Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

مولانا اللہ وسایا کا کھلا خط چیف جسٹس کے نام

بزرگ اور جید عالم دین مولانا اللہ وسایا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے روح رواں ہیں اور صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر بالخصوص مسلم ممالک کے مذہبی اور علمی حلقوں میں انہیں ایک خاص نمایاں مقام حاصل ہے، ان کا ایک کھلا خط چیف جسٹس آف پاکستان کے نام سوشل میڈیا پر وائرل ہے، گزشتہ روز اس خاکسار نے مولانا سے فون پہ بات کر کے اس خط کی تصدیق چاہی کہ آیا یہ خط ان کی طرف منسوب ہے‘ یا واقعی انہیں کا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں یہ خط میرا ہے، اور انہوں نے یہ خط ادب و احترام کے تمام قرینوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمانان پاکستان کو جو چیف جسٹس کے 6فروری 2024 ء کے فیصلے کے حوالے سے جو اشکلات اور تحفظات پائے جاتے ہیں وہ گذارشات خط میں ’’اپنے‘‘ چیف جسٹس کی خدمت میں پیش کر دی ہیں‘ تصدیق کے بعد یہ خط ’’مینارہ نور‘‘ کی زینت اس نیت سے بنا رہا ہوں تاکہ اکثریتی مسلمان حلقوں کا چیف جسٹس کے فیصلے کے حوالے سے موقف کھل کے سامنے آ سکے،مولانا اللہ وسایا لکھتے ہیں کہ بخدمت عالی جناب ذی المجد والاحترام قاضی فائز عیسیٰ صاحب ‘ چیف جسٹس آف پاکستان اسلام آباد۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ‘ احترامات فائقہ کے ساتھ!
بصد عزت واحترام گزارش ہے کہ محض اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی پاسبانی اور غلامی کے حق کی ادائیگی کے لئے چند کھلی گزارشات عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اس سے محض پاکستان کے استحکام اور طے شدہ امور کو متنازعہ بنانے کے عمل کو روکنے کے علاوہ اور کوئی غرض نہیں، جو کچھ عرض کروں گا حق تعالیٰ علیم وخبیر کو گواہ بناتا ہوں کہ خیر کے جذبہ سے عرض کروں گا۔ اس میں میرے ذاتی کسی بھی مفاد کو کوئی دخل نہیں۔
آپ کے اس منصب کو سنبھالنے سے پہلے یہ بات گردش کررہی تھی کہ آپ کی غامدی صاحب کے حلقہ کے حضرات سے تعلق وشناسائی ہے۔
جناب عمار ناصر صاحب نے بڑی شد ومد سے بہت پہلے کہنا شروع کردیا کہ قادیانی اپنے کو غیر مسلم تسلیم نہ کرکے، چاہے آئین کی بغاوت واہانت کے مجرم ہوں ان کو اقلیتوں کے حقوق تب بھی ملنے چاہئیں اور وہ اپنی چاردیواری میں آئین پاکستان وقانون کے علی الرغم اپنے کفر کو اسلام کے نام پر پیش کریں۔قادیانیت کو اسلام اور اسلام کو کفر قرار دیں ان کو یہ حق ملنا چاہئے۔ اس کے لئے مسلمانوں کو عدالت جانے کے مشورے دئیے جو ریکارڈ پر ہیں۔
قادیانی ملزم کی ضمانت کے کیس میں آپ کے ساتھ بینچ کے ایک رکن نے آپ کی موجودگی میں فرمایا کہ قادیانی خود کو غیر مسلم نہیں مانتے تو کیا سب کو گرفتار کرلیں۔ اس رولنگ میں گویا لائسنس مہیا کیا جارہا ہے کہ قانون وآئین اور عدالت عظمی کو قادیانی نہیں مانتے تو کوئی حرج کی بات نہیں۔ کاش سوچ لیا جاتا کہ قانون کے نہ ماننے والوںکو قانون کا پابند بنانے کی بجائے قانون کی حکمرانی اور رٹ قائم کرنے کی بجائے انہیں کیا راہ دکھلائی جارہی ہے۔ اگر متذکرہ بالابیان کردہ خدشات کے تناظر میں اسے دیکھیں تو معاملہ سنجیدگی سے غور کرنے کا متقاضی ہے۔
6 فروری 2024ء کے فیصلہ میں غیر متعلقہ باتوں کو شامل کیا گیا۔بعد میں22 فروری کو سپریم کورٹ نے پریس ریلیز کے ذریعہ اس فیصلہ کی وضاحت دی۔ پریس ریلیز کی وضاحت اور فیصلہ کے لب ولہجہ، اغراض ومقاصد میں زمین وآسمان سے زیادہ تفاوت ہے۔ یہی بات فیصلہ کے وقت سامنے رکھی جاتی تو پوری پاکستانی مسلم قوم کبھی اضطراب میں مبتلا نہ ہوتی۔
22 فروری2024 ء کے پریس ریلیزمیں کہا گیا چیف جسٹس صاحب اپنے فیصلوں میں قرآن وسنت اور خلفائے راشدین کے فیصلوں سے استدلال کرتے ہیں۔ آپ کے زیر سایہ اس ملک کا ایک مسکین باشندہ (راقم) آپ سے سوال کرسکتا ہے کہ سیدنا عمرؓ تو قرآن مجید یاد کرنے والوں کو سرکاری سطح پر وظائف دے کر حفظ قرآن کی ترغیب دیتے اور آپ نے پہلے حکومت کی طرف سے ملنے والے حفظ قرآن کے اضافی نمبرات کو اڑا دیا۔کہیں یہ غامدی صاحب کے اس نظریہ کا اثر تو نہیں کہ مملکت کا مذہب سے کوئی رشتہ نہیں۔
پھر پنجاب حکومت کی طرف سے ریویو کی درخواست، اس پر بینچ کی تشکیل 26 فروری کی سماعت میں کھلے عام ہر ایک کو فریق بننے کی دعوت دی اور10 اداروں سے رائے مانگی گئی۔ اس میں المورد کو بھی شامل کردیا گیا۔ جو قرار داد مقاصد، قومی اسمبلی کے قادیانیوں کے متعلق فیصلہ اور پاکستان کے اسلامی مملکت ہونے کے انکاری ہیں۔ ان کو اس میں شامل کرنا۔ جامعہ امدادیہ کے ایک مفتی صاحب کی غامدی نظریات سے وابستگی کے پس منظر میں بھی اس ادارہ کو شامل کرنا عوام میں زیر بحث آئے۔
عالیجاہ! بہت ہی ادب سے درخواست ہے کہ ڈاکٹر مشتاق صاحب کی اسلامی یونیورسٹی سے فراغت، آپ کا ان کو اپنے زیر سایہ لینا، ڈاکٹر صاحب کی نظریاتی وابستگی کے ساتھ ان امور کو عام طور پر جو زیر بحث ہیں۔ اس تناظر میں سب کچھ دیکھا جارہاہے۔ممکن ہے کہ یہ مبینہ تاثرات آپ کے علم میں نہ ہوں۔ محض آپ کی خیرخواہی کے لئے عرض ہے کہ طے شدہ امور کو متنازعہ بنانے کے لئے کیا کیا عوامل اور آرا کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ اس سے توجسٹس منیر کے زمانہ کی یاد تازہ ہوگئی۔ جس کے متعلق جناب حمید نظامی نے غیر ملکی دورہ سے واپسی پر آغا شورش کو کہا تھا کہ منیر نے اپنے فیصلہ میں یہ لکھ کر کہ علما مسلمان کی تعریف پر متفق نہیں ایسی دستاویز اسلام کے خلاف مغربی لوگوں کو مہیا کردی جسے وہ خطرناک ہتھیار کے طور پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔
حالانکہ صدیوں سے علم الکلام کی تمام کتابوں میں مسلمان کی تعریف موجود ہے۔ جسے ہر عالم جانتاہے تصدیق الرسول بما جاء بہ وعلم مجیئہ بالضرور ۃ قرآن وسنت کے علوم کی روشنی میں اتنی جامع مانع تعریف کہ اسے صدیاں بیت گئیں کوئی چیلنج نہیں کرسکا۔
قومی اسمبلی میں طے ہوا کہ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہوگا، پاکستان اسلامیہ جمہوریہ مملکت ہوگی ۔ اس کا صدر مسلمان ہوگا۔ اب مطالبہ ہوا کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے۔ کوثر نیازی صاحب مرحوم نے جناب بھٹو صاحب سے جسٹس منیر کا اگلا ہوا نوالہ چبا کر کہا کہ مسلمان کی تعریف علما پیش نہیں کرسکتے۔ جناب بھٹو صاحب نے تعریف مانگی۔ مولانا عبدالحق نے دو سطری تعریف لکھی اور حضرت مفتی محمود کو پکڑا دی توانہوں نے اسمبلی کے فلور پر پیش کی۔ حضرت شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور احمد صاحب نے تائید کی۔ پانچ منٹ میں مسلمان کی تعریف آئین کا حصہ بننے کی کارروائی مکمل ہو گئی۔ آئین میں طے شدہ امر کو آئین کی پاسبانی کا حلف اٹھانے والی سب سے بڑی قابل احترام شخصیت پھر دہرائے۔ فرمائیں کہ اس سے پاکستانی قوم کیا سمجھے۔
26 فروری 2024 ء کی تاریخ کو دعوت دی گئی کہ جو چاہے ریویو میں فریق بنے۔ 28 مارچ کو فرمایا کہ سوائے مدعی، ملزم یا حکومت کے کوئی فریق نہیں بن سکتا۔ جنہوں نے فریق بننے کی درخواستیں دی ہیں وہ تحریری بیان جمع کرائیں۔ قبلہ اگر کوئی فریق نہیں بن سکتا تو 26فروری کو یہ رعایت کیوں دی گئی اور اگر رعایت دی تو اب ان کو سنتے کیوں نہیں۔ یہی شکوہ تو 6 فروری کو بھی پیدا ہوا۔ جب مدعی کے وکیل کی سرزنش ہوئی۔ انہیں نہیں سنا گیا۔ موبائل، کیمرہ، لیپ ٹاپ سے مسلح غیر ملکیوں کی فوج کے سامنے یہ سب کچھ ہونے کی داستانیں دہرائی جارہی ہیں۔ شاید آپ کے علم میں نہ ہو لیکن جو کہا جارہا ہے وہ یہی ہے۔
( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں