ایک ایران وہ تھا کہ جو غیر سرکاری طور پر کل بھوشن یادیو نیٹ ورک کا گڑھ بنا ہوا تھا، بی ایل اے اور بی ایل ایف سمیت فتنہ الہندوستان کی دہشت گرد تنظیمیں جہاں سے آزادانہ آپریٹ کرتی تھیں، کراچی کی گینگ وار میں شامل مختلف گروہ ایران اور متحدہ عرب امارات کو اپنی محفوظ جنت کے طور پر استعمال کرتے تھے ، اور آج ایک وقت یہ آیا ہے کہ قدرت نے اس سارے شیطانی منصوبے کو ناکام بنا کر فتنہ الہندوستان کے پائوں تلے سے زمین کھینچ لی ہے، پاکستان کو اس کے پچھواڑے سے پراکسی وار میں الجھانے کی بھارتی پالیسی اپنے عبرتناک انجام سے دوچار ہو چکی ہے، نئی دہلی سے تل ابیب تک ایک سناٹا طاری ہے، اور اجیت دووال جیسے بھارت کے ٹاپ سپائی ماسٹر پریشان ہیں کہ پاکستان کو ایک ہزار زخم لگا کر تباہ کرنے کی ان کی حکمت عملی خود ’’تباہ و برباد‘‘ہو چکی ہے، بھارتی الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے، نئی دہلی اور راولپنڈی اسلام آباد کے درمیان جاری طویل پراکسی جنگ میں پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی یہ دوسری بڑی کامیابی ہے، لیکن اس بار یہ دلچسپ صورتحال ہے کہ پاکستان نے کوئی رافیل طیارہ مار گرائے بغیر اور ایک گولی چلائے بغیر بھارت کو ایک بار پھر چاروں شانے چت کر دیا ہے، اس شاندار فتح پر فیلڈ مارشل عاصم منیر ، وزیراعظم شہباز شریف اور پورا پاکستان بلا شبہ مبارکباد کا مستحق ہے۔
حالیہ چند ہفتوں کے دوران ایرانی سوشل میڈیا پر پاکستان کے بارے میں جو مثبت تبصرے سامنے آ رہے ہیں، وہ اس لئے غیر معمولی ہیں کہ عملاً یہ اجیت دووال اور بھارت کی مودی سرکار کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں، ایکس، ٹیلی گرام اور انسٹاگرام پر ایرانی صارفین نے حالیہ بحران کے دوران پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے اسے ایک ’’سچا ہمسایہ‘‘ قرار دیا۔ گویا یہ نام لئے بغیر بھارت کے ایک ’’جھوٹا ہمسایہ‘‘ ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ جس نے ایران کے ساتھ کئی عشروں کی دوستی کا یہ ’’صلہ‘‘دیا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی نسل کشی سے لے کر جنوبی لبنان اور ایران کے خلاف کھلی جنگ تک نئی دہلی ڈٹ کر تل ابیب کے ساتھ کھڑا ہو گیا، بلاشبہ جنگوں کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ منافقوں کے چہروں سے نقاب کھینچ لیتی ہیں، اس لئے حالیہ چند برسوں نے بھارت کو جس طرح بے نقاب کیا ہے اس کے اسٹریٹجک اثرات اگلے کئی عشروں تک سامنے آتے رہیں گے اور پاکستان کو عقب سے ’’انگیج‘‘کرنے والا ’’اجیت دووال ڈاکٹرائن‘‘اپنی موت مر جائے گا۔ بھارت اور اس کی مودی سرکار نے ایران کے ساتھ چار عشروں کی دوستی کا جو ’’صلہ‘‘ حالیہ برسوں میں دیا ہے اس میں پاکستان کے دوسرے بڑے ہمسائے افغانستان کی طالبان عبوری حکومت اور اس کی ایما پر دہشت گردی میں تیزی لانے والے فتنہ الخوارج کے لئے بھی ایک بڑا سبق ہے، کہ پاکستان سے تعلقات ختم کرکے کابل سرکار نے نئی دہلی سے دوستی کرنے کے لئے جو بھاگ دوڑ کی اس کا انجام بھی آخر کار آزمائش کی گھڑی میں ایران بھارت دوستی والے عبرتناک انجام سے ہی دوچار ہوگا کیونکہ اسرائیل کا اسٹریٹجک پارٹنر ہونے کے ناطے بھارت کبھی بھی کسی مسلمان ملک کا ’’سچا دوست‘‘ نہیں ہو سکتا، اس لئے افغان عبوری حکومت ، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سب کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیئے اور ایک ’’جھوٹے دوست‘‘کی سازشوں کا حصہ بننے کی بجائے ایک ’’سچے دوست‘‘کا دست و بازو بن کر خطے میں ایک عظیم کردار کا حصہ بن جانا چاہیئے کہ جس کا علم بلاشبہ اس وقت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہاتھوں میں ہے، اللہ کرے زور قدم اور زیادہ ۔
ایرانی سوشل میڈیا پر حالیہ چند ہفتوں کے دوران دھڑا دھڑ ایسی پوسٹیں شیئر ہو رہی ہیں جن میں پاکستان کی عسکری قیادت اور بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نام احترام کے ساتھ لیا جا رہا ہے، ایرانی سوشل میڈیا پر جاری یہ ٹرینڈز ان پاکستانیوں کے لئے ایک سبق ہیں کہ جنہوں نے ایران پر اسرائیلی و امریکی حملے کے وقت دور رس سوچ کی حامل پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی پالیسی کیخلاف طوفان اٹھایا اور اپنی فوجی و سیاسی قیادتِ کیخلاف ہرزہ سرائی کی، تاریخ نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کی حکومت و اسٹیبلشمنٹ نے جو پالیسی اختیار کی وہ بہترین اور حالات کے تقاضوں کے عین مطابق تھی۔ حالیہ سوشل میڈیا تبصروں میں ایک ایرانی صارف نے لکھا ہے ’’ مشکل وقت میں ہم نے دوستوں اور تماشائیوں میں فرق دیکھ لیا۔‘‘ایک اور ایرانی صارف نے پاکستان کو خطے میں استحکام کی آواز قرار دیا ہے۔
حالیہ چند ماہ کے دوران اختیار کی گئی پاکستانی ڈپلومیسی نے ایک طرف ایران کا دل جیتا ہے تو دوسری طرف سعودی عرب ، مصر ، ترکی ، قطر، اومان اور عراق جیسے دوست مسلم ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں نئی گہرائی اور گیرائی پیدا ہوئی ہے، متحدہ عرب امارات نے حالیہ برسوں کے دوران بھارت اور اسرائیل کے ساتھ دوستی کی جو پینگیں بڑھائیں ان کے منفی اثرات بھی سامنے آ چکے ہیں، امید ہے کہ متحدہ عرب امارات بھی واپس اسی دھارے میں شامل ہو جائے گا کہ جس میں پاکستان کی زیر قیادت خطے کے تمام مسلم ممالک ازسر نو متحد و منظم ہو رہے ہیں، کہ مثل مشہور ہے ’’صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔‘‘