Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

تحریک ختم نبوت کی معروضی صورتحال اور اہم تقاضے

(گزشتہ سےپیوستہ)
پہلا دور عوام میں دلائل کے ساتھ سمجھانے کا تھا، دوسرا دور عدالتوں میں اس کو ثابت کرنے کا اور منوانے کا تھا، تیسرا دور پارلیمنٹ کے ذریعے اس کو نافذ کروانے کا تھا اور چوتھا دور جو بین الاقوامی اداروں کی سرپرستی میں ان کی مداخلت سے اور بین الاقوامی اداروں کی دخل اندازی سے اب تک جاری ہے اور اب اس کو بڑھایا جا رہا ہے، یہ ابہام پیدا کرنے کا دور ہے۔
میں اس چوتھے دور کو دو حوالوں سے تعبیر کرتا ہوں۔ ۱۹۸۴ء میں جب قادیانی ہیڈ کوارٹر لندن منتقل ہوا تو اس کے بعد دو کام ہوئے ہیں:
پاکستان میں چار پانچ مواقع ایسے آئے ہیں جب ان فیصلوں کو ناکام بنانے کے لیے، غیر مؤثر بنانے کے لیے پارلیمنٹ کے ذریعے اور قانون سازی کے ذریعے کوشش کی گئی گئی، لیکن الحمد للہ انہیں اس میں ناکامی ہوئی۔ میں ان مرحلوں سے نہ صرف یہ کہ بخوبی واقف ہوں بلکہ اس میں کردار بھی ادا کرتا رہا ہوں۔ آج کا دور ان فیصلوں کے بارے میں ابہام پیدا کرنے کا دور ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں یہ ہے، اس کا نتیجہ یہ نہیں یہ ہے۔ اس کا جو مطلب علماء لے رہے ہیں، وہ نہیں ہے، وغیرہ۔ فیصلوں کے بارے میں ابہام پیدا کر کے نئی نسل کو کنفیوژ کرنے کے لیے عدالتوں کے ذریعے کوشش کی جا رہی ہے۔ عدالتوں میں کیا ہو رہا ہے، ابھی سپریم کورٹ میں کیا ہوا ہے، باقی عدالتوں میں کیا ہوا ہے، ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے۔
میں یہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ ابہام کا ماحول پید اکرنے کے اس دور میں الحمد للہ ثم الحمد للہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں اللہ رب العزت نے ہمیں سرخروئی نصیب فرمائی ہے۔ سپریم کورٹ کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا پڑی اور ابہام کو واضح کرنا پڑا، یہ قوم کی فتح ہے اور تحریک ختم نبوت کی فتح ہے۔ اس کے بعد سات ستمبر کو پورے ملک میں اور مینار پاکستان لاہور میں پوری قوم نے جمع ہو کر ایک دفعہ پھر ریفرنڈم کی صورت میں بتا دیا کہ قوم جہاں ۱۹۷۴ء میں کھڑی تھی، ۲۰۲۴ء میں بھی وہیں کھڑی ہے۔ ان سارے مراحل میں اللہ تعالیٰ نے سرخروئی نصیب فرمائی ہے، الحمد للہ۔
لیکن میں یہ بات کہنا چاہوں گا کہ یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا، ابھی مزید شرارتیں ہوں گی، پہلے سے زیادہ ہوں گی، ابہام پیدا کرنے کی اور فیصلوں کو ناکام بنانے کی کوششیں ہوں گی، اس لیے یہ بات مجھے اور آپ کو یاد رکھنی چاہیے کہ پہلے بھی فیصلوں کو ناکام بنانے کی سازشوں کو عوام نے، علماء نے اور دینی قوتوں نے متحد ہو کر اور بیدار ہو کر ناکام بنایا ہے، تو اب ہمیں پہلے سے ذرا چوکنا ہونا ہوگا، پہلے سے زیادہ نظر رکھنا ہوگی، پہلے سے زیادہ متحد ہونا ہوگا اور اپنی اجتماعی قوت کے ساتھ اور اپنی بیداری کے ساتھ اس ابہام پیدا کرنے کے دور میں کردار ادا کرنا ہو گا۔
ایک بات اور شامل کروں گا کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت چلی تھی تو تقریباً دو نسلیں سنبھل گئی تھیں۔ ۱۹۸۴ء کی تحریک چلی تو پھر ایک نسل نے بیداری حاصل کی۔ اب کافی عرصہ سے ماحول نہیں بن رہا تھا، اس لیے آج کی نئی نسل باخبر نہیں ہے۔ میں یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ختم نبوت کے تقاضوں سے، قادیانی سازشوں سے اور قادیانی پشت پناہوں کی حرکتوں سے آج کی نئی نسل باخبر نہیں ہے، لہٰذا ہمیں دو کام بہرحال کرنا ہوں گے:
(۱) ایک کام یہ کہ جن بین الاقوامی فورمز پر یہ مباحث زیر بحث ہیں، وہاں تک رسائی حاصل کر کے اپنی بات اور اپنا موقف کہنا ہوگا۔
(۲) اور دوسرا کام یہ ہے کہ ہمیں نئی نسل کو باخبر کرنا ہوگا۔ یہ نہیں کہ مسلمانوں کے بچے ہیں اس لیے ٹھیک ہے بلکہ ہمیں اپنی نئی نسل کو، کالج اور یونیورسٹی کی نسل کو، بچوں اور بچیوں دونوں کو حکمت کے ساتھ، شعور کے ساتھ اور نظم کے ساتھ اپنی تاریخ سے، اپنے عقائد سے، ختم نبوت کی اہمیت سے اور اس کے انکار کے نتائج سے واقف کرانا ہوگا۔
آج ہم اس مقام پر کھڑے ہیں اور خوشی ہے کہ ملک بھر میں دینی حلقے بیدار ہیں۔ سات ستمبر کا لاہور کا اجتماع اور احرار کا یہ اجتماع دلیل ہے کہ قوم بیدار ہے اور علماء سمجھ رہے ہیں، لیکن ہمیں ان دونوں تقاضوں پر توجہ کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ اللہ رب العزت ہمیں کامیابی اور سرخروئی نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

یہ بھی پڑھیں