کشمیر کے خلاف مود ی کی نئی بدمعاشی
بھارتی جارحیت کا نیا ہدف‘ کشمیری ڈاکٹروں پر ظلم کی لہرمقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مودی حکومت کی جابر پالیسیاں شدت اختیار کر رہی ہیں۔ تحریک آزادی کی آواز دبانے کے لیے سینکڑوں کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا
بھارتی جارحیت کا نیا ہدف‘ کشمیری ڈاکٹروں پر ظلم کی لہرمقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مودی حکومت کی جابر پالیسیاں شدت اختیار کر رہی ہیں۔ تحریک آزادی کی آواز دبانے کے لیے سینکڑوں کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا
نومبر کی ہوا میں سردی کی پہلی جھونک جب جموں کی وادیوں سے گزرتی ہے تو زمین کے سینے میں دفن لاکھوں لاشوں کے احترام میں اپنی تندی بھول جاتی ہے ، باد بہاری جموں کی وادیوں میں اترتی ہے
پاک افغان مذاکرات کے المناک ناکامی سے امن کی امیدوں کا قتل اور ایک نئے سیکورٹی چیلنج کا آغاز سامنا دونوں ممالک کے ساتھ ساتھ یہاں کی عوام کو بھی کرنا پڑ رہا ہے جس کے بدثمرات بہت تیزی کے
جنوبی ایشیا کی سیاست میں بہت کچھ بدل رہا ہے۔ برسوں سے جمی برف پگھلنے لگی ہے اور پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں ایک نیا باب کھلتا دکھائی دے رہا ہے۔ ماضی کے بوجھ تلے دبی یہ
اکتوبر کا مہینہ اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور ہے، مگر کشمیریوں کے لیے ایک سیاہ داستان کا آئینہ دار ہے۔ 27 اکتوبر 1947 ء کا وہ منحوس دن، جب بھارتی فوج کے ناپاک قدموں نے سرینگر کے ہوائی اڈے کو
کشمیری بھارت اورافغانستان کےدرمیان حالیہ مشترکہ اعلامیہ، جس میں جموں و کشمیر کو بھارت کااٹوٹ انگ قراردیاگیا، ایک ایسی سفارتی بدعہدی ہےجو نہ صرف تاریخی حقائق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے بلکہ مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد
جنوبی ایشیا کا خطہ، جو کبھی اپنی تہذیبوں کی رنگینی، ثقافت کی گہرائی، اور انسانی جذبوں کی گرمی سے جگمگاتا تھا، آج ایک بار پھر جارحیت کے گہرے سائے تلے دب رہا ہے۔ بھارت کی سیاسی و عسکری قیادت کے
جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان بالآخر معاہدہ طے پا گیا، یہ حکومت پاکستان کا تدبر تھا، جس نے تمام تر اشتعال انگیزی کے باوجود صبر اور حکمت کا مظاہرہ کیا اور بات چیت کا راستہ اختیار کیا
پاکستان میں سات دہائیوں کے دوران شروع ہونے والی قوم پرست ، نسل پرست یا کسی بھی تعصب کے تحت اٹھنے والی تحاریک کے تناظر میں کسی بھی نئے فتنے کو سمجھنا قطعی مشکل نہیں رہا ، کیونکہ عیار دشمن
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جتھوں کے ذریعے فیصلے منوانے کی روایت نے معاشروں کو بربادی، تقسیم اور عدم استحکام کے سوا کچھ نہیں دیا ، کراچی میں الطاف حسین کی ایم کیو ایم کو کیسے بھلایا جا