نامراد کراچی
ہمارے ایک دیرینہ دوست خالد فاطمی نے حال ہی میں ایک کتاب بدعنوان نامرادکراچی لکھی ہے ۔ یہ کتاب دراصل کراچی والوں کا نوحہ ہے۔ اس کتاب کی عوامی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ بیشتر کتاب فروخت کرنے والوں
ہمارے ایک دیرینہ دوست خالد فاطمی نے حال ہی میں ایک کتاب بدعنوان نامرادکراچی لکھی ہے ۔ یہ کتاب دراصل کراچی والوں کا نوحہ ہے۔ اس کتاب کی عوامی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ بیشتر کتاب فروخت کرنے والوں
اگر پاکستان کے بڑے لوگ یعنی ارباب اختیار یہ سمجھ رہے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری آئے گی‘ صحرا میں اذان دینے کے مترادف ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ملک میں پایا جانے والا سیاسی عدم استحکام ہے‘
خوش بخت شجاعت سینیٹر رہی ہیں۔ وہ اپنے طالب علمی کے زمانے میں ایک بہت اچھی debater تھیں۔ ان کا مقابلہ بہت کم مقررین کرسکتے تھے۔ 14اگست کے موقع پر ایف پی سی سی آئی میں ہونے والی ایک تقریب
ماضی قریب میں 14اگست یعنی یوم آزادی ‘ قیام پاکستان بڑے جوش وجذبے کے تحت منایاجاتاتھا۔ بچے‘ جوان‘ بزرگ اور خواتین اس موقع پر نہ صرف خوشی اور مسرت کا اظہارکرتے تھے‘ بلکہ مزار قائد پر حاضری دے کر یہ
آج کل بنگلہ دیش ہرمحفل میں موضوع بحث بناہوا ہے‘ جس طرح نہتے طالب علموں نے حسینہ واجد کی حکومت کے ظلم جبراور لوٹ مار کے خلاف علم بغاوت بلند کیا‘ وہ ان تمام حریت پسندوں کے لئے مشعل راہ
میں نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں بڑے وثوق کے ساتھ یہ لکھا تھا کہ عمران خان آرمی کے خلاف نہیں ہیں اور نہ ہی ہوسکتے ہیں‘ یہ کالم اس لئے لکھا گیاتھا کہ موجودہ فارم47کے تحت بننے والی حکومت
حماس کے ہردل عزیز رہنما اسماعیل ہانیہ کو اس وقت قتل کردیاگیا جب وہ ایران میں موجودہ صدر مسعود پیز شکیان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کیلئے وہاں گئے تھے۔ انہیں ایک میزائل کے ذریعے شہید کیا گیاہےجس
تحریک انصاف کے سربراہ اور بانی جناب عمران خان نے متعدد بار کہاہے کہ وہ پاکستان کی فوج کے خلاف نہیں ہیں اور نہ ہونگے۔ ان کا یہ بیانیہ کئی بار اخبارات میں شائع ہوچکاہے‘ تاہم موجودہ سیٹ اپ جوالیکشن
پاکستان کے باشعور افراد کے علاوہ خود عمران خان بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی ومعاشی استحکام اس وقت ہی آسکتاہے جب ملک فوری انتخابات کرادیئے جائیں کیونکہ موجودہ سیٹ اپ یعنی پی ڈی ایم ٹو ملک
موجودہ حکومت پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کاارادہ رکھتی ہے جیسا کہ وفاقی وزیراطلاعات نے اعلان کیاہے۔ اس غیرمنطقی اور غیر استعدلالی بیان کے فوراً بیشتر سیاسی جماعتوں نے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے فیصلے کو مسترد