Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ٹرمپ، محمد بن سلمان مولانا پاکستان اور سعودی عرب

کسی کو اچھا لگے یا برا ،پسند ہو یا نہ ہو،میرے جیسے صحافت کے طالب علم ڈونلڈ ٹرمپ جیسے ہزاروں کوپرنس محمد بن سلمان کی جوتی کی خاک کے برابر بھی نہیں سمجھتے، مگرکیوں؟اس لئے کہ پرنس محمد بن سلمان ’’خادم الحرمین الشریفین ‘‘ ہیں اور پاکستان ’’محافظ حرمین شریفین‘‘ہے،یوں اگر دیکھا جائے تو پاکستان اور سعودی عرب کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے،پاکستان میں بیٹھ کر سعودی عرب کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈہ مہم چلانے والے امریکی پٹاری کے خرکاروں کو کوئی بتائے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نازیبا الفاظ اس کے اندر کی تلملاہٹ اور بوکھلاہٹ کو ظاہر کر رہے ہیں اور اس بات کو بھی کہ پرنس محمد بن سلمان اور سعودی عرب امریکی دام فریب سے دامن چھڑانے میں کامیابی حاصل کر چکے،بین الاقوامی سیاست میں الفاظ صرف خیالات کے اظہار کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ وہ طاقت، رویوں اور تہذیبی اقدار کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔
عالمی قیادت کا منصب محض سیاسی قوت کا اظہار نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ جب کسی رہنما کے الفاظ کروڑوں لوگوں کے جذبات کو مجروح کریں تو یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پوری انسانیت کے مشترکہ اقدار کے لئے سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ اسی لئے دنیا بھر میں سنجیدہ حلقے ایسے بیانات کو تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں اور انہیں عالمی امن و استحکام کے لئے نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔یہ وقت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ عالمی قیادت ذمہ داری، برداشت اور باہمی احترام کو اپنی ترجیح بنائے۔ دنیا کو تصادم نہیں بلکہ تعاون کی ضرورت ہے اور یہی وہ اصول ہیں جو پائیدار امن اور مضبوط سفارتی تعلقات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں غیر ذمہ دارانہ بیانات کی مذمت دراصل عالمی اخلاقی اقدار کے دفاع کے مترادف ہے۔ حالیہ دنوں میں یہی صورتحال اس وقت سامنے آئی جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مبینہ توہین آمیز ریمارکس سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے منسوب کئے گئے۔ اس معاملے پر پاکستان کی مذہبی و سیاسی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے محض ایک شخصیت نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کی توہین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی رہنمائوں کو الفاظ کے انتخاب میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ غیر مہذب اور نازیبا گفتگو بین الاقوامی تعلقات میں کشیدگی کو جنم دیتی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ جیسے بااثر ملک میں قیادت کا معیار ایسا ہونا چاہیے جو دنیا میں امن، برداشت اور مکالمے کو فروغ دے، نہ کہ اشتعال اور تقسیم کو۔مولانا فضل الرحمن نے اس موقع پر مسلم دنیا کو خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد و اتفاق ناگزیر ہوچکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلم حکمران مشترکہ حکمت عملی اپنائیں اور ایک مضبوط بلاک کی صورت میں ابھریں تاکہ عالمی سطح پر اپنے مفادات کا موثر دفاع کیا جا سکے۔ ان کے مطابق باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اسی تناظر میں پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کا حالیہ بیان بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات کو غیر متزلزل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔
