Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

انڈیا!شرم تم کو مگر نہیں آتی

انڈیا کے وزیرخارجہ جے شنکر نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ ایران کے درمیان دلال کا کردار ادا کررہا ہے، ہدزبانی کی کیفیت سے گزرتے ہوئے بھان متی کا کنبہ مودی سرکار ذلت رسوائی کے اتھاہ گہرائیوں میں گر چکا ہے، اسے دو ملکوں کے درمیان جنگ روک کر صلح کرانے کی شدید تکلیف ہے، کیونکہ یہ سارا کریڈٹ پاکستان کے نام ہورہاہے اگر صلح کرانا دلالی ہے تو سب سے بڑی دلال مودی سرکار اور اسکے ہمنوا ہیں، جب انھوں نے پاکستان کے ساتھ پنگا لیا تھا اور پھر پاکستانی بہادر افواج نے انکو مارمار کر سبق سکھایا تو مودی سرکار نے خود دلال بن کر امریکن صدر ٹرمپ سے جنگ بند کرانے کی اپیل کی، مودی اینڈ کمپنی کی یہی وہ دلالی تھی کہ جو پاکستان انڈیا کی جنگ بند کرانے پر امریکی صدر ٹرمپ کو۔ مجبور کر گئی ، انڈین میڈیا اور عوام مودی سرکار کی ذلت کے گیت گا رہے ہیں، انڈین ٹی وی چینلز پر اینکر پاکستان کی بہترین سفارت کاری کو سراہ رہے ہیں، بھارت اس وقت دنیا میں ایک کمزور، نحیف مریض کی طرح نظر آرہا ہے، حنگ بنیان مرصوص میں لگنے والے زخموں کو ابھی تک چاٹ رہا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان کی بہترین سفارتکاری ڈپلومیسی سے عالم اسلام اور مغربی دنیا استفادہ کیلیے کوشاں ہے فیلڈمارشل حافظ سید عاصم منیر وزیراعظم شہبازشریف وزیرخاجہ اسحاق ڈارکمال سیاسی حکمت عملی کے ساتھ جنگ بندی کیلیے امریکہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کررہے ہیں الحمدللہ پاکستان، طاقت قوت حکمت دانشمندی کی وجہ سے اس وقت مرکزنگاہ ہے اللہ تعالی پاک سرزمین کو نظر بد سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمینجنوبی ایشیا کی سیاست ہمیشہ جذبات، بیانیوں اور سفارتی کشمکش کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اس خطے کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں صرف سرحدوں پر ہی نہیں بلکہ الفاظ، بیانات اور سفارتی محاذوں پر بھی مسلسل جنگ جاری رہتی ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر کے اس بیان نے ایک بار پھر دونوں ممالک کے تعلقات کو بحث کا موضوع بنا دیا۔ ان کے متنازع الفاظ نے نہ صرف سفارتی حلقوں میں ہلچل پیدا کی، بلکہ میڈیا اور عوامی سطح پر بھی ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جنوبی ایشیا میں بیانیہ بھی ایک ہتھیار ہے اور سفارتکاری بھی ایک محاذ۔پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی تاریخ کشیدگی، جنگوں، مذاکرات اور وقفے وقفے سے آنے والی امیدوں سے بھری پڑی ہے۔بھارت پاکستان کا پڑوسی ملک ہے،مگر بدقسمتی سے وہاں کے حکمرانوں کے اکھنڈ بھارت کے خواب نے پاکستان کے ساتھ ہمیشہ کشیدگی کو برقرار رکھا۔ ہر دور میں جب بھی خطے میں کوئی بڑی سفارتی سرگرمی سامنے آتی ہے تو دونوں ممالک اپنے اپنے مؤقف کو عالمی سطح پر منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔دنیا اب بدل چکی ہے۔ آج کی سیاست صرف طاقت کے مظاہرے تک محدود نہیں بلکہ سفارتی مہارت، عالمی روابط اور بیانیے کی طاقت بھی اتنی ہی اہم ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی ملک کسی بین الاقوامی تنازع میں ثالثی یا رابطہ کاری کا کردار ادا کرتا ہے تو اسے عالمی سطح پر توجہ حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف یہی ہے کہ وہ خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ بھارت اس بیانیے کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتا ہے۔بھارت کی موجودہ حکومت، جس کی قیادت وزیر اعظم نریندر مودی کر رہے ہیں، خود کو عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ بھارت کی معیشت، ٹیکنالوجی اور عالمی شراکت داریوں میں اضافہ ممکن ہے حقیقت ہو۔ مگر عالمی سیاست میں طاقت صرف معیشت سے نہیں، بلکہ سفارتی اثر و رسوخ سے بھی ماپی جاتی ہے۔ یہی وہ میدان ہے جہاں پاکستان اپنے کردار کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ بتاتی ہے کہ ثالثی کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں بھی اکثر تنازعات کو حل کرنے کے لیے کسی تیسرے فریق کی مدد لیتی ہیں۔ ناروے، قطر اور ترکی جیسے ممالک نے کئی تنازعات میں ثالثی کر کے عالمی سطح پر اپنی اہمیت ثابت کی۔ اسی تناظر میں اگر پاکستان کسی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے سفارتی سرگرمی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔2019 کی پاک بھارت کشیدگی اس حقیقت کی ایک بڑی مثال ہے۔ اس دوران حالات اس قدر سنگین ہو گئے تھے کہ دنیا کو خدشہ تھا کہ دونوں ایٹمی طاقتیں کسی بڑے تصادم کی طرف بڑھ سکتی ہیں۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی پیشکش کی۔ اس واقعے کو دونوں ممالک آج بھی اپنے اپنے انداز میں بیان کرتے ہیں۔ پاکستان اسے اپنی سفارتی اور دفاعی کامیابی قرار دیتا ہے جبکہ بھارت اسے مختلف زاویے سے دیکھتا ہے۔میڈیا نے اس بیانیے کی جنگ کو مزید تیز کر دیا ہے۔ آج ہر بیان چند منٹوں میں عالمی سطح پر پہنچ جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں عوامی رائے بھی سفارتکاری کا حصہ بن چکی ہے۔ بھارتی میڈیا میں بعض حلقے پاکستان پر تنقید کرتے ہیں جبکہ کچھ تجزیہ کار خطے میں امن کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ اسی طرح پاکستانی میڈیا بھارت کی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے اور اپنی سفارتی کامیابیوں کو اجاگر کرتا ہے۔پاکستانی حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک اس وقت فعال سفارتکاری کے ذریعے عالمی سطح پر اپنا مثبت کردار اجاگر کر رہا ہے۔ اس حکمت عملی میں فوجی اور سیاسی قیادت دونوں شامل ہیں۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل حافظ سید عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو حکومت کی جانب سے ایک مشترکہ سفارتی ٹیم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو خطے میں امن اور استحکام کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔عالمی منظرنامہ اس وقت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان مسابقت، روس یوکرین جنگ، اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نے دنیا کو ایک نئی سمت میں دھکیل دیا ہے۔ ایسے میں جنوبی ایشیاء کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ خطہ نہ صرف آبادی کے لحاظ سے اہم ہے بلکہ تجارتی راستوں اور جغرافیائی محل وقوع کے باعث بھی عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔بھارت اپنی معاشی طاقت اور عالمی شراکت داریوں کے ذریعے عالمی سیاست میں بڑا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، دفاعی صلاحیت اور سفارتی روابط کو اپنی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہی مقابلہ اکثر بیانات اور جوابی بیانات کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیانیے خطے کے عوام کے لیے فائدہ مند ہیں؟ جنوبی ایشیاء دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں غربت، بے روزگاری اور ترقی کے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ اگر دونوں ممالک اپنی توانائیاں کشیدگی کی بجائے تعاون پر صرف کریں تو یہ خطہ دنیا کے سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے علاقوں میں شامل ہو سکتا ہے۔امن صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک معاشی ضرورت بھی ہے۔ تجارت، سرمایہ کاری اور ترقی کا راستہ امن سے ہو کر گزرتا ہے۔ جب تک کشیدگی برقرار رہے گی، ترقی کا سفر سست رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری ہمیشہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتی ہے۔سفارتکاری کو کسی بھی نام سے پکارا جائے، حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں وہی ممالک کامیاب ہوتے ہیں جو پل بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تنازعات کو کم کرنا کمزوری نہیں، بلکہ طاقت کی علامت ہے۔ جنوبی ایشیا کو بھی اسی سوچ کی ضرورت ہے۔بیانیے وقتی فائدہ دے سکتے ہیں، مگر دیرپا کامیابی عملی اقدامات سے حاصل ہوتی ہے۔ عوام امن چاہتے ہیں، نوجوان مواقع چاہتے ہیں اور معیشت استحکام چاہتی ہے۔ یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب خطے کے ممالک تعاون کی راہ اپنائیں۔

یہ بھی پڑھیں