آئو باتیں کریں پیارے آقا مولی ﷺ کی
کچھ نہیں رکھا جمہوریت و موریت میں، سیاست ویسے بھی گھری ہوئی ہے تماش بینوں میں، نواز شریف ، زرداری،عمران خان کی حمایت اور مخالفت یا اسٹیبلشمنٹ کی کاسہ لیسی کا نام ہی اگر سیاست ہے تو ایسی سیاست سے
کچھ نہیں رکھا جمہوریت و موریت میں، سیاست ویسے بھی گھری ہوئی ہے تماش بینوں میں، نواز شریف ، زرداری،عمران خان کی حمایت اور مخالفت یا اسٹیبلشمنٹ کی کاسہ لیسی کا نام ہی اگر سیاست ہے تو ایسی سیاست سے
انسان تو سب ہی اللہ کے بندے ہیں، اس کے پیدا کردہ ہیں لیکن کچھ انسان اللہ تعالیٰ کے خاص اور مقبول بندے ہوتے ہیں عرف عام میں جن کو اولیا ء کہاجاتا ہے، یہ وہ بزرگ ہستیاں ہیں کہ
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو، جیساکہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم پر اسلام ہی کی حالت میں موت آنی چاہئے، سب مل کر اللہ کی رسی کو تھام لو، پھوٹ نہ پیدا کرو اور
کالم پڑھتے ہوے قارئین کے ذہن میں یہ بات رہنی چاہئے کہ کالم میں درج اقلیتوں کے حقوق اسلامی ریاست کے لئے دین اسلام نے بتائے ہیں،ھمارے حکمرانوں ،اعلی سرکاری حکام میڈیا پہ چھائے ہوئے دانشوروں اینکروں،اینکرنیوں، ملحدوں،اور لنڈے کے
’’اگر بھارت تعاون کرے تو مخصوص افراد (مولانا مسعود ازہر اور حافظ سعید)کی حوالگی پر پاکستان کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا‘‘ الجزیرہ کو دیا گیا یہ بیان کسی ایئرے ،غیرے، نتھو خیرے کا نہیں بلکہ اس سیاستدان کا ہے کہ
معرکہ حق و باطل ازل سے شروع ہے اور ابد تک جاری و ساری رہے گا‘پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا تھا کہ’’جابر سلطان اور بادشاہان وقت کے سامنے کلمہ حق بلند کرنا سب سے بڑا جہاد ہے‘‘۔ ذرا دل پر
دین اسلام واقعتا بڑا آسان دین و مذہب اور انسانیت کا سب سے بڑا علمبردار بھی ہے، اور یہ بات صدرمملکت،وزیر اعظم ،آرمی چیف،چیف جسٹس سے لے کر سیکولر شدت پسند کالم نگاروں ،تجزئیہ کاروں،ملحد اینکروں اور اینکرنیوں کی فوج
تقسیم ہند کے بعد 1950 ء کے عشرے میں تاملوں کا احتجاج وسعت اختیار کر گیا، جس پرحکومت نے تشدد کا راستہ اپنا کر ان کی تحریک کو کچلنے کی بڑی کوششیں کیں،تاملوں کے ساتھ روا رکھے گئے انسانیت سوز
چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی اور کامیابی کے لئے عوام، حکومت اور افواج کے درمیان مضبوط تعلق نا گزیر ہے خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سر
کسی شاگرد نے اپنے استاذ سے کہا ہم رات دن اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ہمیں سزا نہیں دیتا‘استاذ محترم نے جواب دیا : ایسی بات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہمیں کتنی سزائیں دیتا ہے مگر