Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

عہدِ آزمائش

یہ وہ عہدہے جس میں تاریخ اپنی رفتارتیزکرچکی ہے، ایسامحسوس ہوتاہے جیسے صدیوں کے واقعات برسوں میں اوربرسوں کے فیصلے لمحوں میں سمٹ آئے ہوں۔بظاہریہ زمانہ ترقی، جمہوریت،انسانی حقوق اور عالمی ہم آہنگی کے سنہرے نعروں سے مزین ہے، مگراس کے پس منظرمیں ایک ایسی خاموش کشمکش جاری ہے جوتہذیبوں،معیشتوں اورنظریات کواندر ہی اندرکھوکھل کررہی ہے۔یہ تضادہی اس دورکاسب سے بڑاالمیہ ہے کہ روشنی کے دعووں کے درمیان اندھیرے اپنی جڑیں مزیدگہری کررہے ہیں۔
یہ وہ زمانہ ہے جہاں تاریخ صرف لکھی نہیں جارہی بلکہ جلتی ہوئی سطروں میں رقم ہورہی ہے۔یہ وہ عہدہے جس میں انسان نے چاند کوتسخیرتوکرلیا، مگرزمین پرامن کومحفوظ نہ رکھ سکا۔ بظاہرترقی، جمہوریت اورعالمی یکجہتی کے خوشنمانعروں سے مزین یہ دور درحقیقت ایک ایسے اضطراب کی تصویرہے جس کے پس منظرمیں طاقت، مفاد اور تسلط کی ایک بے رحم کشمکش جاری ہے۔اگرتاریخ کوایک زندہ وجودتصورکیاجائے توموجودہ زمانہ اس کی دھڑکنوں میں تیزی،اس کی سانسوں میں بے چینی اوراس کی آنکھوں میں ایک انجاناخوف لئے ہوئے ہے۔ عالمی سیاست اب محض اصولوں،معاہدوں اور سفارتی آداب کاکھیل نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسا میدانِ کارزاربن چکی ہے جہاں طاقت، مفاداور برتری کی جنگ کھلے عام لڑی جارہی ہے۔ یہاں الفاظ ہتھیارہیں،بیانیے محاذہیں اور اطلاعات ایک ایسی طاقت بن چکی ہیں جوحقیقت کوبھی اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال سکتی ہے۔
آج کی دنیاایک ایسے موڑپرکھڑی ہے جہاں فیصلے صرف ایوانوں میں نہیں بلکہ میدانوں، منڈیوں اورمیڈیا کے پردوں کے پیچھے ہوتے ہیں۔یہاں سچ کوبیانیے میں ڈھالاجاتاہے اورجھوٹ کوحکمتِ عملی کانام دیاجاتاہے۔تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی طاقت نے اخلاقیات کوپسِ پشت ڈالا،انسانیت نے اس کی قیمت اپنے خون سے اداکی۔یہ تحریر اسی پیچیدہ اور پراسرار عالمی منظرنامے کوسمجھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ اس میں نہ صرف حالیہ سیاسی واقعات کی تہہ تک پہنچنے کی سعی کی گئی ہے بلکہ ان پوشیدہ قوتوں،عزائم اورحکمتِ عملیوں کوبھی بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی ہے جوبظاہرنظرنہیں آتیں مگرعالمی فیصلوں پرگہرا اثرڈالتی ہیں۔ یہ محض معلومات کاانبارنہیں بلکہ ایک فکری سفرہے ایسا سفرجو قاری کو حالات کے ظاہری خدوخال سے آگے لے جاکر ان کے پسِ پردہ حقائق سے روشناس کراتاہے۔
زیرِنظر تحریراسی کربناک حقیقت کی عکاس ہے یہ محض ایک سیاسی تجزیہ نہیں بلکہ ایک فکری صدائے احتجاج ہے،ایک ایساآئینہ جس میں ہم اپنے عہدکی اصل صورت دیکھ سکتے ہیں۔یہ تحریر قاری کوصرف حالات سے آگاہ نہیں کرتی بلکہ اسے سوچنے، پرکھنے اورسوال اٹھانے کی دعوت دیتی ہے کیونکہ یہ وقت خاموش رہنے کانہیں، سمجھنے اورسمجھانے کاہے۔یہ تحریر یک سوال بھی ہے اور ایک انتباہ بھی۔ سوال اس لیے کہ کیا واقعی ہم اس دنیا کو ویسا ہی دیکھ رہے ہیں جیساہمیں دکھایاجارہاہے؟ اور انتباہ اس لیے کہ اگرہم نے اپنے عہدکوسمجھنے میں کوتاہی کی،توہم نہ صرف حال بلکہ مستقبل سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
یہ عہدِآشوب،جس میں سیاست اپنی معنوی روح کھوکرمحض قوت کے کھیل میں ڈھل چکی ہے،تاریخ کے ان نازک موڑوں میں سے ایک معلوم ہوتاہے جہاں واقعات محض واقعات نہیں رہتے بلکہ آنے والے زمانوں کے مقدرات کاپیش خیمہ بن جاتے ہیں۔یہ زمانہ جس میں ہم سانس لے رہے ہیں،بظاہرترقی، جمہوریت اورعالمی ہم آہنگی کازمانہ کہلاتاہے،مگراس کے باطن میں ایک ایسااضطراب موجزن ہے جو تہذیبوں کے تصادم،طاقت کی کشمکش اورمفادات کی جنگ سے عبارت ہے۔اگرتاریخ کوایک دریاتصورکیا جائے توموجودہ عہداس کے اس موڑپرواقع ہے جہاں پانی کی سطح پرسکون دکھائی دیتی ہے مگرنیچے بھنوراپنی پوری شدت کے ساتھ گردش کررہے ہوتے ہیں۔
زیرِنظرموجودہ عالمی سیاسی افراتفری کے تناظر میں ایک ایسی فکری وتحقیقی گزارش پیش کی جارہی ہے جونہ صرف معاصرسیاست کی پرتیں کھولتی ہے بلکہ اس کے پسِ پردہ کارفرما قوتوں،عزائم اورخطرات کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔بلکہ اس تحریرمیں ادبی وقار، فکری گہرائی اورتہذیبی لطافت کے ساتھ ایک ایسااسلوب اختیارکیا گیا ہے جوقاری کومحض معلومات نہیں بلکہ شعور بھی عطا کرے گا۔
یہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ جب عالمی سیاست کے افق پرٹرمپ کے پہلے دورِصدارت کاسورج طلوع ہواتواس کے ساتھ ہی ایک اضطراب انگیزفضابھی پیدا ہوئی۔ٹرمپ کاپہلا دورِ صدارت محض ایک جمہوری انتخاب کانتیجہ نہیں تھابلکہ یہ عالمی طاقتوں کے توازن میں ایک نمایاں تبدیلی کاآغازتھا۔راقم نے اسی زمانے میں اپنے مضامین میں یہ خدشہ ظاہرکیا تھاکہ یہ دورمحض ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسے طوفان کاپیش خیمہ ہے جس کے بطن میں عالمی جنگ کے آثارپوشیدہ ہیں۔اس دورمیں امریکی خارجہ پالیسی نے روایتی سفارتکاری کو پسِ پشت ڈال کرجارحانہ اندازاختیارکیا۔
ٹرمپ کی جنگجویانہ پالیسیوں میں وہ جنون نمایاں تھاجوعقل وتدبرکے بجائے قوت وتصادم کوترجیح دیتاہے۔اس کے ساتھ اسرائیل کا مفاداتی کردار اور خاص طورپرٹرمپ کے یہودی نژا داماد کی قربت،ایک ایسی مثلث کی تشکیل کررہاتھاجس کے زاوئیے عالمِ اسلام کی سمت متعین تھے۔ایران کے ساتھ کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی غیرمشروط حمایت ،اورعالمی اداروں کی تضحیک یہ سب اس بات کی علامت تھے کہ دنیاایک نئے طرزِحکمرانی کی طرف بڑھ رہی ہے۔یہی وہ لمحہ تھاجب ایک صاحبِ نظر کے لئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ اگراس روش کونہ روکاگیاتویہ دنیاکوایک بڑے تصادم کی طرف لے جاسکتی ہے۔ایران کواس کھیل کانقط آغازقراردینا اورپھرسنی ممالک کومسلکی کشمکش میں الجھادینایہ سب ایک ایسے شطرنجی کھیل کی چالیں تھیں جن کامقصد مسلم دنیاکواندرسے کمزورکرناتھا۔
جب یہ خیالات منظرعام پرآئے تومغربی دنیا، خصوصاً امریکی قارئین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ان کے نزدیک یہ تجزیہ محض ایک مبالغہ تھا۔جب اس تجزیے کوپیش کیا گیا تومغربی قارئین نے اسے محض ایک سازشی نظریہ قراردیا۔ان کے نزدیک ٹرمپ ایک غیرروایتی مگرمؤثر لیڈرتھا۔یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مغربی دنیااکثراپنی پالیسیوں کو جمہوریت ،امن اورترقی کے لبادے میں پیش کرتی ہے،جبکہ مشرقی دنیاان پالیسیوں کے اثرات کواپنی سرزمین پرمحسوس کرتی ہے۔یہی فرق ادراک،اختلافِ رائے کوجنم دیتاہے۔
انہوں نے یہ سوال اٹھایاکہ جب پاکستان جیساملک ٹرمپ کونوبل امن انعام کے لئے نامزدکر رہا ہے اوراس کے وزیراعظم اسے جنوبی ایشیاء کوایٹمی جنگ سے بچانے والا قراردے رہے ہیں،توپھریہ اندیشہ کیوں؟ یہ سوال درحقیقت اس فکری خلیج کی نشاندہی کرتاہے جومغربی بیانیے اورمشرقی مشاہدے کے درمیان حائل ہے۔
تاریخ کاایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ جلد یا بدیراپنے فیصلے سناتی ہے۔ٹرمپ نے غزہ میں جاری مظالم کوروکنے کی بجائے اسرائیل کی پشت پناہی کی اور یوں یہ حقیقت آشکارہوگئی کہ وہ اورنیتن یاہو ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔جب غزہ میں مظالم اپنے عروج پرپہنچے اورعالمی ضمیرخاموش تماشائی بنارہا،تویہ واضح ہوگیاکہ انسانی حقوق کانعرہ محض ایک سیاسی ہتھیارہے۔ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کی کھلی حمایت نے اس حقیقت کو مزیدعیاں کردیاکہ عالمی سیاست میں اخلاقیات کی کوئی مستقل حیثیت نہیںیہ محض مفادات کے تابع ہوتی ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں