Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

سراب کے پیچھے چھپی ہوئی دنیا

یہ دنیا،جوکبھی تہذیبوں کی آماجگاہ تھی،آج مفادات کے جنگل میں بدلتی جارہی ہے۔کبھی یہاں قافلے امن کے تر انے گاتے گزرتے تھے، اورعلم وحکمت کے چراغ ہرسمت روشن تھے،مگراب فضائوں میں بارودکی بوہے اورافق پراٹھتے ہوئے دھوئیں کے بادل انسانیت کے چہرے کودھندلا رہے ہیں۔بظاہرسب کچھ معمول کے مطابق ہے خبریں،بیانات،سفارتی لب ولہجے مگراس ظاہری سکون کے نیچے ایک ایسی ہلچل برپاہے جوتاریخ کے کسی بڑے طوفان کاپیش خیمہ معلوم ہوتی ہے۔
یہ عہدمحض جنگوں کانہیں،بلکہ بیانیوں کاعہد ہے۔وہ بیانیے جوحقیقت کوپرد اخفامیں رکھتے ہیں اور انسان کواس کی اپنی بصیرت سے محروم کردیتے ہیں۔ ہمیں بتایاجاتاہے کہ جنگیں امن کے لئے ہیں، مداخلتیں استحکام کے لئے ہیں،اورتباہی دراصل تعمیرکاپیش خیمہ ہے مگر سوال یہ ہے کہ اگریہ سب کچھ امن کے لئے ہے،توپھر دنیا کے کونے کونے میں بے چینی کیوں ہے؟اگریہ سب استحکام کے لئے ہے،تو پھر انسان کی بنیادیں کیوں ہل رہی ہیں؟
یہاں سے وہ کہانی شروع ہوتی ہے جوبظاہر مختلف واقعات کامجموعہ لگتی ہے،مگردرحقیقت ایک ہی نقشے کے مختلف رنگ ہیں۔ایک ایسانقشہ جس میں طاقت کا ایک مرکزپوری دنیاکو اپنے گردگھمانا چاہتا ہے ایک ایسا تصورجسے بعض حلقے ون ورلڈ آرڈرکے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔یہ تصورمحض ایک سیاسی اصطلاح نہیں،بلکہ ایک ایساخواب ہے جس میں ایک ہی قوت دنیاکے وسائل، معیشت ، اورحتی کہ فکروشعورپراپنی گرفت مضبوط کرناچاہتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دل لرزتاہے اورروح سوال کرتی ہے:کیاانسان واقعی اتنابے بس ہو چکاہے کہ چندطاقتورہاتھ اس کے مقدرکافیصلہ کریں؟ کیا دنیا ایک ایسے موڑپر کھڑی ہے جہاں انصاف کی جگہ مفاد اوراخلاق کی جگہ طاقت نے لے لی ہے؟
اگرہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تویہ کوئی نئی داستان نہیں۔ہردورمیں کچھ طاقتیں ایسی ابھریں جنہوں نے اپنے اقتدارکو دوام دینے کے لئے دنیا کواپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔مگرآج کامنظراس لئے مختلف ہے کہ اب یہ عمل زیادہ منظم،زیادہ خاموش،اور زیادہ ہمہ گیرہوچکا ہے۔اب جنگیں صرف میدانوں میں نہیں ہوتیں، بلکہ معیشت،توانائی ، اطلاعات اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔
