Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

خطرناک ’’مولانا ‘‘

جمعرات کی شام مزار قائد کے سائے میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا اک سمندر تھا، انسانوں کے اس سمندر میں سندھی ،پشتو، پنجابی، ہندکو، بروہی، اردو بولنے والے سب ہی شامل تھے، اکثریت کے چہروں پہ داڑھیاں جبکہ سروں پر پگڑیاں اورٹوپیاں سجی ہوئی تھیں،تکبیر، رسالت ﷺ، الجہاد اور ختم نبوتﷺ کے جذباتی نعروں سے مزار قائد اور اس کے گرد ونواح کی فضائیں معطر رہیں،یہ خاکسار گزشتہ تقریباً 35 سالوں سے مولاناکے سیاسی اتار، چڑھائو ’’حکومتوں‘‘اور ’’اپوزیشن‘‘ میں آنیوں جانیوں کو بڑےقریب سےدیکھتا چلا آرہا ہے،جیسےخطرناک مولانااب لگے،اس سے قبل دیکھا نہ سنا،کیا مولانا ایسے ہی ’’خطرناک‘‘رہیں گے؟یاپھر آگےچل کر یہ ساری ’’خطرناکی‘‘ اپنےجاندار مخصوص قہقہے کی نذر کر دیں گے؟ یادش بخیر، غالباً یہ1997ء کی بات ہے کہ مسجد خلفا راشدین کراچی کمپنی اسلام آباد میں جڑواں شہروں کے علماء کرام سےمولانا نے کلاشنکوف کےفضائل پرخطاب فرمایاتھا،یہ خاکسار بھی وہاں موجود تھا،اس سے قبل 1992 ء کی بات ہے ،افغان مجاہدین کے بہادر اور شیر دل کمانڈر مولوی جلال الدین حقانی نور اللہ مرقدہ کی خصوصی دعوت پر مولانا فضل الرحمن جب خوست کے دورے پر پہنچے،فاتخ خوست مولوی جلال الدین حقانی مرحوم نے اپنے مجاہدین کے ہمراہ جس والہانہ محبت کے ساتھ مولانا کا استقبال کیا۔
اس خاکسار نے اس کا آنکھوں دیکھا احوال تب کراچی سے شائع ہونے والے ایک ماہنامہ میں تفصیل سے لکھاتھا،تب خوست کے گورنرہائوس کی ایک خوبصورت غار میں مولانا فضل الرحمن کی پریس کانفرنس جاری تھی،مولانا کے دائیں،بائیں مولوی نظام الدین حقانی اور کمانڈر ابراہیم حقانی بھی تشریف فرما تھے،عین اسی دوران غار کے اوپر آ کرلگنے والے سکڈ میزائل کے دھماکے نے غار کی درو دیوار تک کو ہلا ڈالا،مگر کیا مجال کہ ’’مولانا‘‘ ذرہ برابر بھی بدکے یا ڈرے ہوں؟ دلچسپ بات یہ کہ انہوں نے اپنے خطاب کے جملے تک کو آگے ،پیچھے نہیں ہونے دیا،مولانا کی حفاظت کے پیش نظر مجاہدین کو تو پریشانی لاحق تھی، مگر مولانا نے بڑے اطمینان سے نہ صرف یہ کہ پریس کانفرنس کے خطاب کو مکمل کیا،بلکہ بعد میں صحافیوں کے سوالات کے جواب بھی دیئے ، مطلب یہ کہ مولانا فضل الرحمن کی بہادری پراس خاکسار کو کبھی شک و شبہ نہیں رہا،ہاں البتہ ان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنی جرات و بہادری کی پاسبانی ’’عقل’’اور ’’اعتدال‘‘کوسونپ رکھی ہے،مولانا فضل الرحمن کو ان کے چاہنے والے سیاست کا ’’سلطان‘‘ کہتے ہیں،اس لئے نہیں کہ مولانا ،کہیں خدا نخواستہ انہیں بریانی یا قورمے کی دیگیں کھلاتے ہیں،بلکہ اس لئے کہ وہ ’’مولانا‘‘ کو اپنا امیراور مقتدا مانتے ہیں،جاننے والےجانتے ہیں کہ جس قدرمولانا فضل الرحمن کی کردار کشی کی تدبیریں کی جاتی رہیں،سیکولر اور لبرل میڈیا نے جتنا جھوٹا پروپیگنڈہ مولانا کے خلاف کیا،اور عمران خان تو وزیراعظم ہوتے ہوئے بدتہذیبی اور بےادبی کی ساری حدیں پھلانگ کر مولاناپر رکیک حملے کرتے رہے،لیکن اس سب کے باوجود مولانا کے چاہنے والوں کی محبت انکے لئے مزید طاقتور بن کر سامنے ائی،میں نہیں سمجھتا کہ مولانا کی حالیہ تقریروں کو بالا دست قوتیں ’’ہلکا‘‘لینے کی کوشش کریں گی،اس لئے کہ مولانا کی متانت و سنجیدگی بھی سب پر عیاں ہے،مولانا فضل الرحمن کی حب الوطنی کی گواہی تو آئی ایس پی آر کے سابق ترجمان دےچکے ہیں،اس لئےمولانا کی حب الوطنی پہ سوال اٹھانا بھی بیوقوفی کے سوا کچھ نہیں،اس خاکسار کا وجدان کہتا ہےکہ مولانا پارلیمان کی سیاست کو خیرباد نہیں کہیں گے،لیکن فروری 2024ء کے انتخابات میں ہونے والے ’’دھاندلے‘‘ پروہ سخت غصے میں ہیں،حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی ذمہ داری ہے،کہ وہ انتخابات میں کی جانے والی دھاندلی کے حوالے سے مولانا کےموقف کوسمجھنے کی کوشش کرے،مذہب سےمحبت کرنے والے لاکھوں پاکستانی جمعیت علمائے اسلام کو ووٹ دیں یا نہ دیں،مگر وہ مولانا کے حالیہ بیانیہ کو بڑے غورسے سن رہےہیں’’مولانا فضل الرحمن جب یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو سیکولر ریاست بنا دیا گیا ہے‘‘ سچی بات ہے کہ مولانا کی اس بات نے کروڑوں اسلام پسند پاکستانیوں کو بے چین کردیاہے،لوگ سوال اٹھارہے ہیں کہ ایک اسلامی آئین کے ہوتے ہوئے پاکستان کو سیکولر ریاست کیسے بنایاجاسکتا ہے؟
چالیس سال سےمولانا سیاست میں ہیں، جس، جس نے بھی ایک اسلامی نظریاتی ریاست کو سیکولر بنانے کے لئے کردار ادا کیا،مولانا ان کے نام بھی قوم کو بتائیں ، اگر ’’مولانا‘‘سیکولر پاکستان کو دوبارہ اپنے اصل یعنی اسلامی نظریاتی پاکستان، ایک ایسا پاکستان کہ جس میں اسلامی نظام کا بھی بول بالا ہو، اپنی جہدوجہد کا مرکز و محور باور کروانے میں کامیاب ہو گئے،تو یہ ایک بڑی کامیابی تصورہوگی،یہ خبر قوم کے لئے خوشخبری اور مولانا فضل الرحمن کےلئے سعادت سےکم نہیں،کہ وہ نہ صرف آئین بلکہ اسلامی پاکستان اور نفاذ اسلام کی بات بھی کرتے ہیں،صرف یہی نہیں بلکہ تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت کے لئے انکی آواز بڑی جرات مندانہ ہوتی ہے،مولانا اور دوسرے سیاستدانوں میں شائد یہی وہ سب سے بڑافرق ہے،کہ جو مولانا کو ان سب میں ممتازکرتاہے،مولانا نےایک بڑا سیاستدان ہوتے ہوئے حماس کے مجاہدین کی جس شدت کے ساتھ حمایت کی،شریف،زرداری اورخان حتیٰ کہ ر جرنیل تک اس سے تہی دست و تہی دامن رہے،لا ریب افغانستان کا بھگوڑا امریکہ اسرائیل کا سب سےبڑاسرپرست اورپشتی بان ہے،مولانا جب یہ کہتےہیں کہ عالمی صہیونی اسٹیبلشمنٹ کےدبائو پرانہیں حماس کی حمایت کی سزا دی گئی تو ان کی یہ بات قابل فہم بھی ہے اور قابلِ غور بھی، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کراچی عوامی اسمبلی کے اجتماع سےخطاب کرتےہوئےکہاہےکہ ملک کو ٹھیک کرو اور دوبارہ الیکشن کرائو ’’ورنہ عوامی سمندر میدان میں آنے کے لیے تیار ہے‘‘دوبارہ الیکشن کرائو اگر عوام ہمیں قبول نہیں کرے گی تو ہم عوامی فیصلہ قبول کریں گے۔2024 ء کے انتخابات میں سندھ اسمبلی ،ایوان صدر اور دیگر اسمبلیاں فروخت کی گئی ہیں، ہم ایک آزاد خودمختار،باوقار اور حقیقی اسلامی پاکستان کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، اسرائیل کی مخالفت ، حماس کے حملے کی حمایت اور افغانستان اور پاکستان کو بہتر کرنے کی جدوجہد کی ہمیں سزا دی گئی اور ایوانوں سے باہرنکال دیاگیا۔اب ہماری جدوجہد سڑکوں پرحقوق کےحصول تک جاری رہے گی،قادیانیوں کے لیے ریلیف اورختم نبوت کےمسئلےپرعدالت عظمی کا فیصلہ آئین کے حقیقی منشا کےخلاف آیا تو وہ ہمارے جوتے کی نوک پر ہو گا، سندھ کے لوگوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیےخود میدان میں آنا ہو گا ، تبھی ان کے حقوق بھی محفوظ ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں