استحصال کی قیمت، ہجرت کی لہر
یورپ نے نقل مکانی روکنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ معاشی استحصال کی پالیسی پر عمل روکنے کی ضرورت ہے۔ افریقا سے نقل مکانی کا رحجان اس لیے پروان چڑھا ہے کہ اس براعظم
یورپ نے نقل مکانی روکنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ معاشی استحصال کی پالیسی پر عمل روکنے کی ضرورت ہے۔ افریقا سے نقل مکانی کا رحجان اس لیے پروان چڑھا ہے کہ اس براعظم
(گزشتہ سے پیوستہ) لیکن سوال یہ ہے کہ کیوں جنرل انیل چوہان جیسے حساس منصب پربیٹھے شخص کوٹی وی پراعترافِ شکست کالہجہ اپناناپڑا؟اگر الزام بے بنیادہوتاتو اسے عالمی میڈیاکی زینت بنانے سے روکاکیوں نہ گیا؟ راہول بیدی کے مطابق پاکستان
جب قومیں تاریخ کے دریامیں اپنی کشتی کو بہاؤکے سہارے چھوڑدیتی ہیں،توکوئی بھی لہرانہیں غرق کرسکتی ہے۔اورجب قوموں کے افق پربادل صرف برسے نہیں،گرجنے بھی لگیں ،تواہلِ دانش کوخواب سے جاگ جاناچاہیے۔ہم جس برِصغیرمیں سانس لیتے ہیں وہ صرف جغرافیہ
(گزشتہ سے پیوستہ) اسلام کاسیاسی نظام شورائیت، عدل، مساوات اوراحتساب پرمبنی تھا۔مگرآج؟ہرملک اپنی ریاست ،ہرریاست اپنے مفادمیں گم۔قومیں قومی مفادات میں الجھی ہیں،اورامت کے تصور کا جنازہ نکل چکاہے اورامت مسلمہ اجتماعی سیاسی انتشارمیں مبتلاہے۔ نہ کوئی سعدؓ بن معاذ،
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے حق کے کلمے کو بلند فرمایا، اور درود و سلام ہو انبیاء کے سردار حضرت محمد ﷺپر، اور آپ کے آل و اصحاب پر، جو نیک اور برگزیدہ ہیں۔ اما بعد۔۔۔۔۔۔۔! حضراتِ
(گزشتہ سے پیوستہ) نیوزویک کے ساتھ ایک انٹرویومیں جب انڈیا کے وزیرِخارجہ نے یہ انکشاف کیاکہ اگرہم نے کچھ باتیں تسلیم نہ کیں توپاکستان انڈیاپر بہت بڑاحملہ کرے گا،تویہ جملہ محض ایک سفارتی بیان نہ تھابلکہ وہ ناقوس تھاجوجنگ کے
(گوشتہ سے پیوستہ) 2017-2019ء کی سعودی ضدِ کرپشن مہم میں تقریباً 381 افراد گرفتار ہوئے اور حکومت نے 100ارب سے 400 ارب ڈالرز کےاثاثے ضبط کیے ۔ معمول کے زیرِِ جرم گرفتاریاں تو سنائی دیتی رہتی ہیں، مگر تحقیق سے
جب مشرق کی پیشانی پراذان کی صدااولین بارابھری تھی،تواس نغمے میں وحدت کی بازگشت تھی۔وہ صدا،جوبیت المقدس سے لے کرخانہ کعبہ تک فضائوں میں گونجتی رہی،اہلِ زمین کوایک ایسے معبودِبرحق کی طرف بلاتی رہی جس کے حضورنہ کوئی فرعون سراٹھا
(گزشتہ سے پیوستہ) تاریخی اعتبارسے یہوداپنی سازشوں،مال واسباب اورسیاسی اثرورسوخ کے باوجودکبھی بھی اپنے سیاسی اہداف بغیرکسی بیرونی طاقت کی مددکے بغیرحاصل نہیں کرسکے۔پچھلے چودہ سوسال میں یہودعباسی خلافت، عثمانی خلافت،اسپین کی اموی حکومت، یورپ اورامریکا میں معاشی لحاظ سے
(گزشتہ سے پیوستہ) امریکی صدرآئزن ہاورنے اسرائیل کویہ دھمکی اس وقت دی تھی جب صرف چندہفتوں بعدامریکامیں صدارتی انتخابات ہونے جارہے تھے ۔ امریکی صدرآئرن ہاورکی اس دھمکی کے نتیجے میں اسرائیل نے چندمہینوں میں تمام مصری علاقے خالی کردئیے۔