یہی وہ پس منظرہے جس میں ہمیں حالیہ عالمی واقعات کودیکھناہوگا۔یہ محض حادثات نہیں،بلکہ ایک تسلسل کاحصہ ہیں۔ایک ایسی حکمتِ عملی کا حصہ،جس کا مقصد دنیاکے وسائل پر بتدریج کنٹرول حاصل کرناہے چاہے اس کے لئے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں، چاہے کتنے ہی خطے خاکسترکیوں نہ ہوجائیں۔صوفیاء کہتے ہیں کہ دنیا ایک سراب ہے جودکھائی دیتا ہے وہ حقیقت نہیں ، اور جوحقیقت ہے وہ اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے ۔ آج کی سیاست بھی اسی سراب کاعکس معلوم ہوتی ہے ۔ہمیںجودکھایاجارہاہے وہ شاید اصل نہیں ۔ اور جواصل ہے،وہ ہماری نگاہوں سے چھپا دیا گیا ہے۔
یہ تحریراسی سراب کوچاک کرنے کی ایک کوشش ہیکہ ہم واقعات کوان کے ظاہری خول سے نکال کر دیکھیں اوراس حقیقت کو پہچانیں جوان کے پس پردہ کارفرما ہے۔ کیونکہ جب تک ہم حقیقت کونہیں سمجھیں گے،ہم نہ اپنی رائے قائم کرسکیں گے،نہ اپنے مستقبل کا درست تعین کر سکیں گے۔یہ ایک دھند میں لپٹی ہوئی دنیا کا نوحہ ہے جوعدل وانصاف کی تلاش میں دربدرٹھوکریں کھارہاہے۔
ہردورِتاریخ میں جب ایک نئی طاقت کی آمد ہوتی ہے،توپرانی طاقتیں بے ساختہ ردعمل کامظاہرہ کرتی ہیں۔دنیاکے افق پرجب بھی سیاست کے بادل گہرے ہوتے ہیں تونگاہیں ہمیشہ بجلی کی چمک پرمرکوزرہتی ہیں، بادلوں کے اندراٹھنے والی حرارت پرنہیں۔بلکہ دنیاکے سیاسی افق پرآج ایک نیا طوفان ابھرتادکھائی دے رہا ہے، جوبظاہر ایران یا اسرائیل کے مسائل کی صورت میں نظرآتا ہے، لیکن حقیقت کی پرتیں کہیں اورچھپی ہیں۔ ہردورکی طرح،جب ایک ابھرتی ہوئی طاقت اپنی رفتار سے موجودہ عالمی نظام کے کناروں تک پہنچتی ہے،تو پرانی طاقتیں ناخودآگاہ ردعمل کامظاہرہ کرتی ہیں۔
آج بھی یہی حال ہے۔کہیں ایران کا ذکر ہے، کہیں اسرائیل کاشور،مگرحقیقت کاقافلہ ان گلیوں سے گزرکرکسی اورسمت جارہاہے۔موجودہ عالمی منظرنامہ اس اصول کاعملی عکس ہے۔ آج کل،بین الاقوامی مباحث کامحور ایران یااسرائیل دکھائی دیتاہے،لیکن حقیقت کی تہہ کچھ اورہی منظرپیش کرتی ہے۔ہرچراغ جس کی روشنی عوام کی نگاہوں میں پڑتی ہے،کبھی کبھار اصل راہوں کوچھپائے رکھتا ہے۔تاریخ کا تجربہ یہ بتاتاہے کہ عالمی سیاست شطرنج کی وہ بساط ہے جس پرمہرے سامنے چلتے ہیں مگراصل ارادہ پسِ پردہ چھپارہتاہے۔
میں یہاں دوواقعات کے آئینے میں عالمی حکمت عملی کی اس حقیقت کوآشکارکرنے کا قصد رکھتا ہوں۔ہم واقعات کونہیں،ان کے درمیان موجود ربط کو دیکھیں ؛ شورکونہیں،اس کے پیچھے چھپی خاموش حکمتِ عملی کو سنیں۔ اس رپورٹ کی صداقت کے لئے میں ان جغرافیائی، اقتصادی اورسیاسی پیچیدگی کے پردے کو ہٹانے کی کوشش کروں گاجس کی روشنی میں عالمی طاقتوں کی حکمت عملی، چین کی اقتصادی بالادستی اورتوانائی کی عالمی سپلائی کے تعلقات واضح ہوسکیں اورہم صحیح نتائج اخذکر سکیں۔
