Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

امارات سے فاصلے کیوں؟

(گزشتہ سے پیوستہ)
2016ء کے بعدایران اورسعودی عرب کے تعلقات شدیدکشیدگی کاشکاررہے، لیکن2023ء میں ان میں بہتری نے ایک نئی امیدپیداکی گویا تعلقات کی بحالی نے اس حقیقت کو اجاگرکیاکہ مشرقِ وسطیٰ میں دشمنی ہمیشہ مستقل نہیں رہتی ۔یمن کی جنگ دراصل علاقائی طاقتوں کی پراکسی جنگ ہے،جہاں مقامی گروہ بڑے سیاسی کھیل کے مہرے ہیں۔یمن کی جنگ میں امارات کاکردار نہایت پیچیدہ رہاہے،جہاں حوثیوں کیخلاف عسکری کارروائیاں اوربعدمیں جزوی انخلاایک متضاد حکمتِ عملی کی نشاندہی کرتاہے۔یہ وہ حصہ ہے جہاں جنگیں باضابطہ نہیں ہوتیں بلکہ انکاراورالزام کے پردے میں چلتی ہیں۔تحقیقات کے مطابق یمن میں مختلف گروہوں کی حمایت اورخفیہ کارروائیوں نے اس جنگ کومزید پیچیدہ بنا دیا ۔2025ء میں سعودی اتحاداوراماراتی حمایت یافتہ گروہوں کے درمیان اختلافات نے خطے کو ایک نئے بحران میں دھکیل دیا۔یہ خطہ اب ایک ایسامیدان ہے جہاں مختلف اتحادی خودایک دوسرے کے مخالف ہوچکے ہیں۔
ادھردوسری طرف شام کی عرب لیگ میں واپسی محض سفارتی نہیں بلکہ اماراتی سفارت کاری کی ایک بڑی کامیابی اورسیاسی بحالی سمجھی جاتی ہے۔یہ اقدام عرب دنیامیں ایک نئے مفاہمتی دورکی علامت تھا۔دمشق میں سفارت خانے کادوبارہ کھلنادراصل تعلقات کی خاموش بحالی تھی۔کوروناوبا کے دوران انسانی ہمدردی نے سیاسی فاصلے کم کرکے گم گشتہ روابط کی دوبارہ بنیادرکھ دی۔کورونانے دنیاکویہ سکھایاکہ بحران میں دشمنیاں ثانوی ہوجاتی ہیں۔تجارتی وفودکاتبادلہ تعلقات کی بحالی کی عملی شکل تھا۔تجارت اکثروہ راستہ ہے جس سے سیاست اپنے بنددروازے کھولتی ہے۔یہ دورہ عرب دنیامیں شام کی تنہائی کے خاتمے کااعلان تھا۔
سیاسی تاریخ میں کئی فیصلے عوامی نہیں ہوتے بلکہ خفیہ راستوں سے انجام پاتے ہیں۔بعض اوقات طیارے صرف انسان نہیں بلکہ سیاسی حقیقتیںبھی منتقل کرتے ہیں۔تحقیقات کے مطابق شامی قیادت کے بعض عناصر کا امارات میں منتقل ہونااس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاست کبھی کبھی پردوں کے پیچھے لکھی جاتی ہے،جہاں طیارے صرف سفرنہیں کرتے بلکہ تاریخ کے صفحات بھی منتقل کرتے ہیں۔سیاسی تاریخ میں بعض اوقات وہ فیصلے جوبظاہرعوامی سطح پردکھائی نہیں دیتے،دراصل ریاستوں کی اصل سمت متعین کرتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بعض اوقات وہ حقیقتیں زیادہ اہم ہوتی ہیں جودکھائی نہیں دیتیں۔ شام کابحران محض ایک خانہ جنگی نہیں تھابلکہ بیسویں اوراکیسویں صدی کی سب سے پیچیدہ جغرافیائی سیاسی کہانیوں میں سے ایک ہے۔شام کے سیاسی بحران کے دوران بشار الاسدکی حکومت نہ صرف داخلی بقاکی جنگ لڑرہی تھی بلکہ خارجی سطح پربھی کئی خفیہ اورنیم خفیہ روابط
میں الجھی ہوئی تھی۔ بشارالاسدکی حکومت، جو ایک وقت میں مکمل تنہائی کاشکارہوچکی تھی،رفتہ رفتہ ایک ایسے عمل سے گزری جسے سفارتی اصطلاح میں تدریجی بحالی کہاجاسکتاہے ۔ متحدہ عرب امارات نے اس دوران دمشق کے ساتھ روابط کومکمل طورپرمنقطع نہیں کیابلکہ ایک محتاط مگرانتہائی محتاط سفارتی راستہ اختیارکیا۔
یہ وہ دنیاہے جہاں طیارے صرف انسانوں کونہیں لے جاتے بلکہ سیاسی مستقبل کوبھی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں۔بعض تحقیقات کے مطابق قیمتی سامان اوراہلِ خانہ کی منتقلی نے اسد حکومت کی داخلی وخارجی کیفیت کوبھی ظاہرکیاکہ ریاستیں جب بحران میں داخل ہوتی ہیں توان کاغیرمرئی ڈھانچہ زیادہ متحرک ہو جاتا ہے۔بعض باوثوق ذرائع کے مطابق اس عرصے میں مالی،سفری اورسفارتی سطح پرایسے اقدامات ہوئے جنہوں نے اسدحکومت کی تنہائی کو کم کرنے میں کردار ادا کیا۔مثلاًشام کے سابق صدربشار الاسدکے گرد جو واقعات سامنے آئے،ان میں ایک پہلویہ بھی ہے کہ ان کی حکومت کے بعض قریبی حلقوں نے مالی وسفری سطح پرایسے اقدامات کیے جنہوں نے خلیجی ریاستوں، خصوصاً متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کوایک نئی جہت دی۔ یہ وہ مرحلہ تھاجہاں خلیجی سیاست ایک نئے رجحان کی طرف مڑرہی تھی:تنہائی کے بجائے تدریجی انضمام۔
