Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ٹرمپ کے کیا کہنے؟

ڈونلڈ ٹرمپ کے کیا کہنے؟ وہ انسانوں پر رعب ڈالنے کا کوئی موقعہ ضائع جانے نہیں دیتا، میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ،وائٹ ہاس میں منعقد ہونے والے عیدِ فصح (ایسٹر) کے ایک نجی عشائیے کی ویڈیو نے اس وقت ہنگامہ برپا کر دیا ہے، جب اسے غلطی سے سرکاری ویب سائٹ پر اپلوڈ کر دیا گیا، جس کے بعد اسے فوری طور پر ہٹا دیا گیا۔ یہ تقریب محدود نوعیت کی تھی، جس میں مذہبی رہنما اور ٹرمپ انتظامیہ کے اہم اراکین شریک تھے اور اس کی ویڈیو عوام کے لئے جاری کرنا مقصود نہیں تھا۔برطانوی ویب سائٹ ’’آئی پیپر‘‘میں شائع مضمون کے مطابق، جسے صحافیہ Sarah Baxter نے تحریر کیا، ایک صحافی اس ویڈیو کو مکمل طور پر محفوظ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر ایسی کیا بات تھی، جسے امریکی انتظامیہ عوام سے چھپانا چاہتی تھی؟ اس ویڈیو میں ٹرمپ نے تقریبا ً40منٹ طویل خطاب کیا، جس میں انہوں نے مذہبی اور سیاسی علامات کو یکجا کرتے ہوئے خود کو ایک غیر معمولی رہنما کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے عیسائی مذہبی حوالوں، خصوصاً ’’قیامت‘‘ اور ’’ہفت آلام‘‘ (Holy Week) کا ذکر کرتے ہوئے اپنی قیادت کو ایک روحانی رنگ دینے کی کوشش کی۔ ٹرمپ نے اپنی ذات کا موازنہ امریکی تاریخ کی اہم شخصیات جارج واشنگٹن اور ابراہام لنکن سے بھی کیا، جسے مبصرین نے غیر معمولی اور متنازع قرار دیا۔ مصنف کے مطابق اس تقریب نے ٹرمپ کی مذہبی و سیاسی سوچ کے ایک نئے پہلو کو بھی بے نقاب کیا۔ ان کے بیانیے میں روایتی مسیحی تعلیمات جیسے برداشت اور درگزر کے بجائے طاقت، غلبہ اور انتقامی سیاست کو زیادہ نمایاں دیکھا گیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جن سرکاری اداروں یا شخصیات نے ان کی پالیسیوں پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا، انہیں دبائو یا نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید یہ کہ ٹرمپ کو امریکہ میں ایک بڑے طبقے، خاص طور پر عیسائی انجیلی حلقوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے، جو انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں جو ان کے مذہبی نظریات کی نمائندگی کرتا ہے۔ انجیلی حلقوں کا گویا یہ نظریہ بن چکا ہے کہ ٹرمپ ’’خدا کی مرضی نافذ کرنے والا‘‘رہنما ہے۔آخر میں مصنفہ نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ عشائیہ دراصل ٹرمپ کے خود کو ایک سیاسی اور مذہبی علامت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کا عکاس تھا، جہاں مذہبی علامتوں کو سیاسی طاقت کے ساتھ جوڑ کر ایک مضبوط بیانیہ تشکیل دیا گیا، جو انہیں مسلسل اقتدار میں رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔اس کے ساتھ ہی ٹرمپ کے وزیر جنگ Pete Hegseth نے بھی امریکی عوام سے اپیل کی کہ وہ مشرقِ وسطی میں فوجی فتح کے لئے ’’ہر روز اور گھٹنوں کے بل‘‘دعا کریں اور یہ سب ’’حضرت مسیح کے نام پر‘‘کیا جائے۔ تاہم اس کے برعکس، ویٹی کن پوپ Pope Leo XIV جو امریکہ میں پیدا ہوئے، نے اس حوالے سے بالکل مختلف مقف پیش کیا ہے کہ مسیح کے نام پر کیا کیا جانا چاہیے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ، جسے روم سے Motoko Rich نے تحریر کیا، کے مطابق پوپ نے گزشتہ جمعرات ایسٹر سے قبل ایک مذہبی عبادت (قداس)میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسیحی پیغام کو اکثر ’’غلبہ حاصل کرنے کی خواہش‘‘کی وجہ سے مسخ کر دیا گیا ہے، حالانکہ یہ رویہ حضرت مسیح کی تعلیمات کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اصل مسیحی تعلیمات طاقت کے اظہار یا جنگی برتری کے بجائے عاجزی، محبت اور امن پر مبنی ہیں اور انہیں سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
دوسری طرف امریکی صدرٹرمپ نے ایران کو دی گئی 48 گھنٹوں کی مہلت کا اختتام قریب آتے ہی دوبارہ سخت ترین دھمکی دی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے دو دن میں معاہدہ نہ کیا یا آبنائے ہرمز کھولنے کی ضمانت نہ دی تو اسے جہنم کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ دھمکی سیاسی اور عسکری دونوں لحاظ سے انتہائی سنگین سمجھی جا رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار امریکی دھمکی محض بیان بازی نہیں بلکہ اس کے پیچھے عملی تیاری بھی موجود ہے۔ واشنگٹن نے خطے میں جنگی طیارے تعینات کئے ہیں اور زمینی دستوں کی تعیناتی بھی مکمل کر دی ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ اگر مہلت ختم ہوئی تو فورا کوئی عسکری اقدام کیا جا سکتا ہے۔ تاہم مکمل جنگ کے نتائج انتہائی مہنگے اور خطرناک ہوں گے اور اس کا عالمی اقتصادی اور انسانی نقصان بے پناہ ہوگا۔تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ اس دبائو کو ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ ایران سے آخری لمحات میں بڑی رعایتیں حاصل کی جا سکیں اور اسے اپنی سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا سکے۔دوسری جانب ایران کی مزاحمت، جیسے امریکی طیارے کا گرایا جانا، اس بات کا اشارہ ہے کہ تہران دبائو کے باوجود جھکنے والا نہیں۔ ایرانی قیادت کو اندازہ ہے کہ امریکی زمینی حملے کے امکانات محدود ہیں، خاص طور پر اصفہان اور جزیرہ خارک جیسے پیچیدہ علاقوں میں۔ اس لئے ایران کا ردعمل سخت اور محتاط دونوں ہے، تاکہ انسانی اور معاشی نقصان کے باوجود دفاع کا موقف مضبوط رہے۔ایران کو بھاری انسانی اور معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق ہزاروں افراد قتل، زخمی اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ تعلیمی اور ثقافتی ادارے بھی شدید نقصان سے دوچار ہوئے ہیں۔ تاہم ایرانی قیادت نے مزاحمت کی پالیسی جاری رکھی ہے اور وہ مذاکرات میں صرف اس صورت میں دلچسپی لے گی جب اپنے بنیادی مفادات کی ضمانت ملے۔ اسرائیل اس صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان دکھائی دیتا ہے، کیونکہ تل ابیب کو خطرہ ہے کہ اگر امریکہ اور ایران اچانک کسی معاہدے پر پہنچ گئے تو اسرائیل بغیر کسی بڑی پیش رفت کے اس تنازع سے باہر نکل جائے گا۔ اسرائیلی فوج اور سیاستدان اسی خدشے کے پیش نظر جنگ کے خاتمے سے زیادہ اس کی شدت برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔ماہرین کے مطابق موجودہ مرحلہ آخری دبائو کی مانند ہے، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے پر زیادہ سے زیادہ دبائو ڈال کر اپنی مطلوبہ شرائط حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم عالمی اور انسانی نقطہ نظر سے اس کا واحد پائیدار حل ابھی بھی سفارتی مذاکرات اور سیاسی سمجھوتے میں مضمر ہے۔

یہ بھی پڑھیں