(گزشتہ سے پیوستہ)
ان تمام واقعات کویکجا کرکے دیکھیں تو امریکا کاایک واضح خاکہ اورچھ فوائدکی حکمت عملی سامنے آتی ہے:
چین کی توانائی کی سپلائی کومحدودکرنا،اس کے تجارتی راستوں کومتاثراوراس میں خلل ڈالنا،خطے پر اثرورسوخ قائم کرنا،یورپ کواپنے اثرمیں رکھناتاکہ چین سے تجارت محدودکردی جائے ،جنگی معیشت کو فروغ دینا،ہتھیاروں سے اقتصادی فائدہ اٹھانا، تائیوان کے معرکے سے پہلے چین کوکمزورکرنا
یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جوبظاہرمنتشرنظرآتی ہیمگردرحقیقت ایک مرکزکے گردگھوم رہی ہے۔
دنیاکے نقشے پربکھرے ہوئے یہ تمام واقعات دراصل ایک ہی داستان کے مختلف ابواب ہیں۔ وینزویلا، ایران،روس،یورپ اورتائیوان مختلف محاذ ہیں ، لیکن اصل جنگ ایک ہے،چین کی اقتصادی وجغرافیائی بالادستی اورعروج کومحدودکرنا۔یہ جنگ بندوقوں سے زیادہ ذہنوں میں لڑی جارہی ہے اوراس کاہدف صرف زمین نہیں بلکہ معیشت،ٹیکنالوجی اورعالمی اقتدارہے۔یہ عالمی سیاست کی پیچیدہ کڑیاں ہیں،جو عموماًپردے میں چھپی رہتی ہیں۔ جیسے ایک باکسراپنے مخالف کاپانی اورخوراک کاٹ کراس کی طاقت کوکمزورکرتاہے،عالمی طاقتیں بھی اسی اصول کے تحت عالمی پچ پرحرکت کررہی ہیں۔یہ تجزیہ ہمیں یہ درس دیتاہے کہ عالمی سیاست میں جوواقعات بظاہرالگ دکھائی دیتے ہیں،وہ ایک ہم آہنگ حکمت عملی کے تحت جڑے ہوئے ہیں،اورجوعالمی منظرنامے میں نمایاں ہوتاہے،وہ اکثراصل رخ کاصرف آئینہ ہوتا ہے ۔
جب تاریخ اپنے فیصلے سناتی ہے تووہ کسی کی رعایت نہیں کرتی۔وہ نہ طاقتورکومعاف کرتی ہے،نہ کمزورکوبخشتی ہے۔وہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ کس نے حق کو پہچانا اورکس نے اسے نظر اندازکیا۔آج دنیاایک ایسے ہی فیصلہ کن موڑپرکھڑی ہے،جہاں خاموشی بھی ایک جرم ہے اورلاعلمی بھی ایک نقصان۔ہم ایک ایسی دنیا میں سانس لے رہے ہیں جہاں وسائل پر قبضہ صرف اقتصادی معاملہ نہیں رہا،بلکہ اقتدارکا بنیادی ستون بن چکاہے۔ توانائی،تجارت، ٹیکنالوجی یہ سب اب محض ترقی کے ذرائع نہیں،بلکہ کنٹرول کے ہتھیاربن چکے ہیں اور ان ہتھیاروں کواستعمال کرنے والے ہاتھ کسی ایک خطے تک محدود نہیں،بلکہ پوری دنیاپراپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
یہ کہناشاید تلخ ہو،مگرحقیقت یہی ہے کہ طاقت کی اس دوڑمیں انسانیت اکثرکچلی جاتی ہے۔وہ بستیاں جوکبھی زندگی سے بھرپورتھیں، اب ملبے کاڈھیربن چکی ہیں وہ خواب جوکبھی آنکھوں میں سجتے تھے،اب دھوئیں میں تحلیل ہوچکے ہیں۔اوراس سب کے درمیان، ایک خاموش سوال فضامیں معلق ہے:کیایہی وہ دنیاتھی جس کاخواب انسان نے دیکھاتھا؟
