امریکہ اسرائیل کو لگام دے
گزشتہ دنوں سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ صیہونی ریاست اسرائیل ایران پر بھرپور حملہ کرنے والا ہے۔ ہرچند کہ ایران نے ان متوقع حملوں کا موثر جواب دینے کیلئے تیار ہے۔ لیکن اسرائیل کسی نہ کسی طرح مشرق
گزشتہ دنوں سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ صیہونی ریاست اسرائیل ایران پر بھرپور حملہ کرنے والا ہے۔ ہرچند کہ ایران نے ان متوقع حملوں کا موثر جواب دینے کیلئے تیار ہے۔ لیکن اسرائیل کسی نہ کسی طرح مشرق
اس وقت اسرائیل غزہ کے ساتھ مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں کی نسل کشی کرنے پر آمادہ ہے۔اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق46ہزار فلسطینیوں کو اسرائیل نے شہید کیاہے اور اس وقت جب یہ کالم لکھا جارہاہے ‘اسرائیل کی
پاکستان اورروس کے درمیان سفارتی تعلقات یکم مئی1948ء کو قائم ہوئے تھے‘ اس دوران ان دونوں ممالک نے اپنے مخصوص اور سیاسی اور ثقافتی اور تجارتی اور معاشی تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کرتے رہے تھے۔ تاہم بسااوقات ایسے
چین اور پاکستان کی دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے زیادہ بلند ہے۔ یہ مثال اکثر پاکستانی اور چینی مختلف مواقع پر اس کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ دراصل چین نے پاکستان کی اکثر اس وقت مدد کی ہے
عالمی تجزیہ نگاروں کا یہ خیال درست تھا کہ اسرائیل غزہ کو مکمل طور پر تباہ وبرباد کرنےکے بعد جنوبی لبنان کی طرف پیش قدمی کرے گاجہاں حزب اللہ کے مجاہدین ایک عرصہ دراز سے مقیم ہیں اور اسرائیل کے
پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان سے متعلق عجیب وغریب افواہیں گردش کررہی ہیں۔ ان افواہوں میں کتنی صداقت ہے‘ اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا‘ لیکن خان صاحب کی بہنوں نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ
بنگلہ دیش میں 1971ء کے بعد پہلی مرتبہ قائداعظمؒ کایوم وفات انتہائی عقیدت واحترام سے منایا گیا۔ اس سے قبل بنگلہ دیش بننے کے بعد اورپاکستان سے علیحدگی کے بعد کبھی بھی قائداعظمؒ کا یوم وفات یا یوم پیدائش نہیں
غزہ میں اب تک چالیس ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں‘ شہید ہونے والوں میں زیادہ تر تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ پوری دنیا اس خونریزی کے سامنے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ایسا محسوس ہورہاہے کہ مغربی
اس وقت آکسفورڈ یونیورسٹی کی چانسلر شپ کامسئلہ صرف اخبارات کی زینت بنا ہواہے‘ ابھی تک کسی بھی چانسلر کے تقرر کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ اس چانسلر شپ کے لئے پاکستان کے سابق وزیراعظم اور مایہ ناز کرکٹر عمران
پاکستان اس وقت دہشت گردی کی لپیٹ میں آچکاہے۔ بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد انتہائی فعال ہوکر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں بلوچستان میں بی ایل