Search
Close this search box.
جمعرات ,11 جون ,2026ء

آزاد کشمیر!عقل بڑی یا بھینس ؟

سوشل میڈیا اکائونٹس کے ذریعے، لندن ہائی کمیشن کے سامنے، یا راولا کوٹ میں، پاکستان اور پاک فوج کے خلاف زبان درازی کرنے والے کشمیریوں کے خیر خواہ کبھی نہیں ہو سکتے، لیکن ان چند بے لگام بد زبانوں کو بنیاد بنا کرآزاد کشمیر کے عوام یا کشمیریوں کو سوکنوں کی طرح طعنے دینے والے تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کے ہاں ’’عقل‘‘کی بجائے ’’بھینس‘‘بڑی ہوتی ہے،کوئی کشمیریوں کو حب الوطنی کے میرٹ پر جانچنے کی کوشش کرے گا تو اسے آزاد کشمیر کی اکثریتی عوام پاکستانیوں سے بڑھ کر ’’پاکستانی‘‘ نظر آئے گی،پاکستان پر جب بھی برا وقت آیا کشمیری روز اول سے پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے،اب بھی کھڑے ہیں،اور مجھے عین الیقین ہے کہ نریندر مودی اور اس کے ایجنٹ اُلٹے بھی لٹک جائیں، آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں سے پاکستان کی محبت نہیں نکال سکتے،سندھ ہو ،بلوچستان ہو ،پنجاب ہو کے پی کے ہو یاآزاد کشمیر، احتجاج کرنا ہر کسی کا حق ہے، مگر احتجاج کے نام پر ’’پاکستان‘‘کو گالیاں دینا یہ ناانصافی اور ظلم عظیم ہے، ایسے لوگ نہ کاز کے مخلص ہوتے ہیں اور نہ عوام کے،بھلا اس سے بڑا ظالم بیٹا اور کون ہو گا کہ جو حقوق ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے اپنی ’’ماں‘‘کو ہی گالیاں دینا شروع کر دے؟ نہیں صاحب نہیں، نہ کوئی پاکستانی اور نہ کوئی کشمیری ،یہ خاکسار مان ہی نہیں سکتا کہ وہ اپنی ماں کو گالیاں دے سکتا ہے ، ہاں مگر اس کے لئے اولاد کا حلالی ہونا بھی لازم ہے، آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار تو دے دیا گیااور ممکن ہے کہ وہاں’’کا لعدموں‘‘ کے خلاف بے رحمانہ آپریشن کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہو،مگر عقل سے بھینس بڑی رکھنے والے ’’دانشوروں‘‘سے گزارش ہے کہ کیا وہ نہیں جانتے جب رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے متعدد تنظیموں کو کالعدم قرار دے کران پر پابندیاں لگائی تھیں تو اس کے نتائج کیا برآمد ہوئے تھے؟عقل سے بھینس بڑی رکھنے والے دانشور فاٹا میں کئے جانے والے متعدد آپریشن بھول گئے؟ بلوچستان میں آج تک جو آپریشن جاری ہے اس کو بھول گئے؟ ریاست یقینا طاقتور ہوتی ہے اور اپنی ریاست سے ٹکرانا حماقت کے سوا کچھ نہیں ۔
آزاد کشمیر انتہائی پر امن خطہ تصور کیا جاتا ہے ، وہاں عوامی حقوق کے لئے احتجاج کرنے والوں کے خلاف کسی بھی ’’بے رحمانہ آپریشن‘‘کے نتائج عوامی سطح پر انتہائی منفی ہوں گے ،پاکستان تو وہ عظیم ملک ہے کہ جس نے حال ہی میں امریکہ اور ایران میں ثالثی کا کرشماتی کردار ادا کر کے دنیا کے لاکھوں انسانوں کو جنگ کی آگ میں جلنے سے بچایا،ایران اور امریکہ جنگ میں ثالثی کا کرشماتی اور سنہرا کردار ادا کرکے دنیا میں سربلندی پانے والے وطن عزیز کے حکمرانوں کے پاس اپنے ملک کے احتجاجی عوام کے لئے ’’بے رحمانہ‘‘ آپریشن کے سوا کچھ نہیں؟کہاں ایک طرف آپ ثالثی کا کردار ادا کر کے ملکوں میں جنگ بند کروا دیتے ہیں اور کہاں دوسری طرف آپ سے ڈیڑھ دو درجن بندوں پر مشتمل کمیٹی نہیں سنبھالی جا رہی،عقل سے بڑی بھینس رکھنے والے دانشوروں کو مجھ پر غصہ تو بہت آرہا ہو گا، لیکن ان کے غصے کے باوجود میں کشمیر کسی بے رحمانہ آپریشن کی قطعاً حمایت نہیں کر سکتا،گو کہ ان سے غلطیاں بھی سر زد ہو رہی ہیں ، اور معاملات فورسز سے ٹکرائو تک بھی پہنچ چکے ہیں، جس کی کسی قیمت پر بھی حمایت نہیں کی جا سکتی ،مگر پھر بھی اسلام آباد اور مظفرآباد کے حکمرانوں کو دل بڑا کرنے کی ضرورت ہے ،امن کو کھلے دل کے ساتھ ایک موقع ضرور ملنا چاہیے ،دیرپا اور مستقل امن لاشیں گرانے سے نہیں، بلکہ حقوق کی ادائیگی سے ہی قائم کیا جاسکتا ہے،اگر ایکشن کمیٹی کے کسی شخص کے خلاف را کی ایجنٹی یا ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں تو اسے شفاف عدالتی پراسیس کے ذریعے عبرتناک سزا دی جائے ،تا کہ عوام بھی مطمئن ہو سکیں، یہ بات نہایت اہم ہے کہ ریاست اور عوام کا رشتہ طاقت، خوف یا جبر پر نہیں، بلکہ اعتماد، انصاف اور باہمی احترام پر قائم ہوتا ہے۔ جب بھی کسی معاشرے میں اختلافِ رائے کو دشمنی اور عوامی مطالبات کو بغاوت سمجھا جانے لگے تو فاصلے بڑھتے ہیں، دلوں میں شکوک جنم لیتے ہیں اور مسائل کے حل کے امکانات کمزور پڑ جاتے ہیں۔
آزاد کشمیر ہو، بلوچستان ہو، سندھ، پنجاب یا خیبر پختونخوا، ہر خطے کے عوام پاکستان کے شہری ہیں اور انہیں آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مسائل بیان کرنے اور ان کے حل کا مطالبہ کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ احتجاج کے نام پر ریاستی اداروں، قومی تشخص اور پاکستان کی سالمیت کو نشانہ بنانا کسی طور درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں انتہائوں سے گریز کیا جائے۔ ایک طرف وہ عناصر جو عوامی جذبات کو اشتعال انگیزی اور تصادم کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، اور دوسری طرف وہ حلقے جو ہر اختلافی آواز کو دشمن کا ایجنٹ قرار دے کر مسئلے کے سیاسی اور سماجی پہلوئوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کسی بھی معاملے کا پائیدار حل الزام تراشی، نفرت انگیز بیانات یا طاقت کے استعمال میں نہیں، بلکہ سنجیدہ مکالمے، برداشت اور افہام و تفہیم میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ ریاست کی اصل قوت اس کے ہتھیار نہیں، بلکہ اپنے عوام کا اعتماد اور محبت ہوتی ہے، اور یہ اعتماد صرف انصاف، شفافیت اور مساوی سلوک سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔آزاد کشمیر کے عوام نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی اور محبت کا اظہار کیا ہے۔ ان قربانیوں، جذبات اور وابستگیوں کو نظر انداز کرنا دانش مندی نہیں ہوگی۔ اگر کہیں غلط فہمیاں ہیں تو انہیں دور کیا جائے، اگر شکایات ہیں تو انہیں سنا جائے، اور اگر کسی فرد یا گروہ پر قانون شکنی یا ملک دشمن سرگرمیوں کے الزامات ہیں تو انہیں قانون اور عدالت کے ذریعے ثابت کیا جائے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ فیصلے جذبات یا مفروضوں کی بنیاد پر نہیں، بلکہ شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہوں۔تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے مگر دلوں کو فتح نہیں کر سکتی۔ دلوں کو جیتنے کے لیے انصاف، عزت اور حقوق کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔ پاکستان کی مضبوطی بھی اسی میں ہے کہ اس کے تمام شہری خود کو اس ریاست کا برابر کا حصہ محسوس کریں، اور یہ یقین رکھیں کہ ان کی آواز سنی جاتی ہے، ان کے مسائل کو اہمیت دی جاتی ہے اور ان کے ساتھ انصاف کیا جاتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو قومی یکجہتی، استحکام اور ترقی کی منزل کی طرف لے جاتا ہے۔لہٰذا آج ضرورت جذباتی نعروں، طعنوں اور الزام تراشیوں کی نہیں، بلکہ عقل، تدبر اور دور اندیشی کی ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط، متحد اور خوشحال پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کی بجائے مکالمے کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ آخرکار قوموں کی عظمت اسی میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے مسائل کو عقل، انصاف اور برداشت سے حل کریں، کیونکہ تاریخ ہمیشہ یہی ثابت کرتی آئی ہے کہ عقل بڑی ہوتی ہے، بھینس نہیں۔

یہ بھی پڑھیں