سعودی سفیر نے پاکستان کی علاقائی امن کے لئے کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کو اپنی خوشحالی سمجھتا ہے۔سفارتی سطح پر ایسے مثبت بیانات اس امر کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ عالمی سیاست میں احترام اور تعاون ہی پائیدار تعلقات کی بنیاد بنتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مذہبی، ثقافتی اور اسٹریٹجک رشتوں پر مبنی ہیں، جنہیں مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ آج کی دنیا میں طاقت کا اصل معیار فوجی قوت سے زیادہ اخلاقی اور سفارتی قوت بن چکا ہے۔ اگر عالمی رہنما ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو اختیار کریں اور ایک دوسرے کے احترام کو مقدم رکھیں تو بہت سے تنازعات خود بخود کم ہوسکتے ہیں۔ یہی وہ پیغام ہے جو مولانا فضل الرحمن کے بیان، مسلم اتحاد کی اپیل اور سعودی سفیر کے پاکستان کے حق میں بیان سے واضح طور پر سامنے آتا ہے۔عالمی سیاست کے پیچیدہ منظرنامے میں بعض بیانات وقتی خبر سے کہیں بڑھ کر علامتی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ردعمل بھی صرف سیاسی نہیں بلکہ تہذیبی اور اخلاقی سطح پر دیکھا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں مولانا فضل الرحمن کا حالیہ بیان محض ایک ردعمل نہیں بلکہ ایک وسیع تر فکری اور سفارتی پیغام کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ان کے موقف کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ عالمی قیادت کو اپنی گفتگو میں احترام، شائستگی اور ذمہ داری کو مقدم رکھنا چاہیے، کیونکہ الفاظ ہی وہ بنیاد ہوتے ہیں جن پر تعلقات کی عمارت کھڑی یا منہدم ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور میں مسلم دنیا کو جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ صرف سیاسی یا معاشی نہیں بلکہ بیانیے کی سطح پر بھی ہیں۔ جب کسی عالمی رہنما کی زبان سے ایسے جملے ادا ہوں جو کسی قوم یا شخصیت کی تضحیک کا تاثر دیں تو اس کے اثرات کروڑوں لوگوں کے جذبات پر پڑتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے اسی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے مسلم حکمرانوں کو اتحاد، بصیرت اور مشترکہ حکمت عملی کی طرف متوجہ کیا ہے۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ انفرادی ردعمل سے زیادہ اہم اجتماعی سوچ اور مشترکہ موقف ہے۔یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ پاکستان ہمیشہ مسلم دنیا میں ایک ذمہ دار اور متوازن کردار ادا کرتا رہا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں برادر اسلامی ممالک کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ تعلقات صرف سفارتی نہیں بلکہ مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رشتوں پر قائم ہیں۔ ایسے حالات میں جب عالمی سطح پر غلط فہمیاں یا کشیدگی پیدا ہو، تو پاکستان جیسے ممالک کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے کہ وہ پل کا کام کریں، فاصلے کم کریں اور مثبت مکالمے کو فروغ دیں۔مولانا فضل الرحمن کے بیان کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے مسلم دنیا کو اپنی اجتماعی قوت کا احساس دلانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق اگر اسلامی ممالک مشترکہ مفادات پر متفق ہو جائیں تو نہ صرف اپنی عزت و وقار کا دفاع کر سکتے ہیں بلکہ عالمی امن میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ بات محض جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ موجودہ عالمی نظام کی حقیقت ہے جہاں علاقائی بلاکس اور ںآج کا دور تصادم کے بجائے تعاون کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر عالمی قیادت باہمی احترام کو اپنی ترجیح بنائے اور مختلف تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دے تو بہت سے تنازعات خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کا بیان اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ عزتِ نفس، احترام اور اتحاد وہ اصول ہیں جن پر پائیدار عالمی تعلقات قائم ہو سکتے ہیں۔پرنس محمد بن سلمان کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کا نازیبا الفاظ پر مشتمل بیان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا صرف ’’طاقت‘‘ سے نہیں بلکہ ’’اخلاقی قیادت‘‘سے چلتی ہے۔ جب مسلم دنیا متحد ہو کر اپنی آواز بلند کرے اور سفارتی آداب کو مقدم رکھے تو نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ ممکن ہے بلکہ عالمی سطح پر امن، احترام اور ہم آہنگی کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو موجودہ حالات میں سب سے زیادہ اہم اور قابلِ غور ہے۔

یہ بھی پڑھیں