دفاعِ وطن کے بڑے دائرے
۱۹۶۵ء میں بھارت نے پاکستان کی مختلف سرحدوں پر یلغار کر دی تھی، بالخصوص لاہور اور سیالکوٹ ان کا ٹارگٹ تھے اور لاہور پر قبضہ کرنے کے لیے چڑھائی کر دی تھی۔ پاکستانی فوج کے جوانوں نے جانیں دے کر
۱۹۶۵ء میں بھارت نے پاکستان کی مختلف سرحدوں پر یلغار کر دی تھی، بالخصوص لاہور اور سیالکوٹ ان کا ٹارگٹ تھے اور لاہور پر قبضہ کرنے کے لیے چڑھائی کر دی تھی۔ پاکستانی فوج کے جوانوں نے جانیں دے کر
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم اس وقت قومی سطح پر ہمہ گیر معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی کے ناقابل برداشت بلوں اور ٹیکسوں میں بے تحاشہ اضافہ نے عام شہری تو کجا متوسط طبقہ کی زندگی بھی
اسلامی علوم و فنون کے حوالہ سے تحقیق اور ریسرچ کے شعبہ میں ہم ایک عرصہ سے تحفظات اور دفاع کے دائرے میں محصور چلے آرہے ہیں۔ مستشرقین نے اسلام، قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
(گزشتہ سے پیوستہ) ہماری ناقص رائے میں ان دونوں موقفوں کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ اجتہاد کے مسلمہ اصولوں کے مطابق مجتہد کے لیے ماخذ اور محل دونوں کے ساتھ اجتہادی درجہ کی واقفیت ضروری
(گزشتہ سے پیوستہ) معزز شرکائے محفل! اصل مسئلہ اجتہاد کے باب کا کھلا ہونا یا بند ہو جانا نہیں بلکہ آج کے دور میں انسانی معاشرہ کو درپیش مسائل اور اجتہادی عمل کے درمیان پائی جانے والی وہ خلیج ہے
اجتہاد احکامِ شرعیہ کے چار بنیادی مآخذ میں سے ہے جسے قرآن کریم میں ’’لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم‘‘ کی صورت میں بیان فرمایا گیا ہے اور جناب سالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبلؓ کی طرف
آمشوں کے بارے میں پڑھ سن تو رکھا تھا کہ امریکہ میں کچھ لوگ ایسے بھی آباد ہیں جو بجلی استعمال نہیں کرتے، خچروں کے ذریعے کھیتی باڑی کرتے ہیں، گھوڑا گاڑیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں، اور باقی دنیا
مکہ مکرمہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اور قریش کی طرف سے مخالفت وحی کے بعد شروع ہو گئی تھی، تیرہ سال تک پورے عروج پر یہ مخالفت اور کشمکش رہی جس کے مختلف مراحل
(گزشتہ سے پیوستہ) ایک روز زمیندار نے خود یہ منظر دیکھ لیا کہ آدھی رات کے بعد بندر جنگل سے اترا اور دودھ پینے کے بعد ملائی کٹے کے منہ پر مل کر جنگل میں غائب ہو گیا، اس کے
یہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم ہے اور اس کی حکمت ہے جسے وہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارے بہت سے بھائی جسمانی لحاظ سے معذور پیدا ہوتے ہیں یا معذور ہو جاتے ہیں۔ لیکن وہ بھی سوسائٹی کا حصہ