Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

سرنگیں بچھانے پر کشیدگی، تھائی لینڈ نے کمبوڈیا پر زمینی اور فضائی حملہ کردیا،جھڑپیں شروع

تھائی (اوصاف نیوز)ایران اور اسرائیلی جنگ کے بعد دنیاکے دو اور ممالک تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ چھڑ گئی،تھائی لینڈ نے اپنی تمام سرحدی گزرگاہیں مکمل طور پر بند کر دیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سرحدی تنازعے نے سنگین صورت اختیار کرلی۔

دوسری جانب کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہون منیٹ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تھائی لینڈ کی ”جارحیت“ کو روکا جا ئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تھائی افواج نے کمبوڈین سرحدی چوکیوں پر ”بلا اشتعال، منظم اور جان بوجھ کر حملے کیے“، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ادھر تھائی وزارتِ خارجہ نے کمبوڈیا پر جوابی الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کمبوڈین افواج نے تھائی سرزمین پر بارودی سرنگیں بچھائیں اور راکٹ فائر کر کے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا، جس میں کم از کم 11 تھائی شہری ہلاک ہو چکے جن میں ایک 8 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔

تھائی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر کمبوڈیا کی طرف سے حملے جاری رہے تو تھائی لینڈ اپنے دفاعی اقدامات میں مزید شدت لائے گا۔ تھائی وزارتِ صحت کے مطابق راکٹ حملوں میں متعدد شہری زخمی بھی ہوئے ہیں، جب کہ سساکیت صوبے میں ایک گیس اسٹیشن پر حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔

تنازعے کا آغاز سرین صوبے میں قدیم ٹیمپل سائٹ ”تا موئن تھوم“ کے قریب ہوا، جس پر دونوں ممالک ملکیت کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ جھڑپیں سرحد کے چھ مقامات تک پھیل چکی ہیں، جہاں بھاری اور ہلکے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی طور پر بھی اس بحران کے سنگین اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ تھائی وزیر اعظم پیتونگتارن شناوترا کو ایک لیک آڈیو کال کے بعد معطل کر دیا گیا ہے، جس میں وہ اپنی فوجی پالیسیوں پر تنقید کرتے سنی گئیں۔ شناوترا خاندان کی کمبوڈین سیاستدان ہون سین سے پرانی دوستی بھی اس کشیدگی کی ایک ذیلی وجہ سمجھی جا رہی ہے۔

دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف سفارتی اقدامات بھی اٹھا لیے ہیں۔ تھائی لینڈ نے سرحدی علاقوں میں بجلی اور انٹرنیٹ بند کرنے کی دھمکی دی، جب کہ کمبوڈیا نے تھائی مصنوعات، فلموں اور ڈراموں پر پابندی لگا دی ہے۔

روس کا مسافر طیارہ گر کر تباہ،5 پچوں سمیت 49افراد ہلاک

یہ بھی پڑھیں