Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

جھوٹ کا نقاب، سچ کا انکشاف

( گزشتہ سے پیوستہ)
حالیہ بیانات اور اقدامات نے خطے میں نئی صف بندیاں پیداکردی ہیں۔طاقتورممالک کے درمیان اتحاد اورمخالفت کے نئے زاوئیے سامنے آ رہے ہیں، جس سے عالمی سیاست مزیدپیچیدہ ہوگئی ہے۔یہ صورت حال اس بات کی غمازہے کہ دنیا ایک نئے جیوپولیٹیکل دورمیں داخل ہورہی ہے، جہاں پرانے اتحادٹوٹ رہے ہیں اورنئے تعلقات تشکیل پارہے ہیں۔عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت نئے اتحاد تشکیل دے رہی ہیں،جس سے عالمی توازن متاثر ہو رہاہے۔بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے ایران کے خلاف اسرائیل کی حمایت میں بیانات نے خطے میں کشیدگی کونئی جہت دی ہے۔یہ صورت حال اس امرکی غمازہے کہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے لئے علاقائی توازن کوداؤپر لگارہی ہیں۔
ایران اورفلسطینی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردارکوسراہنااس بات کاثبوت ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دارقوت اورمعاملہ فہم ریاست کے طورپر ابھررہا ہے۔ایران کی جانب سے ’’بلینک چیک ‘‘جیسا اظہارِ اعتماد سفارتی تاریخ میں ایک اہم موڑکی حیثیت رکھتاہے۔یہ اعتماد محض الفاظ کاکھیل نہیں بلکہ ایک طویل سفارتی جدوجہدکانتیجہ ہے،جس میں پاکستان نے مسلسل توازن اوراعتدال کی پالیسی اپنائی ہے اوریہ اعتمادسفارتی کامیابی کااہم سنگِ میل ہے۔
پاکستان میں امن مذاکرات کے لئے علاقائی ممالک کی شرکت ایک مثبت پیش رفت ہے۔ سعودی عرب،ترکی اوردیگر ممالک کی شمولیت اس بات کااشارہ ہے کہ دنیااب تصادم کی بجائے مکالمے کی طرف بڑھ رہی ہے جوامن وسلامتی کی طرف لے کرجاتاہے۔اگریہ سلسلہ جاری رہاتویہ خطے کے لئے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔روس اورچین کی جانب سے پاکستان کے اقدامات کی حمایت عالمی سطح پرایک اہم پیش رفت اور ایک اہم تبدیلی کااشارہ ہے۔یہ اس بات کی علامت اور ثبوت ہے کہ عالمی طاقتیں بھی اب یکطرفہ جبر، جارحیت اورظلم کی پالیسیوں کے بجائے متوازن نقطہ نظراورحکمت کو اہمیت دی جارہی ہے ۔
خودبھارت میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پرتنقید اس بات کا ثبوت ہے کہ داخلی سطح پرشدید اختلافات موجود ہیں، جواس کی عالمی پوزیشن کومتاثر کر رہے ہیں اورمودی کی مکارانہ پالیسیوں کوقبولیت حاصل نہیں۔اب توعام عوام بھی مودی کے اس شرمناک کردارپر انگلیاں اٹھارہے ہیں کہ ہندوستان کی کبھی ایسی سبکی نہیں ہوئی اوربالخصوص مودی نے ایران اور فلسطین کودھوکہ دے کریہ تمثیل’’بغل میں چھری اورمنہ میں رام رام‘‘درست ثابت کردی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق مودی افغانستان کے ذریعے پراکسی جنگ کودوبارہ فعال کرنے کی کوشش کررہا ہے، جو کہ اب اس خطے کیلئے نہایت خطرناک ہیں۔یہ حکمت عملی ماضی میں بھی تباہ کن نتائج کاسبب بنی ہے اوراگر دوبارہ دہرائی گئی تواس کے اثرات مزیدشدیدہو سکتے ہیں۔
