بھوک اور فاقوں سے نڈھال بچے اور ٹرمپ کی منافقت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اسرائیل کے حق میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ پر قبضے کا فیصلہ اسرائیل کرے گا، جبکہ امریکا صرف انسانی امداد پر توجہ دے گا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اسرائیل کے حق میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ پر قبضے کا فیصلہ اسرائیل کرے گا، جبکہ امریکا صرف انسانی امداد پر توجہ دے گا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق
کروسیٹو نے مطالبہ کیا کہ اب ایسے فیصلے کیے جانے چاہئیں جو اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی پر مجبور کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام اسرائیل کے خلاف نہیں بلکہ وہاں کے
اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ پر مکمل قبضہ کر کے حماس کو ختم اور نئی انتظامیہ قائم کرے گا۔ صہیونی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو کے اس منصوبے کے اعلان نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے
دعوے بڑے بڑے مگر عمل میں زیرو،قبر میں دعوے نہیں بلکہ اعمال صالحہ کام آئیں گے،ہمیں بحیثیت قوم اعمال صالحہ کی طرف لوٹنا ہے،ہمیں عبادات کی پابندی کرنی ہے،معاملات اور اخلاقیات کو اسوئہ رسول ﷺ کے مطابق ڈھالنا ہے،ہمیں ہر
نسلی و قومی امتیاز کے تصورات دنیا کی ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی قوم، اپنے رنگ، اپنی نسل اور اپنے نظریے کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے۔ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ برتری صرف اس
(گزشتہ سےپیوستہ) مغربی معاشرے کی اندھی تقلید ترقی کی بجائے مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ مغربی معاشرے کی بے مہابہ آزادی اور خاندانی نظام کا خاتمہ خود اہل مغرب کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ اسی طرح مغرب کی
کرئہ ارض پر حضرت آدم علیہ السلام کی آمد انسان کی پہلی بھول کا نتیجہ تھی۔ اس بھول پر بہشت بریں سے نکلنا انسان کی پہلی سرزنش تھی۔ پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا کبھی بھول سے‘ کبھی کسی کے
ہمارے نائب ناظم کا آپریشن تجویز ہوا، ڈاکٹر نے ان سے سرپرست کا نام پوچھا انہوں نے میرا نام لکھوا دیا۔ اس نے پوچھا، یہ کون ہیں؟ کہا کہ یہ ہمارے روحانی معالج ہیں۔ ڈاکٹر نے تعجب سے پوچھا کہ
جرم انفرادی لیکن پروپیگنڈہ تمام مدارس کے خلاف کیوں؟ کسی ایک دینی مدرسے کے استاد یا طالب علم سے اگر کو ئی جرم سرزد ہو جائے تو میرا جسم میری مرضی اینڈ کمپنی ہو یا دجالی میڈیا اسے سارے دینی
محدث العصر حضرت مولانا سیدیوسف بنوری رحمہ اللہ نےکئی دہائیاں قبل علماء و مصلحین امت اوران کے فتن کےحوالے سےجو فرمایا تھا سوال یہ ہے کہ آج 31جولائی 2025 ء تک علما ء ومشائخ ومصلحین،اورخطباو واعظین میں وہ فتنے بڑھے