پاکستان کو نجانے کس کالے اُلو کی نظر لگ گئی کہ جو آے روز یہاں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی گستاخیاں شروع ہو گئی ہیں ،صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظام ؓ کی گستاخانہ زبان درازیوں کی وجہ سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں یہ ملک وقوم اللہ کے عذاب کا شکار ہی نہ ہو جائے ، افسوس ناک بات یہ ہے کہ حکومت رسول اللہ ﷺکے جانثار صحابہ کرامؓ کی گستاخیاں روکنے میں مکمل ناکام ثابت ہوئی ہے،میرے نزدیک جس طرح دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ،بالکل اسی گستاخوں کا بھی کوئی دین و مذہب نہیں ہوتا،حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ پاکیزہ اور برگزیدہ لوگ ہیں کہ جنہیں رسول اکرم ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہے، جن کے ذریعہ سے اسلام کا تعارف کرایاگیا اور رسول عربی ﷺ کی سیرت طیبہ اور سنت کو عام کیا گیا ۔یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے براہ راست قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کی اور دنیا کے سامنے اسے صاف و شفاف آئینہ کی طرح پیش کیا جو کہ سورج کی طرح واضح اور روشن ہے۔ اگر رسول اللہ ﷺ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو الگ رکھ کر ان کو عام انسانوں کی طرح خاطی و عاصی تصور کر کے غیر معتبر قرار دے دیا جائے تو اسلام کی پوری عمارت ہی منہدم ہوجائے گی، نہ رسول ﷺ کی رسالت معتبر رہے گی اور نہ قرآن اور اس کی تفسیر اور حدیث کا اعتبار باقی رہے گا ، کیونکہ اللہ کے رسولﷺ نے جو کچھ من جانب اللہ ہم کو عطا کیا ہے وہ ہم تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کی معرفت پہنچا ہے ۔ خود محمد عربیﷺ نے اپنے جاںنثار اطاعت شعار صحابہؓ کی تربیت فرمائی تھی ۔ انہی صحابہ کرامؓ کے بارے میں سورۃ الفتح اور سورۃ النمل میں اللہ تعالیٰ نے خود ان کی تعریف بیان فرمائی ہے اور ان پر سلام بھی بھیجا ہے ، لہٰذا فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ترجمہ ’’ محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں ، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور)آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں ۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں ، کبھی سجدے میں، (غرض)اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں ۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کئے ہیں ، اللہ نے ان سے مغفرت اور زبردست ثواب کا وعدہ کر لیا ہے ۔‘‘ (القرآن ، سورہ نمبر48 الفتح )
ترجمہ ’’ (اے پیغمبر)کہو تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور سلام ہو اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے منتخب فرمایا ہے ۔‘‘ (القرآن ، سو رہ نمبر27النمل ، آیت ۔ 59) عبداللہ ابن عباس اور سفیان ثوری سے روایت ہے کہ اس آیت میں منتخب بندوں سے مراد ’’اصحاب رسول ﷺ ہیں ۔ جبکہ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب رسول اللہ ﷺ کے ایمان کو قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لئے ہدایت کا معیار قرار دیا ہے، چنانچہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے،ترجمہ: جو گروہ بھی اس طریقے سے ایمان لے آئیں جس طریقے سے تم ایمان لائے ہو تب تو وہ بھی راہ حق پر لگ جائیں گے۔(البقرہ) اس آیت کریمہ میں حضرات ِ صحابہؓ کو مخاطب بنا کر کہا جا رہا ہے کہ اہل کتاب کے ایمان کو تمہارے ایمان کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا، اگر اس کسوٹی پر ان کا ایمان پورا اتر آیا تو وہ معتبر ہوگا ورنہ ان کے ایمان کی حیثیت زرہ کی مقدار کے برابر بھی نہیں ہوگی ۔ قیامت تک آنے والی پوری نسل انسانی کے لئے صحابہؓ کا ایمان معیارِ حق ہے ، لوگوں کے عقائد و اعمال ، افکار و خیالات ،قیاسات واجتہادات کے صحیح اور غلط میں امتیاز کرنے کا بہترین ذریعہ اور پیمانہ ہے ۔
احادیث میں رسول ﷺ نے جس کثرت اور تواتر کے ساتھ صحابہ کرام ؓکے فضائل و مناقب ، عظمت و خصوصیات ، اوصاف و کمالات کو بیان فرمایا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ پوری امت کو یہ تاکید کرنا چاہ رہے ہیں کہ میرے صحابہ کرام ؓکوئی معمولی افراد نہیں ہیں اور ان کو امت کے عام افراد کی طرح سمجھنے کی غلطی نہ کرو ، ان کی عظمت و اہمیت کو پہچانوں ، کیونکہ ان کا تعلق براہ راست میری ذات ِ گرامی سے ہے، اس لیے ان کی محبت عین میری محبت ہے، اور ان سے بغض رکھنا براہ راست مجھ سے بغض رکھنا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا ’’اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے میرا انتخاب فرمایا اور پھر میرے لیے میرے صحابہ ؓ کو منتخب کیا ۔ پھر ان میں سے کچھ کو میرا قریبی ساتھی ، کچھ کو میرا مدد گار اور کچھ کو میرا سسرالی رشتہ دار بنادیا ۔ لہٰذا جو شخص ان کو برا بھلا کہے گا اس پر اللہ کی ، اس کے فرشتوں کی اور سارے انسانوں کی لعنت ہوگی ، اورقیامت کے دن اس کی نہ نفل عبادت اور نہ فرض قبول ہوگی ۔ (المستدرک )
دوسری حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میرے صحابہ ؓ کو برا نہ کہو ، میرے صحابہ ؓ کو برا نہ کہو ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم میں سے ایک شخص احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کردے تو بھی ان کے ایک سیر یا آدھے سیر کے برابر بھی نہیں ہوسکتا (ترمذی ، سب اصحاب النبی ، حدیث نمبر۱۹۸۳ ) اور کبھی آپ ﷺ نے فرمایا۔میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو (ابو دائود، حدیث نمبر ۷۹۲۲) میر ے صحابہؓ ستاروں کے مانند ہے ، پس تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کروگے تو ہدایت پالو گے (مشکوۃ ، حدیث نمبر ۸۱۰۲) اس کے علاوہ بے شمار احادیث فضائل صحابہؓ کے باب میں آپ ﷺ سے منقول ہے ، بلکہ بعض صحابہؓ کے نام کے ساتھ ان کی عظمت و فضیلت کو ذکر کیا گیا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ صحابہ کرام ؓسے محبت و عقیدت کے بغیر رسول ﷺ سے سچی محبت نہیں ہوسکتی اور صحابہ کرام ؓکی پیروی کے بغیر آپ ﷺ کی پیروی کا تصور محال ہے ، کیونکہ صحابہ کرامؓ نے جس انداز میں زندگی گزاری ہے وہ عین اسلام اور اتباع سنت ہے اور ان کے ایمان کے کمال و جمال ، عقیدہ کی پختگی ، اعمال کی صحت و اچھائی اور صلاح و تقو ی کی عمدگی کی سند خود رب العالمین نے ان کو عطا کی ہے اور معلم انسانیت ﷺ نے اپنے قول ِ پاک سے اپنے جاںنثاروں کی تعریف و توصیف اور ان کی پیروی کو ہدایت و سعادت قرار دیا ہے۔