ایران میں داخلی انتشارپیداکرکے اسے شام جیسی صورتحال میں دھکیلنے کی کوششیں ناکام ہوئیں اور ایران میں رجیم چینج کی کوششوں کاناکام ہونااس بات کی دلیل ہے کہ داخلی استحکام اورعوامی حمایت کسی بھی بیرونی مداخلت کوناکام بناسکتی ہے۔جس میں پاکستان کی حکمت عملی کاکردار نمایاں رہا۔ امریکی پالیسیوں میں تضادات عالمی سیاست کی پیچیدگی کوظاہر کرتے ہیں۔ عالمی طاقتیں بھی اب غیر یقینی صورتحال کاشکارہیں۔ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اوردوسری طرف دباؤ بڑھایا جاتاہے ،یہ دوہرامعیارعالمی اعتمادکو مجروح کرتا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کودوبارہ استعمال کرنے کی کوششیں عالمی سیاست میں ان کی ناکامی کے اعتراف کوظاہرکرتی ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے انکار اس بات کاثبوت ہے کہ اب ریاستیں زیادہ خودمختارفیصلے کر رہی ہیں۔ سعودی عرب اوردیگر عرب ممالک کے حوالے سے بیانات نے خطے میں بے چینی پیداکی ہے اوریہ تاثرمضبوط ہورہا ہے کہ عالمی طاقتیں یکطرفہ مفادات پرمبنی ہیں اور اپنے مفادات کیلئے اسرائیل کو ترجیح دے رہی ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مشرقِ وسطی ایک بارپھر بڑی تبدیلیوں کے دہانے پرکھڑاہے۔
توانائی سپلائی لائنزکومتاثرکرنے کی کوششیں اس بات کاثبوت ہیں کہ یہ تنازع صرف عسکری نہیں بلکہ معاشی جنگ بھی ہے۔چین جیسے بڑے اقتصادی طاقت کوکمزورکرناعالمی سیاست کاایک اہم ہدف بن چکاہے۔ ایران اوروینزویلاکے ذریعے چین کی توانائی سپلائی لائن کومتاثر کرنے کی کوششیں اس بات کاثبوت ہیں کہ یہ تنازع محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی معاشی جنگ کاحصہ ہے۔ یادرہے کہ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعدایران کے توانائی وسائل اورافزودہ یورینیم پرکنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں ایک بڑے تصادم کاپیش خیمہ بن سکتی ہیں یہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیاکے لئے خطرناک ہے۔
ان تمام حالات کے تناظرمیں دنیاکو تباہی سے بچانے کے لئے چند بنیادی اقدامات ناگزیرہیں۔ عالمی سطح پرشفافیت کوفروغ دیاجائے۔ مکالمے اورسفارتکاری کو ہرحال میں جنگ پرترجیح دی جائے۔ علاقائی تعاون کو فروغ اوراتحادکومضبوط بنایا جائے۔ عالمی اداروں کو غیرجانبدار اور موثربنایا جائے۔ میڈیاکوذمہ داری کا مظاہرہ کرناچاہیے۔
انسانی حقوق کوہرپالیسی کامرکزبنایاجائے۔ ٭ انسانی حقوق کوسیاسی مفادات پرفوقیت دی جائے۔ میڈیاکوذمہ دارانہ کرداراداکرنے کاپابند بنایاجائے-
دنیاکی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ طاقت کے کھیل ہمیشہ دیرپانہیں ہوتے،مگران کے اثرات نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔یہ دنیااگرچہ سازشوں، مفادات اورطاقت کی کشمکش میں الجھی ہوئی ہے، کشیدگی اورعدم اعتمادکے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، مگر تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ تاریکی کبھی دائمی نہیں ہوتی،ہرتاریکی کے بعدسویر اضرور ہوتاہے۔شرط یہ ہے کہ قومیں ہوش کے ناخن لیں، اورقیادتیں ذاتی مفادات سے بالاہو کر انسانیت کے وسیع ترمفادکو مقدم رکھیں۔اگرقیادتیں بصیرت، دیانت اور انسانیت کواپناشعا بنالیں تویہی دنیا امن کاگہوارہ بن سکتی ہے۔یوں شایدیہ زمین،جوآج بارودکی بوسے بوجھل ہے،کل امن کے پھولوں سے مہک اٹھے۔ امیدکی ایک کرن ہمیشہ باقی رہتی ہے۔یہی امیدہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ اورجوآج بھی انسانیت کے چراغ کوروشن رکھے ہوئے ہے کہ کل کاسورج شایدآج کی دھندکو چیرکرایک نئی روشنی لے کرطلوع ہو۔
پس، ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم محض واقعات کے تماشائی نہ بنیں بلکہ حقیقت کے متلاشی بن کرایک بہتراورپرامن دنیاکی تشکیل میں اپناکردارادا کریںکہ یہی تاریخ کاتقاضاہے اوریہی انسانیت کا مقدر بھی۔

یہ بھی پڑھیں