گستاخانہ بزنس اور حب رسول ﷺ
ساڑھے چودہ سو سال ہو چکے،آج تک ہر گستاخ رسول کو ذلت ورسوائی کے ساتھ عبرت ناک انجام سے دوچار ہوتے ہوئے دنیا نے دیکھا ،مسلیمہ کذاب سے لے کر مسلیمہ پنجاب مرزا قادیانی تک، ابن خطل سے لے کر
ساڑھے چودہ سو سال ہو چکے،آج تک ہر گستاخ رسول کو ذلت ورسوائی کے ساتھ عبرت ناک انجام سے دوچار ہوتے ہوئے دنیا نے دیکھا ،مسلیمہ کذاب سے لے کر مسلیمہ پنجاب مرزا قادیانی تک، ابن خطل سے لے کر
’’ہم یہ دن ایسے وقت میں منا رہے ہیں جب اللہ تعالیٰ کے فضل، امارت اسلامیہ کی کوششوں، شہدا ء و معذورین کی قربانیوں اور امت مسلمہ کی دعائوں کے نتیجے میں ہمیں شرعی نظام اور مکمل امن حاصل ہے،
عیدالاضحی کے مقدس دن اپنی تمام تر خوبصورتیوں اور برکتوں سمیت رخصت ہو گئے ، اب ایک مرتبہ پھر روٹین کے لیل و نہار شروع ہوچکے ہیں،کاش کہ بھولے بھٹکے مسلمانوں نے جانوروں کو قربان کرتے ہوئے یہ عزم بالجزم
خانقاہ میں تشریف فرما عشاق کی محفل میں پہنچا تو حضرت اقدس پیرو مرشد حفظ اللہ فرما رہے تھے ‘‘ اﷲ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے آج میں اور آپ مل کر قرآن پاک پڑھتے ہیں‘سبحان اﷲ، قرآن پاک، ہمارے عظیم
یاایہا الذین آمنوا قواانفسکم واھلیکم نارا وقودھاالناس والحجارۃ اسلام ایک پاکیزہ، پرامن مہذب معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے اور اس کیلئے مختلف مدارج میں مختلف افراد کی ذمہ داریاں لگائی ہیں ۔اولا والدین کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ
(گزشتہ سے پیوستہ) دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ صرف فاضل جج کاایک خیال تھا؟مذکورہ ریمارکس کواگر 21مارچ کوہونےوالی سماعت کےموقع پرفاضل جج کی جانب سے دیئے گئے اس ریمارکس کےساتھ ملا کر دیکھا جائے کہ ’’کمیشن یہ
سوشل میڈیا پرمقدس ہستیوں بالخصوص حضورﷺ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ موادکی تشہیری مہم میں ملوث زیرحراست گستاخوں کےرشتہ داروں کیجانب سے گستاخوں کےخلاف درج مقدمات کےمتعلق پنجاب پولیس کی اسپیشل برانچ اورقومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی ثابت
پاکستان میں گستاخانہ فتنےکو پروان چڑھانے میں جو مکروہ قوتیں اوران کےراتب خور ملوث ہیں،اب آہستہ آہستہ ان کے چہروں سے نقاب سرک رہے ہیں، مقدس شخصیات کی توہین میں گرفتار گستاخوں کےحقوق کا سیاپا ڈالنے والے ابلیسی ایجنٹوں کو
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو، جیساکہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم پر اسلام ہی کی حالت میں موت آنی چاہئے، سب مل کر اللہ کی رسی کو تھام لو، پھوٹ نہ پیدا کرو اور
(گزشتہ سے پیوستہ) وفاقی وزارت داخلہ کو بھیجی گئی مذکورہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے خلاف مقدمات کی تحقیقات میں