امریکانے وینزویلامیں ایک متنازعہ آپریشن انجام دیا،جس کے نتیجے میں صدرمادوروگرفتار ہوئے۔ وینزویلاکاواقعہ بظاہرایک سیاسی تبدیلی تھا مگر درحقیقت یہ اقتصادی شریان پر لگنے والی ایک کاری ضرب تھی۔ جب صدرمادوروکو اقتدار سے ہٹایاگیا تو دنیا نیا سے جمہوریت کی فتح قراردیا۔کسی نے تالیاں بجائیں،کسی نے قانونی موشگافیاں کیں،مگراس سوال کی طرف کم ہی توجہ گئی کہ اس تبدیلی کااصل اثرکہاں پڑا۔عوامی منظرنامے میں یہ آمرکازوال کہاگیا،کچھ نے خوشی کے طورپرتالیاں بجائیں اور کچھ نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر اعتراض کیا۔
امریکانے وینزویلامیں ایک متنازعہ آپریشن انجام دیا،جس کے نتیجے میں صدرمادوروگرفتار ہوئے۔ وینزویلاکاواقعہ بظاہرایک سیاسی تبدیلی تھا مگر درحقیقت یہ اقتصادی شریان پر لگنے والی ایک کاری ضرب تھی۔ جب صدرمادوروکو اقتدار سے ہٹایاگیا تو دنیا نیا سے جمہوریت کی فتح قراردیا۔کسی نے تالیاں بجائیں،کسی نے قانونی موشگافیاں کیں،مگراس سوال کی طرف کم ہی توجہ گئی کہ اس تبدیلی کااصل اثرکہاں پڑا۔عوامی منظرنامے میں یہ آمرکازوال کہاگیا،کچھ نے خوشی کے طورپرتالیاں بجائیں اور کچھ نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر اعتراض کیا۔
لیکن اس سوال پرکسی نے غورنہیں کیاکہ وینزویلاکے تیل کاسب سے بڑاصارف کون تھا؟ جواب روشن ہے چین۔وینزویلا روزانہ80ہزار بیرل تیل براہِ راست چین کوفروخت کررہاتھاجس سے چین کاعظیم اقتصادی انجن چل رہاتھا۔ مادوروکے ہٹانے کے ساتھ، چین کی پائپ لائن کاٹ دی گئی اورتوانائی کے اس بہائوکو یکدم روک دیاگیا۔وینزویلاکاتیل صرف ایک وسیلہ نہیں تھا،بلکہ چین کے صنعتی بدن میں دوڑنے والاوہ خون تھاجواس کی معیشت کوزندگی بخشتاتھا۔ روزانہ 8لاکھ بیرل تیل کابہائواچانک رک جاناایساتھا جیسے کسی دریاکا منبع خشک کردیاجائے۔
یوں سمجھ لیں کہ تاریخ کبھی شورمچاکر نہیں بدلتی، بلکہ خاموشی سے اپنی سمت بدلتی ہیاورجب انسان کوخبر ہوتی ہے تونقشہ بدل چکاہوتاہے۔یہ محض سیاسی کارروائی نہیں،بلکہ ایک حکمت عملی کی ابتداتھی جس میں عالمی طاقتیں چین کے ابھرتے ہوئے اقتصادی کردار کو محدود کرنے کی کوشش کررہی تھیں۔یہ واقعہ ایک استعارہ کے طورپر بیان کرتاہے کہ طاقت کی جنگ ہمیشہ محض سیاسی چالوں تک محدودنہیں رہتی،بلکہ اقتصادی قوت کے نشیب وفراز سے بھی منسلک ہے۔
ایران کاواقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ امریکا اوراسرائیل نے ایران پرحملہ کیااورخامنہ ای کے ساتھ ساری اعلیٰ قیادت کو ہدف بناکرساری دنیامیں سفا کی اورتشویش کی لہر دوڑادی۔دنیاکے ایک حصے نے اسے جوہری خطرے کے خاتمے کے طورپردیکھا، دوسروں نے بین الاقوامی قوانین کی پامالی پراحتجاج کیا مگرسوال پھروہی تھااس بحران سے کس کی شہ رگ متاثرہوئی؟کسی نے یہ نہیں پوچھاکہ ایران کاسب سے بڑاتیل کاخریدار کون تھا؟وہ بھی چین۔ایران یومیہ 1.5ملین بیرل تیل براہِ راست چین کوفراہم کررہاتھا۔