Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

گریٹر اسرائیل، اکھنڈ بھارت امن عالم اور بھڑکتی آگ

مشرقِ وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک آج دو اصطلاحات مسلسل زیرِ بحث ہیں: گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت۔ بظاہر یہ دو الگ خطوں کی بات لگتی ہے مگر حقیقت میں ان کے پس منظر، عزائم اور سیاسی اثرات میں حیرت انگیز مماثلت موجود ہے۔ حالیہ دنوں میں اس بحث کو مزید تقویت اس وقت ملی جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے منسوب ایک بیان زیرِ گردش آیا کہ “ہم اسرائیل کے ساتھ ہیں، اور گریٹر اسرائیل بھی بنے گا اور اکھنڈ بھارت بھی بنے گا۔”،بدمعاش نریندر مودی کے مطابق” کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے ہم ایران اسرائیل جنگ میں اسرائیل کے ساتھ ہیں” ،ہم جیسے صحافت کے طالب علموں کو تو کبھی بھی اس بات میں شک نہیں رہا،ہاں البتہ ایران اور ایرانی قوم کو ضرور اس بات پہ غور کرلینا چاہیے کہ “بھارت ایران کا “دوست” ہے یا پھر” دشمن‘‘ اس بیان نے جنوبی ایشیا اور مسلم دنیا میں تشویش کی ایک نئی لہر پیدا کر دی، کیونکہ اس میں دو ایسے نظریات کا ذکر تھا جو اپنے اپنے خطوں میں سرحدوں کی ازسرنو تشکیل اور نظریاتی توسیع پسندی سے جڑے ہوئے ہیں۔اسرائیل کے حوالے سے گریٹر اسرائیل کا تصور ایک ایسے جغرافیے کی بات کرتا ہے جو موجودہ اسرائیل کی سرحدوں سے کہیں وسیع سمجھا جاتا ہے۔ یہ تصور بعض مذہبی و سیاسی حلقوں میں اس خیال سے جڑا ہے کہ تاریخی یا مذہبی بنیادوں پر وسیع تر علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول ہونا چاہیے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات، فلسطین کا مسئلہ اور خطے میں مسلسل کشیدگی اسی بحث کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس تصور نے نہ صرف فلسطین بلکہ پورے خطے کے امن کو خطرات سے دوچار کیا ہے اور عالمی سیاست میں ایک مستقل بے چینی کو جنم دیا ہے۔ ہر چند سال بعد مشرقِ وسطیٰ میں کوئی نہ کوئی بحران اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیتا ہے، اور عالمی طاقتیں اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق اس مسئلے کو دیکھتی ہیں۔اسی طرح جنوبی ایشیا میں اکھنڈ بھارت کا تصور ایک ایسے بھارت کا خواب پیش کرتا ہے جس میں برصغیر کے وہ تمام علاقے شامل ہوں جو کبھی برطانوی ہندوستان کا حصہ تھے۔ اس تصور میں پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت دیگر خطوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ تصور صرف تاریخی یا ثقافتی بحث نہیں رہا بلکہ بعض سیاسی حلقوں میں اسے نظریاتی بنیاد پر زندہ رکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اس کا ذکر ہوتا ہے تو خطے میں خدشات اور عدم اعتماد کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی حساس خطہ ہے جہاں ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے موجود ہیں، ایسے میں اس نوعیت کے نظریات خطے کے امن کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتے ہیں ۔ اگر گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت کے تصورات کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو چند نمایاں مماثلتیں سامنے آتی ہیں۔ دونوں نظریات تاریخ کو بنیاد بنا کر موجودہ سرحدوں کو چیلنج کرتے ہیں، دونوں میں مذہبی یا تہذیبی شناخت کو سیاسی طاقت کے ساتھ جوڑا جاتا ہے اور دونوں خطے میں عدم استحکام کے خدشات کو بڑھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے امن پسند حلقے ان نظریات کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ نظریات اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا میں طاقت کی سیاست ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ نئے انداز میں جاری ہے۔پاکستان کے لیے یہ بحث محض عالمی سیاست نہیں بلکہ قومی سلامتی اور نظریاتی بقا کا معاملہ ہے۔ پاکستان کا قیام ہی ایک نظریاتی بنیاد پر ہوا تھا اور اس کی سرحدوں اور خودمختاری کو کسی بھی توسیع پسند نظریے سے خطرہ محسوس کیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کے معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی کا بیان انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ’’جو لوگ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کرتے ہیں کہ پاکستان دارالکفر ہے، پاکستانی فوج مرتد اور اسلام سے خارج ہے، ان کو معلوم نہیں کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کی بنیاد اور اس کے دستور میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ حاکمیت صرف اللہ جل جلالہ کی ہے۔ یہ وہ واحد ملک ہے جس میں آپ کوئی قانون بھی نہیں بنا سکتے جو اسلامی شریعت کے خلاف ہو۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہم جلوس نکالنے کو بھی تیار ہیں، جلسے کرنے کو بھی تیار ہیں، اور پاکستان کی حفاظت میں جانیں دینے کو بھی تیار ہیں لیکن اس موقع سے فائدہ اٹھانے کو تیار نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس دستوری خاتمے عطا فرمایا ہے۔‘‘یہ الفاظ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی نظریاتی بنیاد کو کمزور کرنا محض داخلی معاملہ نہیں بلکہ بیرونی نظریاتی دباؤ سے بھی جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ آج کی دنیا میں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں بلکہ میڈیا، بیانیے اور نفسیاتی میدان میں بھی جاری رہتی ہیں۔ جب کسی قوم کے ذہن میں یہ بات ڈال دی جائے کہ اس کی سرحدیں عارضی ہیں یا اس کا وجود کمزور ہے تو اس کی مزاحمت کمزور ہونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بار بار نظریاتی اتحاد اور قومی یکجہتی پر زور دیا جاتا ہے۔میڈیا اور سوشل میڈیا نے اس جنگ کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آج ایک بیان چند منٹوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتا ہے اور ایک خبر پورے خطے کے عوام کے ذہنوں پر اثر انداز ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی بیانیے کی مضبوطی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ اگر کسی قوم کا بیانیہ کمزور ہو جائے تو اس کی سیاسی اور معاشی طاقت بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔مسلم دنیا کے لیے یہ مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا دونوں مسلم اثر رکھنے والے خطے ہیں۔ جب گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت جیسے نظریات سامنے آتے ہیں تو یہ صرف جغرافیائی نہیں بلکہ تہذیبی اور مذہبی چیلنج بھی بن جاتے ہیں۔ مسلم دنیا پہلے ہی مختلف سیاسی اور معاشی مسائل کا شکار ہے، ایسے میں مزید نظریاتی دباؤ اس کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ سب محض سیاسی بیان بازی ہے؟ ممکن ہے کہ بعض بیانات وقتی سیاسی فائدے کے لیے دیے جاتے ہوں، مگر تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑے نظریات اکثر چھوٹے بیانات سے ہی جنم لیتے ہیں۔ اسی لیے سنجیدہ حلقے ایسے بیانات کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کا تجزیہ ضروری سمجھتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں کئی بڑی تبدیلیاں ابتدا میں صرف ایک خیال یا ایک بیان کی صورت میں سامنے آئی تھیں۔پاکستان کے لیے اس صورتحال میں سب سے بڑا سبق قومی اتحاد، نظریاتی مضبوطی اور عالمی سیاست کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کو تاریخ اور نظریۂ پاکستان سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ بدلتی ہوئی دنیا میں اپنے ملک کی اہمیت اور ذمہ داری کو سمجھ سکیں۔ تعلیم، معیشت اور سفارت کاری کے میدان میں مضبوطی ہی وہ راستہ ہے جس سے پاکستان اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔دنیا بدل رہی ہے، طاقت کا توازن بدل رہا ہے، نئے اتحاد بن رہے ہیں اور پرانے ٹوٹ رہے ہیں۔ یہ وقت غفلت کا نہیں بلکہ بیداری کا ہے، کیونکہ تاریخ ہمیشہ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے وجود کی حفاظت کرنا جانتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں