لاہور، مکہ مکرمہ (ویبڈیسک) مناسک حج کا آغاز گزشتہ روز سے ہوگیا ہے جس کے بعد منیٰ کی خیمہ بستی بھی آباد ہوگئی ، سعودی مکاتب نے عازمینِ حج کو سورج کی تمازت سے بچانے کیلئے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو بسوں کے ذریعے رہائش گاہوں سے منیٰ کی خیمہ بستی میں پہنچا نے کا آغاز کر دیا تاہم پاکستانی خواتین حجاج کاکوئی پرسان حال نہیں، خیمہ بستی میں شدید تپش کے دوران کولر کام کرناچھوڑ گئے ہیں جس کے بعد پیڈسٹل فین کے آگے بزرگ خواتین نڈھال ہوچکی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستانی عازمین حج کی بھی منیٰ کی خیمہ بستی آباد ہوچکی ہے لیکن وہاں کوئی ترتیب نہیں،خیمہ بستی میں اے سی نہیں بلکہ کولر فراہم کیے گئے تھے اور ایک طرف سے کولر ٹرپ ہوا تو وہاں فرشی پنکھے لگادیئے گئے لیکن سعودی عرب میں پڑنے والی شدید گرمی نے عازمین کو نڈھال کردیا، صرف یہی نہیں بلکہ کھانے کی بھی شکایات سامنے آئی ہیں اور عازمین کو آرام کیلئے دیئے گئے بیڈ بھی چھوٹے ہیں جس پر اگر کوئی لیٹے تو پائوں نیچے لٹکے رہتے ہیں۔ ایک خاتون عازم حج نےنجی خبررساں ادارے کو بتایا کہ ایک لیٹ رہی ہے تو دوسری ساتھ بیٹھتی ہے ، پھر پہلی بیٹھتی ہے تو دوسری لیٹ جاتی ہے ، اس طرح گزارا کررہے ہیں لیکن پاکستان کی انتظامیہ نے ابھی تک کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا۔
فریضہ حج کیلئے گئے ایک اور پاکستانی نے بتایاکہ اس سال کوئی طریقہ کار نہیں، کوئی مکتب کا بندہ یا معاون نہیں، بس جہاں جگہ ملے وہیں گھس جائیں، یہی طریقہ کار چل رہا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایاکہ مکتب نمبر266کے تمام حاجی چاہے وہ خواتین ہیں یا مرد، رل رہے ہیں، ان کے رہنے کیلئے بھی جگہ نہیں، حجاج کرام دھوپ سے سر چھپانے کیلئے جگہ ڈھونڈتے پھر رہے ہیں، ناشتہ تک کسی کو نہیں دیا گیا۔

اس سلسلے میں انٹرنیٹ پر ویڈیو زبھی سامنے آچکی ہیں جن میں عازمین حج کو ہاتھ سے پنکھے جھولتے بھی دیکھا گیا اور کچھ عازمین اپنے بیگ نیچے رکھ کر ان پر ہی براجمان ہونے پر مجبور ہوگئے، اس سلسلے میں انٹرنیٹ صارفین بھی وزارت کے ذمہ داران پر برہم دکھائی دے رہے ہیں۔ لوگ سوال کررہے ہیں کہ وفاقی وزیر اور دیگر ذمہ داران سرکاری پروٹوکول میں سعودی عرب کے دورے سے لطف اندوز ہورہے ہیں لیکن عازمین حج کیلئے کسی نے کوئی انتظام کیوں نہیں کیا؟
دوسری طرف وزارت مذہبی امور کے ذمہ داران کا کہناہے کہ اس مرتبہ سعودی حکومت نے پاکستانی معاونین کو کیمپوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے افرا تفری کا سماں پیدا ہوا۔
صارفین سوال کررہے ہیں کہ حج انتظامات کیلئے عازمین حج سے وصول کیے گئے پیسے سفارتخانے نے کھائے ہیں یا پھر متعلقہ وزارت نے یا پھر بیوروکریسی ہی ہڑپ کرگئی ، اس سلسلے میں تحقیقات ہونی چاہیںاور کمیشن بٹھایا جانا چاہیے ۔
سوشل میڈیا صارفین کاکہناتھاکہ معاونین کو روکے جانے کا فیصلہ اچانک نہیں ہوسکتا، یہ پہلے سے طے شدہ ہوگا لیکن حکمرانوں نے پہلے اس طرف توجہ نہیں دی بلکہ وزارت کا وفد سرکاری پروٹوکول میں ادھر ادھر سیرو تفریح اور فوٹوسیشن تک محدود رہا۔
کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ وزیراعظم پاکستان کو فی الفور نوٹس لے کر عازمین حج کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے اور حج کے بعد ہی تحقیقات ہونی چاہیں لیکن فی الفور سہولیات اور عازمین حج کی زندگیاں بچانا زیادہ اہم ہے ۔
یادرہے کہ اس وقت پاکستانی وزیر مذہبی امور چوہدری سالک حسین ،پاکستان کاحج وفد جس میں وفاقی سکریٹری مذہبی امور اور دیگرذمہ داران شامل ہیں،وہ سعودی عرب میں موجود ہیں اور سرکاری سطح پر دعویٰ کیا گیا کہ حکام حج امور کی نگرانی کر رہے ہیں حالانکہ زمینی حقائق کچھ اور ہی داستان بیا ن کررہے ہیں۔
مزیدپڑھیں :خوشخبری، عید سے قبل پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی کا امکان




