Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

کیا اب بھی بھٹو زندہ ہے ؟

سندھ کی بیٹی ام رباب اپنے پیاروں کے قاتل تلاش کرنے کے لئے کہاں جائے ؟انصاف کے حصول کے لئے کس کے در پہ سر ٹکرائے؟ دادو کی عدالت نے پیپلز پارٹی کے وڈیروں کو آزادی کا پروانہ تو تھما دیا، لیکن ابھی تک سندھ حکومت، عدلیہ، وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ یہ بتانے کے لئے تیار نہیں ہے کہ اگر قاتل یہ نہیں تھے تو پھر کون تھا؟ ہم نے سنا تھا کہ جس کے قاتل گرفتار نہ ہوں حکومتیں ذمہ دار ہوا کرتی ہیں، سندھ کی بیٹی ام رباب کے پیاروں کے قاتلوں کا ذمہ دار کون ہے؟ ہم 40 سالوں سے یہ سنتے چلے آ رہے ہیں کہ بھٹو زندہ ہے ،یعنی عواکے لئے بھٹو کی جدوجہد اور ویژن زندہ ہے،لیکن میرا یقین ہے کہ اگر بھٹو زندہ ہوتا تو کم از کم وہ ام رباب کی چیخوں پہ توجہ ضرور دیتا، ام رباب کی چیخیں ام رباب کی آہ و بکا ،ام رباب کا رونا یہ بات واضح کر رہا ہے کہ سندھ میں بھٹو زندہ نہیں، بلکہ بھٹو کے نام پر ایک مفاداتی طبقہ زندہ ہے۔ جب کسی بیٹی کی چیخ انصاف کی دہلیز تک پہنچنے سے پہلے ہی خاموش ہو جائے، جب کسی خاندان کے آنسو ریاستی ایوانوں تک رسائی نہ پا سکیں، اور جب قانون کی روشنی مظلوم کے گھر تک نہ پہنچے، تو پھر لفظ انصاف محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔ سندھ کی دھرتی صدیوں سے محبت، ثقافت اور مزاحمت کی علامت رہی ہے، مگر افسوس کہ اسی سرزمین پر آج بھی ایسے واقعات جنم لیتے ہیں جو یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا واقعی ہم ایک انصاف پسند معاشرہ بن چکے ہیں؟ یا ہم صرف نعروں، وعدوں اور سیاسی بیانات کے گرد گھومتے رہ گئے ہیں؟
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی دیوار کمزور پڑی، تب سب سے زیادہ نقصان عام لوگوں نے اٹھایا۔ ایک عام شہری کے پاس نہ طاقت ہوتی ہے، نہ وسائل، نہ رسائی۔ اس کے پاس اگر کچھ ہوتا ہے تو وہ صرف امید ہوتی ہے یہ امید کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہوگی، عدالتیں اس کی آواز سنیں گی، اور حکمران اس کے درد کو محسوس کریں گے۔ لیکن جب یہی امید بار بار ٹوٹ جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر انصاف کی تلاش میں نکلنے والا شخص کہاں جائے؟ کس دروازے پر دستک دے؟ کس سے فریاد کرے؟ ہمارے معاشرے میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہوتی ہے۔ یہ جملہ محض ایک قانونی اصول نہیں بلکہ ایک اخلاقی حقیقت بھی ہے۔ جب مظلوم برسوں تک انصاف کا انتظار کرے تو اس کے زخم وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے اور گہرے ہو جاتے ہیں۔ انصاف صرف فیصلوں کا نام نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی کا نام بھی ہے۔ جب انصاف ملتا ہے تو صرف ایک کیس بند نہیں ہوتا بلکہ ایک معاشرے کا یقین بحال ہوتا ہے۔یہ بات اسی احساس، اسی سوال اور اسی درد کی عکاسی ہے۔ اس کا مقصد کسی پر الزام لگانا نہیں بلکہ ان سوالات ک زندہ رکھنا ہے جو ایک باشعور معاشرے کے لئے ضروری ہیں۔ کیونکہ سوال ہی وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں روشنی پیدا کرتے ہیں۔ جب تک سوال باقی ہیں، تب تک امید باقی ہے اور جب تک امید باقی ہے، تب تک انصاف کی تلاش جاری رہے گی۔ یہی تلاش ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے اور یہی وہ سفر ہے جو ہمیں بہتر مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔ یہ حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے کہ کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس کے بلند و بانگ دعوئوں میں نہیں، بلکہ اس کی عملی انصاف پسندی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب مظلوم کو یقین ہو کہ اس کی فریاد سنی جائے گی، جب ایک عام شہری کو یہ اعتماد ہو کہ قانون سب کے لئے برابر ہے، اور جب ریاست اپنے ہر شہری کو تحفظ دینے کی ذمہ داری کو پورا کرے، تب ہی ایک مضبوط اور باوقار معاشرہ وجود میں آتا ہے۔