جمہوریت،جوکبھی عوام کی آوازسمجھی جاتی تھی، آج کئی مقامات پرمحض ایک نقاب بن چکی ہے۔ اس نقاب کے پیچھے وہ پالیسیاں پروان چڑھتی ہیں جوبظاہر عوامی مفادکے نام پرہوتی ہیں،مگردرحقیقت چندطاقتورحلقوں کے مفادات کوتقویت دیتی ہیں۔یہ وہ تضادہے جو دل کوبے چین کرتاہے کہ جس نظام کوانسان کی آزادی کا ضامن ہوناچاہیے تھا،وہی بعض اوقات اس کی غلامی کاذریعہ بن جاتاہے۔
صوفیاکی زبان میں کہاجائے تویہ دنیاایک امتحان گاہ ہے،جہاں ہرانسان کواپنی بصیرت کاثبوت دیناہے۔جوصرف ظاہرکودیکھتاہے،وہ دھوکہ کھا جاتا ہے اور جو باطن کوپہچان لیتا ہے،وہ حقیقت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس باطنی بصیرت کو بیدارکریںہم سوال کریں،ہم سوچیں ،اورہم اپنے گردوپیش کومحض خبروں کی حد تک نہ دیکھیں بلکہ اس کے اندر چھپی ہوئی معنویت کوسمجھیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہراندھیری رات کے بعدصبح ہوتی ہے۔مگرصبح خودبخود نہیں آتی،اس کے لئے چراغ جلانے پڑتے ہیں، شعوربیدار کرناپڑتاہے،اورسچ کوپہچاننے کی ہمت پیدا کرنی پڑتی ہے۔اگر انسان صرف تماشائی بن کررہ جائے توتاریخ اسے بھی اسی خاموشی کے ساتھ رونددیتی ہے جس طرح وہ باقی سب کوروندتی ہے۔
یہ تحریرکسی حتمی فیصلے کااعلان نہیں،بلکہ ایک دعوتِ فکرہے۔ ایک پکارہے کہ ہم اپنے گرد و پیش کونئے زاوئیے سے دیکھیں۔ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ دنیا میں جوکچھ ہورہاہے،وہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک تسلسل کاحصہ ہے۔اوراگریہ تسلسل اسی طرح جاری رہا،تووہ دن دورنہیں جب دنیاکے وسائل،معیشت، اورحتی کہ سوچنے کااندازبھی چندہاتھوں میں سمٹ کررہ جائے گا۔
تاریخ اپنے آپ کودہراتی نہیں،بلکہ نئے قالب میں سامنے آتی ہے۔اورجوقومیں اس کے اشاروں کونہیں سمجھتیں وہ اس کے دھارے میں بہہ جاتی ہیں۔یہ تحریر اسی شعورکوبیدارکرنے کی ایک ادنی سی کوشش ہے کہ ہم واقعات کونہیں،ان کے پیچھیکارفرما قوتوں کوسمجھیں؛ اورشورمیں نہیں،خاموشی میں چھپی حقیقت کوپہچانیں۔یہ مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتاہے کہ عالمی سیاست میں سچائی اکثرپردے میں چھپی رہتی ہے،اورجوواقعات عام نگاہ میں الگ نظرآتے ہیں،وہ ایک ہم آہنگ حکمت عملی کے تار میں بندھے ہوتے ہیں۔
آخرمیں،یہی کہاجاسکتاہیکہ انسان کیپاس اب بھی انتخاب باقی ہے۔وہ چاہے تواس سراب میں کھوجائے،یاحقیقت کی تلاش میں نکل کھڑا ہو۔وہ چاہے توخاموش تماشائی بن جائے،یابیدارہوکراپنی رائے قائم کرے۔کیونکہ تاریخ صرف طاقتوروں کی نہیں ہوتی، بلکہ ان لوگوں کی بھی ہوتی ہے جوسچ کوپہچان کرخاکستر ہوتے خواب اوربیداری کی صداکے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں،اورشاید یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں فیصلہ کرناہے کہ ہم کس صف میں کھڑے ہیں۔