Search
Close this search box.
اتوار ,28 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

جب ایک جنرل کے الفاظ قوم کا عقیدہ بن گئے

انسان کی زندگی میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو اسے اُس کی حاصل کردہ فتوحات سے نہیں بلکہ اُن سبقوں سے تراشتے ہیں جو وہ لمحے چھوڑ جاتے ہیں۔ میری زندگی کا سب سے پہلا خواب نہایت سادہ مگر اُتنا ہی وسیع تھا جتنا آسمان ۔ میں پاک فضائیہ کا پائلٹ بننا چاہتا تھا۔ میٹرک کے بعد جب میں

کیا شاخِ مذاکرات پر ثمرات بھی آئیں گے؟

پاکستان اور افغانستان کے مابین، قطر کی میزبانی میں ہونے والی پیش رفت کو معاہدہ کہا جائے یا محض مفاہمت، آگے بڑھنے کے لئے عزم کانام دیا جائے یا سنجیدہ گفتاری کا محض ایک مرحلہ، اِسے خوش آمدید کہنا چاہیے۔ بجا طورپر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اس میں روشنی کی کرن نظر آئی ہے۔ وزیر

پاک افغان جنگ طاغوت کی سازش یا … ؟

افغانستان کی سرزمین گزشتہ نصف صدی سے آتش و آہن کے خونی کھیل میں مصروف ہے۔جسے جہاد کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے جو کبھی کفر و اسلام کی مبارزت گردانی جاتی ہے کبھی دہشت گردی کے خلاف صف آرائی، اور کبھی خطے کی سلامتی کے نام پر لڑی جانے والی جنگ۔ مگر اصل سوال آج تک منت کش

ایمان والے خوش،منافقین پریشان

امریکن برانڈ اسلام کے سہولت کار ڈالر خور مذہبی یوتھیوں،جاویدغامدیوں ،اور دیگر غیر ضروری عناصر کی طرف سے سوشل میڈیا پر دی جانے والی خوفناک گالیوں، الزام تراشیوں اور سوکنوں والے طعنوں کے باوجود قطر سے آنے والی اس خبر نے ہر صاحب ’’ایمان‘‘ کے دل کو خوشیوں سے بھر دیا ہے، خبر کے مطابق برادر مسلم ملکوں قطر اور

پاک افغان سرحد پر امن کا خواب

اقبالؒ نےمشرق کا جنیوا ہونے کا خواب تہران کے لئے دیکھا تھا ، لیکن پورا دوحہ کی صورت ہوا،جو امن مذاکرات کے مرکز کی حیثیت اختیار کرگیا ہے ۔ کس نے سوچا ہوگا کہ پاکستان اور افغانستان اور وہ بھی افغان طالبان کے درمیان بات چیت کے لئے کسی دوسرے کی ضرورت پڑے گی ، لیکن محسن بھوپالی کے الفاظ

باغیانہ فکر کی حامل تنظیموں پر پابندی کا مسئلہ

احتجاج آئینی حق ہے ۔لیکن موقع و محل بھی تو کچھ اہمیت رکھتے ہیں ۔رائے کے اظہار کے مختلف طریقے رائج ہیں۔ تحریر ،تقریر، انٹرویو جیسے روایتی طریقوں کے علاوہ اب سوشل میڈیا پر متعدد وسائل دستیاب ہیں۔ مختلف تنظیمیں اور شخصیات وی لاگ، ٹویٹر ایکس ،فیس بک اور پوڈ کاسٹ کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں

کالم پروفائل