انصاف صرف عدالتوں کے فیصلوں سے نہیں بلکہ ریاستی رویوں، سماجی شعور اور اجتماعی ضمیر سے بھی جڑا ہوا ہوتا ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی ایک فرد یا خاندان کا دکھ محض ان کا ذاتی مسئلہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ پورے معاشرے کے احساس اور کردار کا امتحان ہوتا ہے۔ اگر ہم ایسے واقعات کو نظرانداز کرتے رہیں، اگر سوال پوچھنے والوں کو خاموش کر دیا جائے، اور اگر مظلوم کی آواز شور میں دب جائے، تو یہ خاموشی ایک دن پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ ناانصافی کبھی محدود نہیں رہتی وہ آہستہ آہستہ پھیلتی ہے اور بالآخر اجتماعی زندگی کو متاثر کرتی ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ بہت نازک ہوتا ہے۔ اسے بنانے میں برسوں لگتے ہیں مگر ٹوٹنے میں لمحے لگتے ہیں۔ جب عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان کے سوالوں کے جواب نہیں مل رہے، جب انہیں یہ لگے کہ ان کی آواز اہم نہیں، تو پھر فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ ان فاصلوں کو کم کرنے کا واحد راستہ شفافیت، جوابدہی اور انصاف ہے۔ انصاف وہ پل ہے جو ریاست اور عوام کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے، اور یہی پل کسی بھی ملک کی مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔اس موقع پر معاشرے کے ہر فرد کو اپنے کردار پر بھی غور کرنا چاہیے۔ انصاف کا مطالبہ صرف متاثرہ خاندان کا فرض نہیں، بلکہ ہر باشعور شہری کی ذمہ داری ہے۔ جب تک ہم اجتماعی طور پر ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے، تب تک تبدیلی ممکن نہیں ہو سکتی۔ ایک زندہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جو مظلوم کے ساتھ کھڑا ہو، سوال کرے، اور سچ کی تلاش کو اپنا فرض سمجھے۔ یہ عمل مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ امید کا چراغ ہمیشہ اندھیروں میں ہی روشن ہوتا ہے۔ اگرچہ راستہ طویل اور کٹھن دکھائی دیتا ہے، لیکن تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلسل جدوجہد اور سچ کی طاقت آخرکار راستہ بنا لیتی ہے۔ انصاف کی تلاش ایک سفر ہے، اور ہر سفر کی طرح اس میں صبر، استقامت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی حوصلہ معاشروں کو بدلتا ہے اور یہی امید آنے والی نسلوں کے لئے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھتی ہے۔ ہم جیسے صحافتی طالب علم سوالات اٹھاتے رہیں گے،اپنے کالموں میں آواز حق بلند کرتے رہیں گے ،اور امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ کیونکہ جب تک امید باقی ہے، تب تک انصاف کا خواب بھی زندہ ہے۔ یہی خواب ایک مہذب، منصف اور باوقار معاشرے کی ضمانت بن سکتا ہے۔مزید یہ کہ انصاف کی جدوجہد صرف عدالتوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ یہ ایک سماجی شعور بھی پیدا کرتی ہے۔ جب معاشرے کے افراد ظلم کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں تو ریاستی اداروں پر بھی دبا بڑھتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ تاریخ میں ہمیں ایسی بے شمار مثالیں ملتی ہیں جہاں عوامی آواز نے خاموش ایوانوں کو بولنے پر مجبور کیا۔ یہی اجتماعی شعور کسی بھی قوم کی اصل طاقت ہوتا ہے۔سندھ کی سرزمین ہمیشہ مزاحمت اور امید کی علامت رہی ہے۔ اس دھرتی نے نہ صرف ثقافت کو جنم دیا بلکہ سیاسی شعور کو بھی پروان چڑھایا۔ اسی دھرتی سے وابستہ ناموں میں ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر اکثر امید اور عوامی طاقت کی علامت کے طور پر کیا جاتا ہے۔ مگر آج کے حالات یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ہم نے ان نظریات کو صرف نعروں تک محدود کر دیا ہے یا انہیں عملی زندگی میں بھی جگہ دی ہے؟ جب ایک بیٹی انصاف کے لئے دروازے کھٹکھٹاتی ہے، جیسے ام رباب، تو یہ صرف ایک کیس نہیں بلکہ پورے نظام کی آزمائش بن جاتا ہے۔یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں بلکہ سوچنے اور کردار ادا کرنے کا ہے۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ سوال پوچھنے کی روایت کو زندہ رکھے، کیونکہ سوال ہی تبدیلی کی پہلی سیڑھی ہوتے ہیں۔ میڈیا، سول سوسائٹی اور باشعور شہری اگر متحد ہو جائیں تو انصاف کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ ایک مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں مظلوم اکیلا نہ ہو بلکہ پوری قوم اس کے ساتھ کھڑی ہو۔ یہی اتحاد مستقبل میں ایک زیادہ منصفانہ اور باوقار پاکستان کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں