Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

تحریک ختم نبوت ﷺکی چند یادیں

(گزشتہ سے پیوستہ)
میں نے خود دو تین مقدمے بھگتے ہیں کہ قادیانیوں کا نام لے کر ان کے خلاف بات کیوں کی ہے۔ گوجرانوالہ سے پیپلز پارٹی کے ایم این اے میاں منظور الحسن ؒ عام طور پر ہمارے وکیل ہوتے تھے۔ ان کا کمال یہ تھا کہ ختم نبوت کا کیس خود لڑتے تھے اور بلا فیس لڑتے تھے۔ ایک ہمارے دوست ارشد میر وکیل ہوتے تھے اور صدر رفیق تارڑ صاحب بھی گوجرانوالہ بار میں رہے ہیں ۔ ختم نبوت کے حوالے سے کوئی کیس بھی ہوتا یہ تینوں حضرات ہر وقت حاضر ہوتے تھے، بلا فیس کیس لڑتے تھے، خرچہ جیب سے کرتے تھے کہ ختم نبوت کا کیس ہے۔
ایک اور لطیفہ مجھے یاد آگیا ہے ذکر کر دیتا ہوں۔ جب یحییٰ خان نے مارشل لاء لگایا تو مولانا عبدالقیوم ہزارویؒ جو ہمارے استاد تھے انہوں نے جمعہ پڑھا یا اور ختم نبوت پر تقریر کی اور قادیانیوں کو خوب رگڑا۔ شام کو مارشل لاء کے تحت گرفتار ہوگئے۔ نیا نیا مارشل لاء لگا تھا، آپ گرفتار ہوئے اور جیل میں چلے گئے۔ حضرت مولانا عبدالواحد صاحبؒ نے ساتھی بلائے اور مشورہ کیا کہ مسئلہ الجھن والا ہو گیا ہے۔ مولوی صاحب نے جلد بازی کر دی ہے، نیا نیا مارشل لاء لگا ہے اور نیا تھانے دار اپنے آپ کو دکھایا کرتا ہے، اس نے انہیں جیل میں ڈال دیا ہے۔ اب مسئلہ یہ بن گیا ہے کہ اگلا جمعہ اس مسجد میں جو پڑھائے گا وہ اگر ختم نبوت کی بات نہیں کرے گا تو یہ ہمارا اعتراف شکست ہوگا کہ ہم پیچھے ہٹ گئے ہیں، اور اگر ختم نبوت پر بات کرے گا تو پکڑا جائے گا اور پھر یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا، ہماری یہ مشاورت ہو رہی تھی۔
مشورے میں مولانا عبدالواحد صاحبؒ نے مجھے فرمایا زاہد! یہ کام تو ہی کرے گا، فرمایا کہ وہاں جمعہ تم نے پڑھانا ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے، پڑھا دوں گا۔ انہوں نے فرمایا کہ بچنا بھی ہے۔ میں نے کہا ان شاء اللہ، اللہ خیر کرے گا۔ چنانچہ وہاں اگلا جمعہ میں نے پڑھایا۔ تکنیک یہ تھی کہ تقریر ساری ختم نبوت پر کرنی ہے اور کوئی ایسی بات بھی نہیں کہنی کہ ان کو موقع ملے کہ مجھے گرفتار کر سکیں اور مقدمہ بنا سکیں۔ بات بھی کرنی ہے اور نہیں بھی کرنی۔ یہ فن ہم نے مولانا محمد علی جالندھریؒ سے باقاعدہ سیکھا ہے کہ بات کہو مگر گرفت میں نہ آؤ۔ الحمد للہ میں نے وہاں ایک گھنٹہ تقریر کی۔ پوری تقریر ختم نبوت پر تھی، وہ تقریر باقاعدہ ریکارڈ ہوئی، اس زمانے میں کیسٹیں بہت کم ہوتی تھیں لیکن میری تقریر ریکارڈ ہوئی۔
سید مہتاب علی شاہ سی آئی ڈی میں ہوتے تھے۔ چار پانچ دن کے بعد وہ میرے پاس آئے اور کہا مولوی صاحب! آپ نے کیا کیا ہے؟ میں نے کہا کیا ہوا؟ تو انہوں نے کہا تین دن سے ڈی ایس پی سر پکڑ کر بیٹھا ہے کہ کس جملے پر مقدمہ بناؤں، اسے کوئی ایسا جملہ ہی نہیں مل رہا۔ انہوں نے بتایا کہ دو صفحے پر تقریر لکھی پڑی ہے، میں نے ہی لکھی ہے۔ لیکن پی ڈی ایس سوچ رہا ہے کہ مقدمہ بنتا ہے یا نہیں بنتا۔ یہ اس دور کا ماحول یہ تھا کہ قادیانیت کا نام لینا بڑا رسک ہوتا تھا۔
ایوب خان کے زمانے میں سعودی عرب میں قادیانیوں کے داخلے پر پابندی نہیں تھی۔ قادیانی حج کے لیے جاتے تھے۔ ایک سال خبر آئی جس نے پورے مسلمانوں کو ہلا کر رکھ دیا کہ سعودی عرب میں خانہ کعبہ کے غسل میں ظفر اللہ خان شریک ہوئے ہیں۔ اس وقت یہ عالمی عدالت انصاف کے جج تھے۔ اس پر ہمیں بہت غصہ آیا اس پر ملک بھر میں بہت احتجاج ہوا کہ یہ غیر مسلم ہے اسے کیوں بلایا ہے اور سعودی عرب نے خانہ کعبہ کے غسل کے پروٹوکول میں اسے کیوں شریک کیا ہے۔ اس احتجاج پر بھی میں نے ایک مقدمہ بھگتا ہے۔ اس ملک گیر احتجاج اور عالمگیر مہم کے نتیجے میں اگلے سال سعودی گورنمنٹ نے قادیانیوں کے حج پر آنے پر پابندی لگا دی کہ چونکہ یہ غیر مسلم ہیں اس لیے حج پر نہیں آسکیں گے۔
اس پر آغا شورش کاشمیری مرحوم جو ختم نبوت کے محاذ کے بڑے جرنیل، لیڈر اور دبنگ انسان تھے ۔ انھوں نے چٹان میں چھ سات سطروں کا ایک شذرہ لکھا جس کا عنوان تھا” الحمد للہ“ آگے تین چار سطریں تھیں کہ یا اللہ تیرا شکر ہے کہ سعودی عرب کو بھی خیال آیا اور انہوں نے قادیانیوں کو پہچانا ہے اور یہ اقدام کیا ہے ۔ آغا صاحب نے شذرہ لکھ کر سعودی گورنمنٹ کا خیر مقدم کیا کہ ہماری ایک بڑی منزل طے ہو گئی ہے کہ سعودی عرب نے قادیانیوں کے داخلے پر پابندی لگادی ہے۔ اس پر چٹان پریس ضبط ہوگیا، ، دفتر سیل ہو گیا ، چٹان کا ڈیکلریشن منسوخ ہوگیا اور طوفان مچ گیا۔ اتفاق سے ان دنوں موچی دروازے میں جمعیت علماء اسلام کی کانفرنس تھی۔ آغا شورش کاشمیری جمعیت میں کبھی نہیں رہے، بلکہ مخالفین اور ناقدین میں رہے ہیں لیکن بہرحال ہمارے حلقے کے آدمی تھے اور یہ ختم نبوت کا مسئلہ تھا، تو ہم نے فیصلہ کیا کہ کانفرنس میں آغا صاحب کی آخری تقریر ہوگی۔ ہم آغا صاحب کو سٹیج پر فراہم کریں تاکہ وہ اپنی بات کہہ سکیں۔ اس زمانے میں سید احمد سعید کرمانی مغربی پاکستان کے صوبائی وزیر اطلاعات تھے، ان کی کوئی ذاتی مخالفت بھی ہو گئی تھی ، مگر مسئلہ ختم نبوت کا تھا ، بہرحال آغا صاحب نے ۶ مئی ۱۹۶۸ء کو جمعیت علماء اسلام کے جلسے میں پورے عروج پر بڑی خوفناک تقریر کی۔
اس کے بعد آغا صاحبؒ گرفتار ہوگئے، پھر تحریک ختم نبوت کے جلسے ہوتے رہے اور ایک لمبا سلسلہ شروع ہو گیا۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں