(گزشتہ سےپیوستہ)
براہموس،جوروسی وبھارتی اشتراک کانتیجہ ہے،پہلے ہی اپنی رفتاراورمہارت کے باعث عالمی سطح پرمعروف ہے لیکن فتح تھری کا اس کے ساتھ موازنہ دراصل اس برتری کی علامت ہے کہ پاکستان اب دفاعی میدان میں محض پیروکارنہیں بلکہ ایک فعال اورخودمختار کرداراداکررہاہے اوریہ مکمل طورپرپاکستانی سائنسدانوں کاکمال ہے۔یہ تقابل ہمیں یاددلاتاہے کہ مقابلہ وہی کرتاہے جوخودکونہ صرف ہم پلہ سمجھتاہے بلکہ اس میدان میں اپنی خودمختاری کااعلان بھی کرتاہییہ موازنہ دراصل ایک نفسیاتی توازن بھی قائم کرتاہے۔اقوام جب خودکو برابر سمجھنے لگتی ہیں توان کے اندرخوداعتمادی کی وہ لہرپیداہوتی ہے جونہ صرف آگے بڑھنے کاحوصلہ رکھتی ہے بلکہ انہیں ترقی کی راہوں پرگامزن بھی کرتی ہے۔
سپرسونک میزائلوں کی دنیامیں داخل ہونا دراصل ایک نئے عہدمیں قدم رکھناہے۔فتح تھری کی اصل اہمیت اس کی سپرسونک رفتار میں مضمرہے۔یہاں رفتارمحض ایک پیمانہ نہیں بلکہ ایک نظریہ اورایک فلسفہ ہے،ایک ایسانظریہ جس میں برتری کادارومداروقت پر قابو پانے کی صلاحیت پرہوتاہے’’جوجتناتیز،وہ اتنا غالب ‘‘۔ فتح تھری اس فلسفے اورنظریے کی جیتی جاگتی عملی تصویر ہے۔ فتح تھری کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی رفتارہے،جوآوازکی رفتارسے کئی گنازیادہ ہے۔مگریہ رفتارمحض عددی برتری نہیں بلکہ ایک مکمل حکمت عملی کاحصہ ہے۔اس کی رفتار اسے نہ صرف دشمن کے دفاعی نظام سے آگے لے جاتی ہے بلکہ اسے ایک ایسی برتری عطا کرتی ہے جس میں ردعمل کاوقت نہ ہونے کے برابررہ جاتاہے۔ 1
میزائل فتح ون(140کلومیٹر)اورفتح ٹو (00کلومیٹر)بھی اپنی جگہ اہم تھے، مگریہ ایک نئی جہت کی نمائندگی بھی کرتاہے اوراس سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے جورفتار،مہارت اور ٹیکنالوجی کاحسین امتزاج پیش کرتی ہے اوردشمن کے دفاعی نظام کو چکمہ دینابھی اس کے اوصاف میں شامل ہے۔یہ نہ صرف برق رفتاری کے باعث ہدف کوسنبھلنے کاموقع نہیں دیتا بلکہ کم بلندی پرپروازکرتے ہوئے ریڈارسے بچ نکلنے کی صلاحیت بھی رکھتاہے۔گویایہ میزائل نہیں،رفتاراورحکمت کا ایسا سنگم ہے جہاں وقت بھی اس کے سامنے بے بس دکھائی اور زیرہوجاتاہے۔یہ ایک خاموش سایہ ہے جواپنے شکار تک پہنچنے تک دکھائی نہیں دیتا۔
فتح تھری کی اصل قوت اس کے ڈیزائن میں ریم جیٹ انجن میں مضمرہے جواس کے استعمال کی اصل جان ہے۔یہ انجن روایتی راکٹ انجنوں سے مختلف ہوتاہے اورفضاکی ہواکو استعمال کرتے ہوئے زیادہ رفتار حاصل کرتاہے۔گویا یہ زمین کی قوت نہیں بلکہ فضاکی مدد سے آگے بڑھتاہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ میزائل طویل فاصلے تک مسلسل تیزرفتارسے سفرکر سکتاہے اوریہی ٹیکنالوجی اسے آوازکی رفتارسے کئی گناآگے لے جاتی ہے۔ چینی میزائل’’ایچ ڈی ون ‘‘سے مماثلت اس امر کی غمازی اوراشارہ کرتی ہے کہ جدیددفاعی دنیامیں اشتراک ناگزیرحقیقت بن چکاہے۔گویاجدید علم کی سرحدیں نہیں ہوتیں،سرحدیں صرف سیاست کی پیداوار ہیں۔صرف مفادات کی حدبندیاں ہوتی ہیں جہاں دانش اوربصیرت کے سامنے ان کی حیثیت ثانوی رہ جاتی ہے۔
