ایرانی صدر کی المناک موت
ابھی کچھ دن قبل ایرانی صدر ابراہیم رئیسی تین دن کے دورے پر پاکستان آئے تھے‘ ان کا حکومت پاکستان کے علاوہ پاکستان کے عوام نے ان کا والہانہ استقبال کرکے یہ ثابت کردیاکہ ایران اور پاکستان نہ صرف ماضی
ابھی کچھ دن قبل ایرانی صدر ابراہیم رئیسی تین دن کے دورے پر پاکستان آئے تھے‘ ان کا حکومت پاکستان کے علاوہ پاکستان کے عوام نے ان کا والہانہ استقبال کرکے یہ ثابت کردیاکہ ایران اور پاکستان نہ صرف ماضی
ایران اور بھارت نے گذشتہ چاہ بہار پورٹ کو جدید طرز پر بنانے کے سلسلے میں ایک دس سالہ معاہدہ کیاہے۔ یہ ایک طرح کا نیا کوریڈور ثابت ہوگا۔ اس معاہدہ سے براہ راست سی پیک متاثر ہوسکتاہے۔ واضح رہے
جب میں یہ کالم لکھ رہاہوں تو مجھے ایسا محسوس ہورہاہے کہ کسی کا منحوس سایہ اس ملک پر پڑ گیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر طرف شورش اور بدامنی پھیلی ہوئی ہے۔ ابھی تک سیاستداںایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے
جمعرات کی شب کو دہشت گردوں نے گوادر فش ہاربر کے قریب حملہ کرکے سات محنت کشوں کو بڑی بے دردی سے قتل کردیا اور فرار ہوگئے ۔ قتل ہونے والے محنت کش نوجوانوں کاتعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے
میں نے اپنے کئی کالموں میں لکھاتھا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔ جبکہ بعض عناصر نے اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا بلکہ کہا کہ ترقی پذیر ملکوں میں ایسا ہی ہوتاہے۔ لیکن کرپشن نہ رکنے
اب مئی کا مہینہ شروع ہوچکاہے۔ اپریل کے آخر میں بھارت میں لوک سبھا کے لئے انتخابات شروع ہوئے تھے‘ جواس ماہ تک جاری ہیں گے۔4جون کو انتخابات کے نتائج سے بھارتی عوام کے علاوہ دنیا بھر کے عوام کو
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف گذشتہ دنوں کراچی آئے تھے جہاں انہوں نے اپنی پارٹی کے کارکنوں کے علاوہ کراچی کے معروف وممتاز تاجروں او ر صنعتکاروں سے بھی ملاقات کی اوران سے مسائل دریافت کئے۔ اس ملاقات میں پاکستان کے
ایران کے محترم صدر جناب ابراہیم رئیسی تین دن کے سرکاری دورے پر پاکستان تشریف لائے تھے‘ ان کا یہ دورہ پہلے سے طے شدہ تھا‘ نیز ایران کے صدر پاکستان اور ایران کے مابین جوگزشتہ ماہ غلط فہمی پیدا
کسی زمانے میںکراچی روشنیوں کاشہر کہلاتاتھا ‘ عوام اور خواص دونوں کے لئے روزی رزق اور روزگار کے لئے بے پناہ مواقع موجودتھے۔ کراچی کی اس ترقی نے پورے پاکستان کو متاثر کیاتھااور ہر سو ترقی کے چراغ فروزاں تھے۔
اسرائیل گزشتہ سات ماہ سے غزہ میں فلسطینیوں کو شہید کررہاہے جبکہ اسلامی دنیا خاص کر عرب ممالک اس وحشیانہ منظر کے سامنے خاموش تماشائی بنے کھڑے ہوئے ہیں۔ غالباً اس صدی میں فلسطینیوں کی اتنی بڑی نسل کشی نہیںہوئی