اس پائپ لائن کی بندش نے نہ صرف توانائی کی سپلائی متاثرکی بلکہ چین کی تجارتی اور اقتصادی حرکت کوبھی محدودکیا۔ چین اچانک ایک غیریقینی کیفیت میں داخل ہوگیا۔یوں سمجھ لیجیے کہ چین کے اقتصادی قافلے کے دوبڑے چشمے یکایک خشک کردیے گئے ۔ یہاں ایک تمثیل یادآتی ہے کہ اگرکسی درخت کی جڑوں میں پانی بندکردیا جائے توشاخوں کی ہریالی دیرپا نہیں رہتی۔چین کی معیشت بھی اسی آزمائش سے گزررہی ہے۔یہ دوواقعات، بظاہرالگ الگ،اصل میں ایک حکمت عملی کے جال میں جڑے ہوئے ہیں۔ عالمی طاقتیں چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی سیاسی اور جغرافیائی بالادستی کومحدود اور قابو میں لانے کی کوششیں کررہی ہیں۔
رائے ڈالیوکانظریہ محض ایک تجزیہ نہیں بلکہ تاریخ کے سینے سے نکلاہوا ایک اصول ہے،جب ایک نئی طاقت پرانی طاقت کے برابر آ کھڑی ہوتوتصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔جرمنی اوربرطانیہ کی کشمکش کے بطن سے پہلی جنگ عظیم کاسانحہ ہوا،جاپان کابحرالکاہل میں امریکاسے ٹکرائودوسری عالمی جنگ کاشاخسانہ بن گیا جہاں پہلی مرتبہ امریکانے جاپان کے دوبڑے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پرایٹم بم گراکرہرجاندار کو خاکستر کردیااور آج تک اس بہیمانہ ظلم اورسفاکی کے اثرات نمایاں ہیں اور سردجنگ کے طویل سائے یعنی سوویت یونین کی امریکا کے مقابلے میں ابھرتی طاقت،جس نے دنیاکا نقشہ ہی تبدیل کردیا اورسوویت یونین کے بطن سے چھ اور ریاستیں دنیاکے نقشے پرمعرضِ وجودمیں آگئیںیہ سب اسی قانون کے مظاہرہیں۔روس ایک مرتبہ پھر آنکھیں دکھانے کے قابل ہورہاتھا کہ یوکرین کا پھندااس کے گلے میں ڈال دیاگیاہے۔
آج چین اسی راستے پرگامزن ہے۔اوریہی عمل جاری ہے۔عالمی طاقتیں اس ابھرتے ہوئے عظیم انجن کی توانائی کی کمزوریوں کی نشاندہی کررہی ہیں۔ چین کی ابھرتی ہوئی معیشت اوراس کاعالمی تیل کے بازارمیں حصہ اسی تاریخی قانون کاجدید عکس ہے۔عالمی طاقتیں اپنی برتری برقراررکھنے کیلئے چین کی توانائی کی سپلائی اورتجارتی راستوں پراثرانداز ہو رہی ہیں۔ گویا فکری اندازمیں یہ کہنا درست ہوگا کہ طاقت کاارتقامحض مادی نہیں ہوتا،بلکہ اس کے ساتھ ایک تہذیبی اورفکری کشمکش بھی جڑی ہوتی ہے۔یہی کشمکش آج عالمی نظام کو ایک نئے موڑپرلے آئی ہے۔
چین کوایک عظیم الشان انجن تصورکیجیے ایساانجن جودنیا کی ایک بڑی معیشت کوحرکت دے رہاہے۔ مگر ہر انجن کی طرح اس کی بھی ایک کمزوری ہے، ایندھن۔ چین دنیاکا28فیصد تیل پیداکرتا ہے،لیکن اپنی صنعتی بھوک مٹانے کے لئے زیادہ ترتیل درآمد کرتاہے۔اس کے ایندھن کی چاراہم پائپ لائنیں ہیں وینزویلا، ایران، روس اورسعودی عرب جبکہ ان میں سے دو کاٹ دی گئیں،ایک محدودہوگئی،اورچوتھی غیریقینی کاشکارہوگئی، تو یہ انجن اپنی پوری رفتار برقرار رکھنے سے قاصرہونے لگاہے۔
دوماہ میں چین کی20فیصد تیل کی سپلائی منقطع ہوئی،اورعالمی توجہ ایران پرمرکوزہونے کے سبب اصل حکمت عملی پوشیدہ رہی۔یہ محض اقتصادی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک خاموش جنگ ہے،جس میں گولیاں نہیں بلکہ پابندیاں اورسیاسی فیصلے استعمال ہوتے ہیں۔ اس طرح ایک ظاہری رخ کے پیچھے اصل حکمت عملی پوشیدہ رہی۔
چین کابیلٹ اینڈروڈمنصوبہ محض تجارت کا راستہ نہیں بلکہ عالمی اقتدارکی ایک نئی تعبیرہے۔ بیجنگ سے یورپ تک پھیلاہوایہ جال اس بات کی علامت ہے کہ جوتجارت کوکنٹرول کرے گا،وہ دنیا کی نبض پرہاتھ رکھے گا۔چین نے اپنے اقتصادی نیٹ ورک کوجدید سلک روڈ کے ذریعے یورپ تک پھیلارکھاہے،جس میں ریلوے، بندرگاہیں اور پائپ لائنیں شامل ہیں۔ اس کامقصدواضح ہے۔ یورپ کے تجارتی راستوں پرتسلط حاصل کرنا،تاکہ عالمی معیشت کے کنٹرول کامرکز اپنے ہاتھ میں ہو۔
جرمنی،فرانس اوراٹلی جیسے ممالک کے جھکائو سے ظاہرہوتاہے کہ یورپ آہستہ آہستہ امریکاسے دورہوکرچین کی جانب بڑھ رہاہے۔ یورپ کاچین کی طرف جھکاامریکا کے لئے ایک گھنٹی ہے ،ایسی گھنٹی جس کی آوازخطرے کی خبردیتی ہے۔ جرمنی،فرانس اوراٹلی جیسے ممالک کابدلتاہوا رخ عالمی طاقت کے توازن کومتاثرکررہاہے۔
اگرتوانائی اس جنگ کاایندھن ہے توٹیکنالوجی اس کی تلوارہے،اورتائیوان اس تلوارکادستہ۔ جدید چپس کی پیداوارکامرکزہونے کے باعث تائیوان اکیسویں صدی کی معیشت کادل بن چکا ہے۔ جو اسے قابو میں رکھتاہے،وہ اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی کے پہیے کامالک ہوتاہے۔ امریکااور چین دونوں اس دل کی دھڑکن کو اپنے اختیارمیں لیناچاہتے ہیں۔ امریکا کامؤقف واضح ہے اور چین کی حاکمیت کے دعوے تصادم کوناگزیر بناتے ہیں۔کیونکہ یہاں مفاہمت کی گنجائش کم اور مفادات کا ٹکرائوشدیدہے۔یہاں تصادم کاامکان سب سے زیادہ ہے اوریہی نقطہ آخرکارعالمی طاقتوں کے تصادم کا مرکزی میدان ہے۔
یہ صرف چین کوکمزورکرنے کامعاملہ نہیں،بلکہ امریکی صنعتی ودفاعی منافع بھی اس میں مضمرہے۔ ہر جنگ اپنے ساتھ صرف تباہی نہیں لاتی،بلکہ کچھ قوتوں کے لئے منافع بھی لاتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ہردھماکہ اوربحران،خلیجی ریاستوں کے ہتھیاروں کی خریداری میں تبدیلی اوراضافہ اس حقیقت کاواضح ثبوت ہے۔نتیجہ اربوں ڈالرکی اقتصادی گردش اورعالمی حکمت عملی کی تکمیل امریکی صنعتی پہئے کوچلانے میں ممدمعاون ثابت ہو رہی ہے۔جب دنیامادہ پرستی کے اصولوں پرچلتی ہے تو انسانیت پس منظرمیں چلی جاتی ہے اور مفادپرستی میدان میں غالب آجاتی ہے۔
(جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں