابی، خود کو عالمی سطح پرتنہامحسوس کرتے ہیں۔
ایک خاتون رہنماکے طورپرآسیہ اندرابی کی جدوجہدایک الگ اہمیت رکھتی ہے۔انہوں نے نہ صرف ذاتی مشکلات برداشت کیں بلکہ اپنے نظرئیے کے لئے قربانیاں بھی دیں۔ان کی کہانی صرف سیاست نہیں بلکہ انسانی جذبات،قربانی اوراستقامت کی بھی عکاس ہے۔ آسیہ اندرابی کی کہانی کسی عام انسان کی کہانی نہیں۔یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس نے اپنی زندگی کے آرام،اپنے گھرکی سکون بھری دیواریں اوراپنے خاندان کی قربت سب کچھ ایک نظرئیے کے لئے قربان کردیا۔ ایک ماں،ایک بیوی،ایک بیٹی ان سب رشتوں کے پیچھے ایک ایسادل دھڑکتارہاجو اپنے لوگوں کے درد سے جڑاہواتھا۔
جب وہ جوان تھیں،تب شاید ان کے خواب بھی عام لڑکیوں جیسے ہی ہوں گیایک پرسکون زندگی، ایک خوشحال گھر،بچوں کی ہنسی، اورایک محفوظ مستقبل۔ مگرکشمیرکی گلیوں میں پھیلی بے چینی،سڑکوں پرگونجتے نعروں کی بازگشت،اورگھروں میں پھیلے خوف نے ان کے خوابوں کارخ بدل دیا۔وہ خاموش تماشائی نہ بن سکیں۔انہوں نے سوال کیا،اورپھروہ خودایک سوال بن گئیںایساسوال جس کا جواب آج تک دنیاتلاش نہیں کرسکی اورجوان کو سمجھ پائے،انہوں نے اسے ایک عظیم مجاہدہ اور مومنہ پایا جنہوں نے اپنی زندگی کو اللہ کے بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر دوبارہ اللہ کی غلامی میں دینااپنی زندگی کامقصدبنالیاہے۔
دختران ملت کی بنیادرکھناصرف ایک تنظیم بنانانہیں تھا،بلکہ یہ ایک اعلان تھاایک اعلان کہ کشمیری خواتین صرف گھروں تک محدودنہیں رہیں گی،بلکہ وہ بھی تاریخ کاحصہ بنیں گی۔ آسیہ اندرابی نے عورتوں کووہ آوازدی جوصدیوں سے دبائی جاتی رہی تھی۔ انہوں نے انہیں سکھایاکہ خاموشی بھی ایک جرم ہوسکتی ہے،اور بولنا ایک فرض۔مگرہرآوازکی ایک قیمت ہوتی ہے۔اورآسیہ اندرابی نے وہ قیمت اپنی آزادی کی صورت میں اداکی۔
جیل کی سلاخیں صرف لوہے کی نہیں ہوتیں،وہ وقت کی زنجیریں بھی ہوتی ہیں۔وہ انسان کواس کے اپنوں سے،اس کے خوابوں سے،اور کبھی کبھی خوداس کی ذات سے بھی جداکر دیتی ہیں۔آسیہ اندرابی نے اپنی زندگی کے کئی سال ان سلاخوں کے پیچھے گزارے۔ ہرگزرتا دن ایک صدی کی طرح،ہر رات ایک نہ ختم ہونے والی خاموشی کی طرح۔سوچیں، ایک ماں جواپنے بچوں کواپنے ہاتھوں سے کھانانہ کھلاسکے،جوان کے سرپرہاتھ نہ رکھ سکے،جوان کے آنسونہ پونچھ سکے،وہ ماں کس کرب سے گزرتی ہوگی؟جیل کی دیواریں شاید اس کے آنسوؤں کوجذب کرلیتی ہوں،مگر اس کے دل کی چیخیں کہاں جاتی ہوں گی؟
اورپھران کے شوہر،قاسم فکتوایک اورداستان، ایک اورقید،ایک اورطویل انتظار۔ایک ایساشوہر جو برسوں سے جیل کی دیواروں کے پیچھے ہے،جس نے اپنی جوانی،اپنی زندگی کے قیمتی سال،سب کچھ قیدمیں گزار دئیے۔ ایک ایسارشتہ جوملاقاتوں کے چندلمحوں تک محدودہوگیا،جہاں باتیں بھی نگاہوں سے کی جاتی ہیں اورخاموشی بھی ایک زبان بن جاتی ہے ۔ یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں،یہ ہزاروں خاندانوں کی کہانی ہے۔مگرآسیہ اندرابی اوران کے شوہرکی کہانی اس لیے زیادہ گہری محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس میں قربانی کی شدت زیادہ ہے،تنہائی کی گہرائی زیادہ ہے،اورانتظار کی لمبائی زیادہ ہے۔
(جاری ہے)