(گزشتہ سےپیوستہ)
حضرت ابن عباسؓ بھی آنحضرتؐ کے تربیت یافتہ تھے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ آپ کا تبرک ہے، میں اس تبرک میں کسی کو اپنے اوپر ترجیح نہیں دیتا۔ بخاری شریف کا جملہ ہے ’’ فتلہ فی یدہ‘‘ کہ حضور نبی کریمؐ نے ان کے ہاتھ میں زور سے پیالہ تھمایا ۔ یعنی حضور نبی کریمؐ کو اجازت نہ ملنے پر تو غصہ آیا لیکن پیالہ اسی کو دیا جس کا وہ حق تھا۔ جبکہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے یہ واضح کر دیا کہ مجھے اپنے حق کا شعور بھی ہے اور حق حاصل کرنے کا حوصلہ بھی ہے۔ یہ میں نے بیسیوں واقعات میں سے ایک عرض کیا ہے۔
میں نے عرض کیا ہے کہ ہیومن رائٹس کے حوالے سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور خلفاء راشدینؓ کے دور میں اپنے موجودہ مسائل کا حل تلاش کریں گے تو میں پوری تسلی کے ساتھ آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہوگا جس کا بہترین حل نہ ملے۔
مذہب اور سائنس میں کوئی لڑائی نہیں ہے بلکہ تقسیم کار ہے، کیونکہ کسی چیز کے تعارف میں چار سوال ہوتے ہیں: (۱) یہ چیز کیا ہے یعنی کن چیزوں سے مل کر بنی ہے؟ (۲) اس کا مقصد کیا ہے؟
(۳) اسے کس نے بنایا ہے (۴) اور اس بنانے والے کا ایجنڈا کیا تھا؟ میں نے کہا ان میں سے دو سوال سائنس ڈسکس کرتی ہے اور دو سوال مذہب ڈسکس کرتا ہے۔ سائنس موجود چیزوں کو دریافت کرتی ہے اور ان کا اچھا یا برا استعمال سکھاتی ہے۔ سائنس چیزوں کو پیدا نہیں کرتی کہ وہ آج تک کسی چیز کو عدم سے وجود میں نہیں لائی۔ اور سائنس نے کبھی یہ ڈسکس نہیں کیا کہ ان چیزوں کو بنایا کس نے ہے؟ یہ سوال میں نے امریکہ کی ایک بڑی یونیورسٹی کے اساتذہ کے سامنے بھی کیا تھا کہ آپ لوگ چیزوں کو دریافت کر کے ان کا استعمال سکھاتے ہیں، مگر کبھی اس پر بھی غور کیا ہے کہ اسے بنانے والا کون ہے؟ بلکہ یہ سوال مذہب کا موضوع ہیں کہ یہ کس نے بنایا ہے اور بنانے والے کا اپنا ایجنڈا کیا ہے۔ قرآن مجید ان دونوں سوالوں کے بارے میں بتاتا ہے۔ اس لیے جب دو سوال سائنس حل کرتی ہے اور دو سوال مذہب حل کرتا ہے تو لڑائی کس بات کی ہے؟
بہرحال دوسرا میدان علمی ، فکری اور مشاہدات کی دنیا ہے، اس میں اگر آپ تلاش کریں گے تو مسائل کا حل قرآن و سنت سے مل جائے گا، بلکہ مل رہا ہے، میں اس پر دو چھوٹی سی باتیں مثال کے طور پر عرض کروں گا۔ آج ایک بڑا مسئلہ کلوننگ کا ہے، بخاری شریف کی روایت میں اس کی بنیاد کا ذکر ہے، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ انسان کے جسم کی ہر چیز مٹی میں مل جاتی ہے ‘ مگر دمچی کا مہرہ فنا نہیں ہوتا، اسی سے دوبارہ تشکیل ہوتی ہے، یہ بات جناب نبی کریمؐ نے آج سے چودہ سو سال پہلے فرمائی تھی۔ آج کا دوسرا بڑا مسئلہ جین ہے، جینیاتی سائنس۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ جب ماں کے پیٹ میں بچے کو روح ملنے والی ہوتی ہے تو جناب نبی کریمؐ نے اس کے مختلف مراحل میں یہ بھی ذکر فرمایا کہ جب روح کا کنکشن دینے کا وقت آتا ہے تو ایک فرشتے کی ڈیوٹی لگتی ہے کہ یہ تیرے سپرد ہے، وہ فرشتہ جو زندگی بھر آدمی کے ساتھ رہتا ہے، وہ کنکشن دینے سے پہلے اللہ تعالیٰ سے پوچھتا ہے ’’ما عمرہ؟‘‘ اس کو دنیا میں بھیجنا ہے تو کتنی مدت کا کنکشن دینا ہے؟ ’’ما رزقہ؟‘‘ اس کا کوٹہ کتنا ہے؟ ’’ما کسبہ؟‘‘ اس کا پروفیشن کیا ہے؟ ’’ما اجلہ‘‘ اس کی اجل کیا ہے؟ یہ سوال جواب کر کے فائل سیل ہو جاتی ہے اور پھر اسے کنکشن ملتا ہے۔ وہی فائل جین ہے۔ آپ جو چیز قرآن مجید اور حدیث مبارکہ میں تلاش کرنا چاہیں گے وہ ملے گی، مگر اس کو موضوع تو بنائیں، آج کے علمی، سائنسی اور معاشرتی مسائل اور چیلنجز کو دیکھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ان کا حل تلاش کریں، ان شاء اللہ تعالیٰ تمام مسائل کا حل ملے گا۔
مجھے ناسا ہیڈ کوارٹر (ہیوسٹن، امریکہ) میں متعدد بار جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ میں نے ناسا میں بعض سائنسدانوں سے کہا کہ میرے دل میں ایک بات کھٹکتی ہے، اس پر بھی غور کرو کہ قرآن مجید کہتا ہے ’’ ہر انسان کی گردن میں ہم نے اس کا نصیب لٹکا دیا ہے جسے قیامت کے دن ہم اس کی گردن سے نکالیں گے جو کھلی کتاب ہوگی، آدمی اس میں پڑھے گا کہ میں زندگی بھر کیا کرتا رہا ہوں۔ میں نے کہا کہ انسان کی گردن میں کوئی ’’سم‘‘ ہے اسے تلاش کرنا چاہیے۔ میرے پاس اس پر دلیل نہیں ہے لیکن میرا وجدان یہ کہتا ہے کہ انسانی گردن میں کوئی ایسی چیز ہے اور وہ بھی دریافت ہو گی کیونکہ قرآن مجید کہہ رہا ہے ۔
عزیز طلباء و طالبات! میں آپ کو دعوت دے رہا ہوں کہ قرآن مجید اور سنت نبویؐ سے رہنمائی حاصل کریں، یہاں سے آپ کو ہر چیز ملے گی، لیکن اسٹڈی شرط ہے، دماغ سوزی اور جگر سوزی شرط ہے۔ میرے وژن کے مطابق جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا آج ہمارے لیے سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ آج کے دور کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر سیرت طیبہ سے رہنمائی حاصل کریں تاکہ آپ دنیا کو کسی بہتر مستقبل کی طرف لے جا سکیں۔