متحدہ عرب امارات نے اس مرحلے پر جو حکمتِ عملی اختیارکی وہ روایتی سفارت کاری سے مختلف تھی۔ اس نے ایک محدود سفارتی دروازہ کھلارکھنے کی پالیسی اپنائی۔اس حکمتِ عملی کا مقصدیہ تھاکہ شام جیسے ممالک کومکمل طورپرمخالف بلاک میں دھکیلنے کی بجائے انہیں ایک محدوددائرے میں واپس لایاجائے۔دمشق کے ساتھ روابط کی بحالی دراصل اس وسیع ترسوچ کاحصہ تھی جس میں خطے کی ریاستیں یہ سمجھنے لگی تھیں کہ مکمل تنہائی اکثرمزید عدم استحکام پیداکرتی ہے۔یہ وہ لمحہ تھاجہاں مشرقِ وسطیٰ میں سفارت کاری نظریاتی بنیادوں سے ہٹ کرعملی مفادات کے گرد گھومنے لگی۔
لیبیاکامعاملہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ جب مرکزی ریاستی ڈھانچہ کمزورپڑجائے توعلاقہ کس طرح طاقت کے مختلف مراکزمیں تقسیم ہو جاتا ہے۔ 2011ء کے بعدلیبیامحض ایک ملک نہیں رہابلکہ طاقت کے تجربات کی ایک زندہ تجربہ گاہ بن گیا۔ معمرقذافی کے خاتمے کے بعد جو خلا پیداہوا،وہ نہ صرف مختلف مسلح گروہوں اورعلاقائی طاقتوں کے درمیان تقسیم ہوگیابلکہ مختلف مسلح گروہوں،قبائلی اتحادوں اوربیرونی طاقتوں کے درمیان ایک پیچیدہ جنگ کاسبب بن گیا۔ لیبیاایک ایسی ریاست بن گیاجوریاست سے زیادہ خطہ تنازع بن چکا تھا۔ مرکزی حکومت کا تصور کمزورہوا تو مختلف مسلح گروہوں نے خلاپرقبضہ کرناشروع کیا۔بن غازی اورطرابلس کے محاذصرف لیبیاکے اندرونی تنازعے نہیں تھے بلکہ عرب دنیااورعالمی طاقتوں کے درمیان یہ تنازع داخلی نہیں بلکہ علاقائی طاقتوں کیاثرورسوخ کابھی میدان اورایک غیراعلانیہ جنگ کاحصہ تھے۔ یہاں سیاست نظریہ نہیں رہی بلکہ ہدفی کارروائیوںمیں بدل گئی۔
متحدہ عرب امارات نے اس پیچیدہ صورتِ حال اوربحران میں براہِ راست یابالواسطہ طورپرمختلف دھڑوں ساتھ روابط رکھے بلکہ اپنے مفادات کے لئے بعض کی حمایت کی۔بن غازی اور مشرقی لیبیامیں خلیفہ حفترکی افواج کوحاصل حمایت اس بات کی علامت تھی کہ یہ تنازع محض داخلی نہیں بلکہ علاقائی طاقتوں کیاثرات سے بھی جڑاہواہے۔یہ وہ دورتھاجب عرب دنیا میں ریاست کاتصوراپنی روایتی شکل کھورہاتھااورریاستی خودمختاری کا تصور دھندلارہاتھااورغیرریاستی عناصرزیادہ طاقتوراور اہم کردار اداکرنے لگے تھے۔
جنوری2020ء میں طرابلس کے قریب ایک فوجی واقعے میں طلبہ کی ہلاکت نیاس جنگ کے نئے رخ کوواضح کیااوریہ سوال اٹھایاکہ کیا جدیدجنگیں زیادہ بہیمانہ ہوگئی ہیں یازیادہ غیر انسانی؟اب جنگ میں دشمن سامنے نہیں ہوتابلکہ اسکرین کے پیچھے ہوتاہے۔لیبیااور دیگرتنازعات میں ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال نے جنگ کی نوعیت بدل دی ہے۔اس جدید ٹیکنالوجی نے فاصلے ختم کردیے ہیں،مگر انسانی زندگی کی قیمت بڑھادی ہے بلکہ جنگ کے اخلاقی سوالات کوبھی پیچیدہ بنادیا ہے۔ طرابلس اورلیبیاکے دیگرعلاقوں میں ہونے والے فضائی حملے اس بات کی علامت تھے کہ جنگ اب روایتی نہیں رہی۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں جنگیں زیادہ مشینی اورانسانی المیے زیادہ خامو ش ہوجاتے ہیں اورٹیکنالوجی اوراخلاقیات ایک دوسرے کےآمنے سامنے کھڑے نظر آتے ہیں۔اب جنگ میں دشمن نظرنہیں آتا، بلکہ ایک ڈیجیٹل ہدف بن جاتاہے۔یہی وہ تبدیلی ہے جس نے جدیدعسکریت کوزیادہ مؤثر مگر زیادہ غیرانسانی بنادیا ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں