مرزا غلام احمد قادیانی نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو سب سے پہلے اس کا سامنا علماء کرام نے کیا تھا، علمائے لدھیانہ اور دیگر علماء کرام نے کیا تھا کہ مرزا قادیانی نبوت کے دعوے کے بعد دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اس کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس تحریک کا پہلا دور علماء کرام کی تقاریر کا تھا، مناظروں کا تھا اور لوگوں کو سمجھانے کا تھا کہ عقیدۂ ختم نبوت کیا ہے، قادیانی کفر کیا ہے اور قادیانیوں کو کافر کہنے کے وجوہ کیا ہیں؟ اس میں پہلا راؤنڈ علماء کرام کا تھا، جس میں ہمارے اکابر حضرت علامہ انور شاہ کاشمیری، حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور حضرت مولانا ثنا اللہ امرتسری رحمہم اللہ تعالیٰ کی راہ نمائی میں علماء امت نے نے ایک طویل دور گزارا۔انہوں نے علماء امت کو منظم کر کے عوام کو یہ بات سمجھائی کہ مرزا غلام احمد قادیانی سمیت جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ان اکابر کے ساتھ نئی نسل کو مسئلہ قادیانیت سمجھانے میں بہت بڑا کردار علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کا بھی ہے۔ انہوں نے اپنے انداز میں سمجھایا جبکہ ہمارے اکابر نے اپنے انداز میں سمجھایا۔ الغرض ایک دور مناظرے اور بحث و مباحثے کا تھا، جس کے ذریعے ان حضرات نے پورے ملک میں عوام کو آگاہ کیا، بیدار کیا اور لوگوں کو سمجھایا۔
اس کے بعد دوسرا دور عدالتوں کا چلا۔ ۱۹۱۹ء میں جنوبی افریقہ کی عدالت میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا اور جنوبی افریقہ کی عدالت نے دلائل سن کر یہ فیصلہ دیا تھا کہ قادیانیوں کا اسلام کے ساتھ اور مسلمانوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ پھر بہاولپور کی عدالت کا فیصلہ اور راولپنڈی کے سیشن کورٹ کا فیصلہ آیا اور عدالتی ماحول میں یہ مسئلہ واضح ہو گیا۔
تیسرا دور پارلیمنٹ کا تھا۔ منتخب نمائندوں اور منتخب پارلیمنٹ میں سب سے پہلے آزاد کشمیر نے دو ٹوک فیصلہ دیا۔ وہاں سے بات شروع ہوئی اور ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے دستوری پراسیس کے ساتھ قادیانیوں کے سربراہوں کو بھی بلا کر دو ہفتے بحث کر کے اور تمام تقاضے پورے کر کے یہ متفقہ فیصلہ دیا کہ قادیانی مسلمانوں کا حصہ نہیں ہیں، کافر ہیں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور پاکستان میں بطور مسلمان، اسلام کے نام کے ساتھ اور اسلام کی علامات کے ساتھ ان کو کام کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔
میں یہ اس موقع پر بات ذہن میں تازہ کرنا چاہوں گا کہ ۱۹۷۴ء کا فیصلہ صرف مذہبی جماعتوں کا فیصلہ نہیں تھا، بلکہ پارلیمنٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی بھی تھی، پاکستان مسلم لیگ بھی تھی، جمعیت علماء اسلام بھی تھی، جماعت اسلامی بھی تھی، جمعیت علماء پاکستان بھی تھی اور نیشنل عوامی پارٹی بھی تھی۔ تمام قوم پرست حلقے، تمام پولیٹیکل پارٹیاں، تمام مذہبی اور سیاسی جماعتیں، ذوالفقار علی بھٹو سمیت، میاں ممتاز دولتانہ اور ولی خان سمیت تمام قائدین نے متفقہ فیصلہ کیا۔ جبکہ باہر میدان میں بھی صرف علماء نہیں تھے، بلکہ بار ایسوسی ایشن بھی تھی، ہر شہر میں وکلاء بھی تھے، تاجر بھی تھے، ہر شہر کی تاجر برادری بھی تھی، اور اساتذہ اور طلبہ بھی سڑکوں پر تھے۔ ان کے موقف کو عوام کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ فیصلے کے ذریعے ملک کے دستور کا حصہ بنا دیا اور دستور پاکستان میں ترمیم کر کے قادیانی گروہ کو غیر مسلم اقلیت کا درجہ دے دیا۔ اس لیے میں یہ بات دہرانا چاہوں گا کہ یہ فیصلہ ہمارا تو تھا ہی، لیکن یہ قومی فیصلہ تھا، یہ فیصلہ صرف مذہبی جماعتوں کا نہیں، بلکہ پوری قوم کا متفقہ فیصلہ تھا کہ قادیانیوں کا اسلام کے ساتھ اور مسلمانوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
لیکن قادیانیوں نے ۱۹۷۴ء میں پارلیمنٹ کے اس متفقہ دستوری فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا اور اس سے مسلسل منحرف رہے تو ان کے انکار اور ضد کی وجہ سے ۱۹۸۴ء کا قانون آیا۔ جب انہوں نے انکار کر دیا کہ ہم تو مسلمان کہلائیں گے، مسلمانوں والے کام کریں گے، مسلمانوں کی اصطلاحات استعمال کریں گے اور ہم اس ٹائٹل سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہیں تو ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ۱۹۸۴ء کا امتناع قادیانیت آرڈیننس نافذ کرنا پڑا، اور اس کے بعد پھر ایک نیا دور شروع ہوا۔ میں اس پر تھوڑی سی بات کرنا چاہوں گا۔۱۹۸۴ء تک ہمارے سارے معاملات پبلک میں تھے، عدالتوں میں تھے اور اسمبلیوں میں تھے لیکن اس کے بعد یہ سارے معاملات بین الاقوامی ماحول میں منتقل ہو گئے۔ اقوام متحدہ، جنیوا ہیومن رائٹس کمیشن، یورپی یونین اور انٹرنیشنل ایمنسٹی سب اس میں ملوث ہوئے، یہ بات بین الاقوامی فورموں پر چلی گئی اور بین الاقوامی فورموں نے قادیانیوں کی پشت پناہی شروع کر دی۔ اس کے بعد سے اب تک قادیانی جو کچھ کر رہے ہیں وہ بین الاقوامی اداروں اور فورموں کی پشت پناہی کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔ ۱۹۸۴ء کے بعد جب بین الاقوامی فورمز نے قادیانیوں کی براہ راست سرپرستی شروع کی تو اس میں ہم نے کیا کردار ادا کیا؟ اس پر الگ بحث کی ضرورت ہے، اس وقت میں صرف اتنا عرض کر رہا ہوں کہ اس وقت ہم اس مرحلے میں ہیں کہ بین الاقوامی اداروں میں بحث ہو رہی ہے، قراردادیں ہو رہی ہیں، معاہدات ہو رہے ہیں، فیصلے ہو رہے ہیں اور مستقل دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ہم اس وقت اس مرحلے سے گزر رہے ہیں۔(جاری ہے)