Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

کراچی!تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس

22 ستمبر 2024ء اتوار کی رات بعد نماز عشاء اختر کالونی کراچی میں منعقدہ عظیم الشان تحفظ ناموس رسالت ﷺ کانفرنس اس لحاظ سے منفرد تھی کہ اس میں نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کر کے گستاخانہ اور منکرین ختم نبوت کے فتنوں سے بیزاری کا اظہار کیا، موجودہ دور میں سب سے بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان نسل کو جدید فتنوں سے آگاہی فراہم کی جائے،منکرین ختم نبوت کا فتنہ ہو،سوشل میڈیا پر مقدس ترین ہستیوں کے گستاخوں کا فتنہ ہو،بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی ، بے حیائی اور بے غیرتی کا فتنہ ہو، مرزا جہلمی اور ساحل ندیم کا فتنہ ہو، دجالی میڈیا کا فتنہ یا مستشرقین اور ملحدین کا فتنہ ،ان سب فتنوں کے خلاف نوجوان نسل کو اگر بر وقت خبردار نہ کیا گیا تو یہ نسل گمراہی کے اندھیروں کا شکار ہو جائے گی،اللہ جزائے خیر عطا فرمائے مجاہد ادریس آرائیں ، بھائی محمدآصف سدوزئی اورمولانا ضیاء السلام کو جنہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر اختر کالونی کے مرکزی چوک میں تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے عنوان سے سینکڑوں نو جوانوں کو جمع کر کے اس خاکسار کو ان سے مخاطب ہونے کا موقع فراہم کیا، اس خاکسار نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت اور عدالتوں پر IMF اور FATF وغیرہ کا دبائو ہے کہ وہ مقدس ہستیوں کے گستاخوں کو ریلیف دیں۔مگر اس کے باوجود بھی اس وقت تک عدالتیں آئین و قانون کے مطابق فیصلے کر رہی ہیں۔
ہم بار بار حکومت اور عدالتوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر انہوں نے اسلام دشمن قوتوں کے دبائو کو قبول کرتے ہوئے کسی ایک گستاخ کو بھی ریلیف دیا تو پھر ردعمل غازی ممتاز قادری،غازی فیصل خالد اور غازی سید خان سرحدی کی صورت میں آئے گا، گستاخ رسول ، گستاخ صحابہ واہل بیت کے خلاف حکومت ،عدلیہ و دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے جب تک ایک پیج پر اکٹھے ہوکر ان کے خلاف قانون کی عملداری یقینی نہیں بنائیں گے اس وقت تک گستاخانہ فتنے پر قابو نہیں پایا جا سکتا ، 2017ء میں سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کا آغاز ہوا تو اس مہم میں ملوث مجرمان کے خلاف عملی طور پر تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ نے آئینی و قانونی جدوجہد شروع کی۔بدقسمتی کی بات ہے کہ جو ملک اسلام کے نام پر لاکھوں مسلمانوں کی قربانی کے بعد حاصل کیا گیا تھا،اس ملک میں مختصر سے عرصے میں چار سو سے زائد مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ صحابہ و اہل بیتؓ کے گستاخ گرفتار ہو چکے ہیں۔جن میں سے 17گستاخوں کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے، جبکہ دیگر کا ٹرائل جاری ہے۔ہم واضح کرتے ہیں کہ امریکہ و یورپ الٹے بھی کیوں نہ لٹک جائیں،تب بھی وہ کسی ایک گستاخ کو بھی سزائے موت سے نہیں بچا سکتے،اس خاکسار نے اپنے خطاب میں عرض کیا کہ امریکہ و یورپ نے طے کیا ہوا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے ہر مسلمان کے گھر میں ایک گستاخ پیدا کرنا ہے۔ہم نے بھی یہ عزم کر رکھا ہے کہ اس دھرتی پر موجود آخری گستاخ کو تختہ دار پر لٹکانے تک اپنی آئینی و قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے، ہم نوجوانوں میں محبت رسول ﷺ اجاگر کرنے کی محنت جاری رکھیں گے ،کیونکہ محبت رسولؐ ہی اطاعت رسولؐ کی بنیاد ہے، کانفرنس سے سابق ایم پی اے جھنگ مولانا محمد معاویہ اعظم طارق،مولانا ابو جندل حسان،مفتی عبدالرحمن مدنی،مولانا ضیاء الاسلام،مولانا عبدالغفار حازم،مفتی نعمت اللہ خان اور مفتی امان اللہ سکھروی نے بھی خطاب کیا۔کانفرنس میں دیگر سیاسی،سماجی اور تاجر رہنمائوں نے بھی شرکت کی۔اس کانفرنس میں حافظ احتشام احمد نے جو قراردادیں پیش کیں وہ مندرجہ ذیل ہیں ، قرارداد میں کہا گیا کہ یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں بالخصوص حضورﷺ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث 400 سے زائد زیر حراست گستاخوں کے خلاف ٹرائل کورٹس میں زیر سماعت تمام مقدمات کے فیصلے بلاتاخیر کئے جائیں۔یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی توہین کے مرتکب جن 17 ملعون گستاخوں کو ٹرائل کورٹس سزائے موت سنا چکی ہیں،ان کی سزائوں پر عملدرآمد کے لئے تمام قانونی تقاضے بلاتاخیر پورے کرکے ان ملعونوں کو تختہ دار پر لٹکایا جائے۔یہ اجتماع قرار دیتا ہے کہ مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی توہین کے مرتکب بعض گستاخوں کو عاشقان مصطفی ﷺ کی جانب سے قانون کو ہاتھ میں لے کر قتل کرنے کی ذمہ دار پاکستان کا عدالتی نظام انصاف ہے۔
یہ اجتماع قرار دیتا ہے کہ وطن عزیز پاکستان کے شہریوں پر لازم ہے کہ وہ بہر صورت آئین و قانون کی پاسداری کریں اور مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی توہین کے مرتکب کسی بھی گستاخ کے خلاف قانونی راستہ ہی اختیار کریں۔تاہم یہ اجتماع ان تمام عاشقان مصطفی ﷺ بالخصوص غازی فیصل خالد اور غازی سید خان سرحدی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی فوری طور پر باعزت رہائی کا مطالبہ کرتا ہے کہ جنہوں نے وطن عزیز پاکستان کے عدالتی نظام انصاف سے مایوس ہوکر ثابت شدہ گستاخان رسول کو واصل جہنم کیا۔یہ اجتماع قرار دیتا ہے کہ گستاخان رسول کو واصل جہنم کرنے والے غازی فیصل خالد اور غازی سید خان سرحدی کو آئینی و قانونی معاونت فراہم کرنے کے لئے لیگل ٹیم تشکیل دی جانی چاہئے۔یہ اجتماع مورخہ 19ستمبر کو میر پور خاص میں گستاخ رسول ملعون ڈاکٹر شاہنواز کو پولیس مقابلے میں واصل جہنم کرنے والی پولیس پارٹی بالخصوص ڈی آئی جی میر پور خاص جاوید جسکانی اور ایس ایس پی کیپٹن(ر)اسد چوہدری کو بھی بھرپور خراج تحسین پیش کرتا ہے۔یہ اجتماع مورخہ 19ستمبر کو میر پور خاص میں پولیس مقابلے میں گستاخ رسول ملعون ڈاکٹر شاہنواز کو واصل جہنم کرنے کے واقعہ کی پاداش میں وفاقی وزارت داخلہ کی ہدایت پر ڈی آئی جی میر پور خاص جاوید جسکانی، سندھڑی پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او اور مذکورہ پولیس مقابلے میں شریک دیگر پولیس و سی آئی اے اہلکاروں کی معطلی کی مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر عہدوں پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔یہ اجتماع سپریم کورٹ بالخصوص چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی،جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان کو مبارک ثانی کیس میں مورخہ 22اگست کے مختصر فیصلے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ مورخہ 22اگست کے مختصر فیصلے کی تفصیلی وجوہات یعنی تفصیلی فیصلہ عدالتی معاونین شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی،قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن اور دیگر علمائے کرام کی جانب سے مورخہ 22اگست کو سپریم کورٹ کے روبرو پیش کئے گئے دلائل اور آئین و قانون کی روشنی میں بلاتاخیر جاری کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں