Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

تحریک ختم نبوت ﷺکی چند یادیں

(گزشتہ سے پیوستہ)
آغا صاحب نے جیل میں کسی مسئلے پر بھوک ہڑتال کر دی اور چند دن اس کیفیت میں گزرے کہ آغا شورش کے بارے میں تشویش ہونے لگ گئی کہ آغا اب گیا یا اب گیا۔ آغا شورش انکاری تھے اور جب وہ بھوک ہڑتال کرتے تھے تو واقعتاً بھوک ہڑتال ہوتی تھی۔ پورے ملک میں ہیجان کی کیفیت تھی کہ پتا نہیں اب کیا ہوگا۔ اگر اس میں آغا صاحب فوت ہو جاتے تو ملک میں بڑا طوفان برپا ہوتا، لیکن بالآخر گورنمنٹ نے ہتھیار ڈال دیے اور آغا صاحب کے مطالبات مان لیے۔ پریس بحال کیا، چٹان بحال کیا اور بھی ایک دو باتیں تھیں وہ انہوں نے مان لیں۔
مجھے یاد ہے کہ میں اس تحریک میں نعرے لگانے والوں میں شامل تھا۔ ہم بھی اس زمانے میں تقریریں اور جلسے کیا کرتے تھے ۔ استاذ محترم مولانا عبدالقیوم صاحب ؒ ختم نبوت کے امیر تھے، وہ ہمارے قائد تھے، ہم ان کے شاگرد اور کارکن تھے اور ختم نبوت کے دفتر میں میٹنگیں ہوتی تھیں۔ ہم نے اس دور میں ’’الحمد للہ‘‘ کو عنوان بنا لیا اور ایک مہم چلائی، الحمد للہ ہمارا ماٹو بن گیا تھا، ہم نے الحمد للہ کی مہر بنوائی اور ہر چیز پر الحمد للہ کی مہر لگاتے تھے، نوٹوں پر بھی الحمد اللہ کی مہر۔ یہ مہر اتنی چلی کہ سٹیٹ بینک کو پابندی لگانی پڑی کہ جس نوٹ پر الحمد للہ کی مہر ہوگی اسٹیٹ بینک اسے قبول نہیں کرے گا۔ بظاہر تو الحمد للہ تھا لیکن گورنمنٹ بھی سمجھتی تھی کہ اس کا مطلب کیا ہے اور ہم بھی سمجھتے تھے۔ بہرحال ایوب خان کے دور میں یہ مراحل گزرے۔ اور ان مراحل میں الحمد للہ میں بھی شریک رہا ہوں۔ یہ سب میرے طالب علمی کے دور کے واقعات ہیں۔ ہم پڑھتے بھی تھے اور ساتھ یہ حرکتیں بھی کرتے تھے۔
اس دور کا ایک اور واقعہ عرض کر دیتا ہوں ۔ آپ اس وقت کی سنگینی دیکھیں اور اکابر کی حکمت عملی دیکھیں۔ ہمارے اکابر بڑی حکمت عملی سے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے کہ یوں نہیں تو یوں سہی، یوں نہیں تو یوں کر لیتے ہیں، وہ متبادل راستہ نکالتے تھے۔ شیرانوالہ باغ میں ختم نبوت کا جلسہ تھا، سید حسنات احمد گوجرانوالہ کے ڈی سی تھے۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ سٹیج پر پہنچے تو پولیس کا انسپکٹر آگیا اور اس نے چٹ پکڑا دی کہ ڈی سی صاحب کا آرڈر ہے آپ احمدیوں کے خلاف کوئی بات نہیں کریں گے، ڈی سی نے گورنمنٹ کی طرف سے پابندی لگا دی ہے۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ بڑے غضب کے مقرر تھے لیکن ٹھنڈی ٹھنڈی سادہ سادہ باتیں کرتے تھے مگر کیا مجال ہے کہ مجمع چار گھنٹے میں ان کے سامنے ہل جائے۔ جب ڈی سی کا آرڈر ملا کہ آپ احمدیوں کے خلاف بات نہیں کریں گے جبکہ لوگ یہی باتیں سننے آئے تھے، تو مولانا جالندھریؒ چونکہ بہت ذہین آدمی تھے ، مجمع میں چٹ پڑھ کر سنا دی اور ہنستے ہوئے فرمایا اچھا سرکار کا آرڈر آ گیا ہے کہ مرزائیوں کو کچھ نہیں کہنا ، ہم تو غیر سیاسی لوگ ہیں، قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ یہ حکمران ہیں، ہمارے مائی باپ ہیں ، ان کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے، آرڈر آ گیا ہے میں کیا کروں۔ ویسے آج میں یہ بات بھی کرنے آیا تھا، یہ بات بھی کرنی تھی، یہ بھی کرنی تھی، یہ بھی سوچ کر آیا تھا۔ آپ بھائیوں سے یہ بھی کہنا تھا، یہ بھی کہنا تھا۔ یوں جو باتیں کہنی تھیں وہ سب کی سب اس انداز میں کہہ دیں اور اس انداز میں دس بارہ منٹ اپنے مقصد کی بات کہہ کر فرمایا کہ چونکہ سرکار کا آرڈر ہے لہٰذا میں اس کے خلاف نہیں کرتا اور معراج شریف پر تقریر کروں گا۔ اس کے بعد انہوں نے معراج کے مسئلہ پر ایک گھنٹہ تقریر کی۔ آپؒ غضب کے متکلم تھے، میں کہتا ہوں پنجابی زبان میں اتنا بڑا متکلم تاریخ نے پیدا نہیں کیا ہو گا، آپ حقیقی معنوں میں متکلم تھے۔
بھٹو مرحوم کے دور میں ۱۹۷۳ء میں تحریک ختم نبوت کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ جس کا وقتی باعث فیصل آباد کا واقعہ بنا کہ نشتر میڈیکل کالج ملتان کے لڑکے چناب ایکسپریس سے ٹور پر جا رہے تھے جو ربوہ سے گزرتی تھی۔ ملتان یعنی حضرت شاہ جیؒ کے شہر کے نوجوان تھے انہوں نے ربوہ اتر کر قادیانیوں کے خلاف نعرے بازی کی ۔ قادیانیوں نے اس کا نوٹس لیا اور انہوں نے ٹوہ لگائی کہ جب یہ لڑکے واپس آکر پھر یہاں اتریں گے اور نعرے لگائیں گے تو ہم انہیں پکڑ کر ان کی پٹائی کریں گے۔ چنانچہ واپسی پر وہ نوجوان اپنے معمول کے مطابق نیچے اترے تو قادیانیوں نے ان کو گھیر لیا اور ان کی پٹائی کی، ان میں سے کچھ لڑکے زخمی بھی ہوئے، یوں قادیانیوں نے اپنا بدلہ لیا۔
فیصل آباد ربوہ کے قریب ہی ہے۔ یہ خبر فیصل آباد پہنچی ۔مولانا تاج محمودؒ فیصل آباد میں سٹیشن کے قریب ہی ہوتے تھے۔ ریلوے اسٹیشن فیصل آباد پر ہی ان کی مسجد ہے۔ مولانا تاج محمودؒ نے یہ کیا کہ ان لڑکوں کے آنے تک اردگرد کے جتنے ساتھی بلا سکتے تھے ان کو بلا کر آنے والے لڑکوں کا استقبال کیا۔ اگرچہ انہیں وقت تھوڑا ملا لیکن بہرحال لوگوں کے جذبات تو پہلے ہی تھے، لوگوں نے وہاں جلوس نکالا اور احتجاج کیا کہ قادیانیوں کو گرفتار کیا جائے۔ یہ تھا اس تحریک کا نقطہ آغاز۔ چنانچہ فیصل آباد میں ہڑتال ہوئی ۔ اگلے دن ہم نے بھی گوجرانوالہ میں میٹنگ بلا لی اور تیسرے چوتھے دن گوجرانوالہ میں بھی ہڑتال ہوئی۔ یوں بات چلتے چلتے آگے بڑھ گئی۔
یہ وہ دور تھا جب میں جامع مرکزی مسجد میں بطور نائب خطیب کے حضرت مولانا مفتی عبدالواحد صاحبؒ کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ جامع مسجد تقریباً سوا سو سال سے شہر کا مذہبی مرکز بھی ہے ، سیاسی مرکز بھی ہے اور سماجی مرکز بھی ہے۔ جامع مسجد ہمیشہ تحریکات کا مرکز رہی ہے۔ چاہے دینی تحریکات ہوں یا سیاسی، آزادی کی تحریک، ختم نبوت کی تحریک اور تحریک نظام مصطفی میں ہیڈ کوارٹر یہی رہا ہے۔ اور یہ ہماری روایت چلی آ رہی ہے کہ شہر میں کوئی بھی مذہبی یا ملی اجتماعی مسئلہ ہو تو ہم دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ، جماعت اسلامی، تاجر برادری، وکلاء سب کو بلاتے ہیں اور سب آتے ہیں۔ پچاس سال تو مجھے ہو گئے ہیں، جب بھی ضرورت پڑی ہے بلایا ہے تو سب آئے ہیں۔ اس کا عقبی کمرہ جو اَب ہال میں شامل کر لیا ہے وہ ہماری میٹنگوں کے لیے مخصوص تھا۔ ہمارے ایک سی آئی ڈی کے انسپکٹر ایک دفعہ کہنے لگے کہ مولوی صاحب! جب یہ پیچھے کا کمرہ کھلتا ہے تو ہمارے کان کھڑے ہو جاتے ہیں کہ کوئی تحریک چلنے والی ہے اور ہم سونگھنا شروع کر دیتے ہیں کہ اب کچھ ہونے والا ہے اور مولوی کچھ کرنے لگے ہیں۔
بہرحال اس موقع پر مولانا عبدالواحد صاحبؒ نے میٹنگ بلائی، تمام مکاتب فکر کے علماء آئے۔ میٹنگ میں ہم نے کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ایکشن کمیٹی تشکیل دی۔ مولانا ابو داؤد محمد صادقؒ اس کے صدر تھے جو بریلوی مکتب فکر کے بڑے عالم تھے ، حکیم عبدالرحمٰن آزادؒ پرانے احراری اور بڑے پرانے اہل علم مجاہد علماء میں سے اہل حدیث مسلک کے عالم تھے، وہ سیکرٹری جنرل تھے اور میں رابطہ سیکرٹری تھا، یہ تحریک میں عملاً میری پہلی ذمہ داری تھی۔ بعد میں شہر کی مجلس عمل بنی تو میں اس کا سیکرٹری جنرل تھا۔ اس موقع پر چونکہ میرے کمرے میں ہی دفتر تھا تو زیادہ تر معاملات میں ہی سنبھالتا تھا۔ مولانا عبد الواحد صاحبؒ ہمارے سرپرست تھے ۔

یہ بھی پڑھیں