براہموس میزائل، جو روس اور بھارت کے اشتراک سے تیار کیا گیا، اپنی نوعیت کا ایک منفرد ہتھیار ہے۔یہ میزائل بھی اسی ریم جیٹ ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ یہ نہ صرف تیز رفتار ہے بلکہ اس میں جدید نیویگیشن سسٹمز نصب ہیں جو اسے راستہ بدلنے اور ہدف کو درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت دیتے ہیں لیکن جدید جنگیں محض اسلحے سے نہیں بلکہ ذہانت اور ٹیکنالوجی کے امتزاج سے جیتی جاتی ہیں۔
براہموس کا سب سے نمایاں پہلواس کا اصول ’’فائراینڈ فارگیٹ‘‘نظام ہے۔یہ اصول دراصل جدید جنگی فلسفے کانچوڑہے۔ایک بارہدف مقرر کردیاجائے توپھر انسانی مداخلت کی ضرورت نہیں رہتی گویامیزائل خودایک باشعورسپاہی بن جاتاہے۔ایک باروارکرو،پھر مڑکرنہ دیکھو۔یہ میزائل ریڈارسے بچنے کی صلاحیت رکھتاہے اوراپنے ہدف کوکم سے کم وقت میں نشانہ بناتاہے۔یہ اصول اس نئے دورکی نمائندگی کرتاہے جہاں انسانی مداخلت کم سے کم اورخودکارنظام زیادہ سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ایک بارمیزائل لانچ ہو جائے تووہ خودہی ہدف تک پہنچ جاتا ہے، گویا میزائل ایک خودمختار سپاہی بن چکاہے ،ایک ایسا سپاہی جوحکم ملتے ہی اپنی ذمہ داری پوری کردیتا ہے۔یہ تصوراس نئے عہدکی نشاندہی کرتاہے جہاں فیصلے لمحوں میں ہوتے ہیں اوران کے اثرات صدیوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔فتح تھری کی رینج اگرچہ ظاہرنہیں کی گئی، مگر اندازوں کے مطابق یہ280سے 500 کلومیٹر تک ہوسکتی ہے۔فتح تھری کی رینج کے بارے میں سرکاری سطح پرخاموشی اختیارکی گئی ہے۔
یہ خاموشی بذاتِ خودایک حکمت عملی ہے کیونکہ بعض اوقات نامعلوم ہی سب سے بڑاخوف ہوتا ہے۔ یہ حکمت عملی دشمن کوغیریقینی کی کیفیت میں مبتلارکھتی ہے اورغیریقینی صورتحال دشمن کے لئے سب سے بڑاچیلنج ، خطرناک ہتھیاراورنفسیاتی دباؤ بن جاتی ہے۔ گویا جو معلوم ہوجائے،وہ خطرہ نہیں رہتا؛جو نامعلوم ہو،وہی اصل خوف ہے۔لیکن یہ بات قرینِ قیاس ہے کہ جو ٹیکنالوجی بعدازاں جدید مہارت کے ساتھ میدان میں اترتی ہے،وہ پہلے سے مقابل تمام ہتھیاروں کوسامنے رکھ کراستوارکی جاتی ہے۔چین اور پاکستان کے دفاعی تعلقات اس میدان میں ایک اہم کرداراداکرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ریم جیٹ انجن اورگائیڈینس سسٹمزمیں ممکنہ تعاون اس امرکی دلیل ہے کہ جدید جنگیں اب صرف میدان میں نہیں بلکہ تحقیقی مراکزاور لیبارٹریوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔یہ اشتراک دراصل ایک نئے عالمی نظام کی علامت ہے جہاں طاقت کامرکزاسلحہ نہیں بلکہ ٹیکنالوجی بن چکی ہے۔
مئی2025ء کی مختصرجنگی جھڑپوں نے یہ واضح کردیاکہ اب جنگیں روایتی اورطویل نہیں رہیں۔ براہموس اورفتح خصوصاًسپرسونک جیسے میزائل اس نئے عہدکے مرکزی کردارہیں جو مستقبل کی جنگوں کو مختصر، شدیدمگرتباہ کن نتائج پیداکرسکتے ہیں۔یہ جنگیں شاید دنوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں میں فیصلہ کن ہوجائیں۔یہ جنگیں اب میدان میں کم اور اسکرینوں پرزیادہ لڑی جاتی ہیں،جہاں ایک بٹن دبانے سے تاریخ کارخ بدل سکتاہے۔
بیلسٹک میزائل بلندفضامیں طویل فاصلے تک جاکرہدف کونشانہ بناتے ہیں،جبکہ کروزمیزائل ریڈار سے بچتے ہوئے زمین کے قریب رہتے ہوئے خاموشی سے اپناسفرطے کرتے ہیں ۔یہ فرق دراصل دو فلسفوں اورمختلف حکمت عملیوں کاعکاس ہے۔ایک کھلاوار،دوسرا خاموش حملہ۔یوکرین اورمشرق وسطی کی جنگیں اس تبدیلی کی واضح مثال ہیں،جہاں ڈرونز اورمیزائل جنگ کا مرکزی ہتھیاربن چکے ہیں اورجدیددنیا میں خاموشی اکثر ز یادہ مہلک ثابت ہوتی ہے۔
پاکستان کی راکٹ فورس کاقیام ایک اہم ادارہ جاتی پیش رفت ہے جواس بات کی دلیل ہے کہ جدید جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ مؤثرتنظیم سے جیتی جاتی ہیں۔یہ اقدام دراصل فیصلہ سازی کوتیزاور مؤثربنانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے گویاعسکری نظم وضبط میں ایک نئی روح پھونکی گئی ہو۔اس کامقصد جوہری اورروایتی میزائلوں کوالگ کرنااورفیصلہ سازی کوتیزبنانا ہے۔ یہ اقدام اس حقیقت کی عکاسی کرتاہے کہ جدید جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ تنظیمی نظم وضبط سے جیتی جاتی ہیں۔فتح تھری جیسے میزائل محض ہتھیارنہیں بلکہ ڈیٹرنس کاذریعہ ہیں۔فتح تھری جیسے میزائلوں کا اصل مقصدجنگ کرنانہیں بلکہ جنگ کو روکناہے۔ پاکستان کی فوجی ڈاکٹرائن توسیع پسندنہیں بلکہ دفاعی ہے،یہی ڈیٹرنس کافلسفہ ہے،اتنی قوت رکھوکہ دشمن حملے کاسوچ بھی نہ سکے۔اوراسی لیے یہ صلاحیتیں دشمن کوحملے سے بازرکھنے کے لئے تیارکی جارہی ہیں۔یہی وہ فلسفہ ہے جسے اس تصورسے جوڑا جاسکتاہے کہ قوت کامقصد غلبہ نہیں بلکہ ظلم کے دروازے بند کرناہے۔فتح تھری اوربراہموس کاتقابل محض دومیزائلوں کاموازنہ اوردوریاستوں کے درمیان محض عسکری مقابلہ نہیں بلکہ دوفکری نظاموں، دوسائنسی روایتوں اوردوقومی حکمتِ عملیوں،ایک فکری وسائنسی دوڑکی علامت اورایک نئے تقابلی عہدکی کہانی ہے۔یہ دوفکری نظاموں، دوسائنسی روایتوں اوردو قومی حکمتِ عملیوں کاآئینہ دار ہے۔یہ ایک ایساعہدہے جہاں علم، ٹیکنالوجی اورحکمتِ عملی مل کر تاریخ رقم کرتے ہیں۔یہ میزائل ہمیں یادد لاتے ہیں کہ جنگیں ہتھیار نہیں جیتتے،بلکہ وہ ذہن جیتتے ہیں جوہتھیارتخلیق کرتے ہیں۔یہ میزائل ہمیں یہ سبق بھی یاد دلاتے ہیں کہ زمانہ بدلتانہیں،بدلاجاتاہے اورجو قومیں علم،حکمت اورتیاری کواپناشعاربناتی ہیں،وہی تاریخ کا دھارا موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