انادولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق خبر یہ ہے کہ اردن کے وزیرخارجہ ایمن صفادی نے لبنان پر اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے بین الاقوامی اقدامات پر زور دیاہے اور اس کے نتائج پورے خطے پر مرتب ہونے سے بھی پوری طرح سے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے۔ صفادی کایہ کہنا درست ہے کہ لبنان پرجارحیت 7 اکتوبر سےجاری غزہ پر اسرائیل کی جارحیت کو روکنے میں بین الاقوامی بےعملی کا نتیجہ ہے۔ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس کی اور اس کی قراردادوں کی نفی کرتے ہوئے لبنان کے خلاف اپنی جنگ میں شدت پیدا کی ہے ۔ اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفادی نے اسرائیل سے جارحیت بند کرنے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔اردنی اعلیٰ سفارت کار نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیل کی جارحیت کو روکناایک بین الاقوامی ذمہ داری ہے جس کی ذمہ داری سلامتی کونسل کو فوری طور پر اٹھانی چاہیے۔
گزشتہ ہفتے لبنان میں ہزاروں پیجرز اور دیگر مواصلاتی آلات بیک وقت پھٹنے کے واقعات اسرائیلی حکومت کی طرف سے دہشت گردی کاایک واضح اعلان کہےجا رہے ہیں اس صہیونی گھناؤنی کارروائی کے نتیجے میں بلاامتیاز زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ لوگوں کو مارنے یا معذور کرنےکے اپنے واضح مقصد کے علاوہ یہ کارروائی درحقیقت عام شہریوں میں خوف وہراس اور دہشت پھیلانے کی اسرائیلی کوشش ہے ۔ 37 افراد جاں بحق ہوئے جن میں متعدد بچے بھی شامل ہیں۔ 3000 سے زائد دیگر زخمی ہوئے جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ غزہ پر اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے حزب اللہ اور اسرائیل سرحد پار جنگ میں مصروف ہیں، جس میں گزشتہ 7 اکتوبر کو حماس کے سرحد پارحملے کے بعد41000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی برادری بشمول اردن نے لبنان پرحملوں کی شدید مذمت کے ساتھ ساتھ خبردار کیا ہےاس سے غزہ تنازعہ کو علاقائی سطح پر پھیلانے کا خدشہ پیدا ہونے کا واضح امکان موجود ہے۔اب یہ جو جنگ کے عالمی سطح پر پھیلنے کے امکان کا اظہار ہے اسی کے تناظر میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے قریبی اسرائیلی کاروباری دوست کا بیان ملاحظہ فرمائیےجس کا کہنا ہے کہ ’’جو ہم آج لبنان میں دیکھ رہے ہیں وہ آگے اردن میں ہوگا۔‘‘ رونی میزراہی نے ایک اسرائیلی ٹی وی چینل پر اپنا تذویراتی تبصرہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیتن یاہو کے بزنس مین دوست کے الفاظ ہمیں اس بات کی یاد دلا رہے ہیں کہ کم وبیش یہی مطمع نظرخود نیتن یاہو یا دوسرے سیاست دانوں، فوجی اہلکاروں اور ربیوں کا بھی رہا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اردن کے حل، متبادل وطن، مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی جبری بے گھری، اور اردن میں فلسطینی بادشاہت کے بارے میں بات کی ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں خبردار نہیں کیا گیا ہے۔پیر کو نیتن یاہو اردن/فلسطین کی سرحد پر ایک فیلڈ وزٹ پر نمودار ہوئے تاکہ ہاشمی بادشاہت کے ساتھ سرحد پر رکاوٹیں تعمیر کرنے کے منصوبے پر عمل کریں۔ نیتن یاہو کےاس وزٹ اور اردن سے متعلق ان کے بزنس مین دوست کے الفاظ کے تناظر میں، کیا ایسا نہیں لگتا کہ یہ اردنی سلطنت، غزہ کی جنگ میں ایک گمشدہ محاذ ہے؟
8 ستمبر کو کنگ حسین برج بارڈر کراسنگ پر اردنی ٹرک ڈرائیور مہر الجازی کے ہاتھوں تین اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد غزہ جنگ میں ساتویں محاذ کے بارے میں کھل کر بات ہوئی کہ عراق، یمن میں مزاحمتی محاذوں میں غزہ، لبنان، شام اور مغربی کنارے شامل کیے جائیں گے حالانکہ اردن کے باشندے اپنی سرزمین سے جڑے ہوئے ہیں، اور ان کا وقار کسی سمجھوتہ اور سودے بازی کی اجازت نہیں دیتا۔ فلسطین اور اردن میں اپنے وجود اور اپنی تقدیر کے دفاع میں قربانی دینے کی بنیادی توانائی موجود ہے۔ نیتن یاہو اور ان کے دوست مقبوضہ ریاست میں کوئی عام لوگ نہیں ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم کو پہلے ہی اسرائیل اور اس سے باہر کی انتہائی دائیں بازو کی لابیوں اور فورسز سے نام نہاد “گریٹر اسرائیل” کے لیے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہری جھنڈی مل چکی ہے۔
غزہ کی جنگ سے پہلے، نیتن یاہو کو اردن سے دائمی نفرت کےعلاوہ اردن کو اپنی سلطنت میں شامل کرنے کی پوشیدہ خواہش بھی ہمیشہ سے رہی ہے، وہ اردن کو اسرائیل کی سرزمین کا حصہ دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ کوئی راز نہیں ہے، حالانکہ نیتن یاہو اور انتہائی دائیں بازو کے یہودی آباد کاروں نے اس منصوبے یا خواہش کی کبھی تشہیر نہیں کی تاہم ان کی کتاب A Place Under the Sun میں نیتن یاہو نے اسرائیلی بائبل کے منصوبے، گریٹر اسرائیل، اور اس وژن میں اردن کی قسمت کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ وہ اردن کو اسرائیل کی سرزمین کا حصہ دیکھنا چاہتا ہےاور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔رونی میزراہی کے الفاظ ہیں کہ اگر نیتن یاہو کے اردن کے ساتھ سرحد کے دورے پر نہیں تاہم عمان میں وزارت خارجہ کے ساتھ ساتھ اردنی میڈیا کے سرکاری ردعمل کی ضرورت ہے۔اردن اور اسرائیل کے تعلقات کی حیثیت اس مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں یہ سفارت کاری سے باہر ہے۔ نیتن یاہو کے الفاظ اور اقدامات بنیادی طور پر مملکت کے خلاف اعلان جنگ ہیں۔ اردن کا ردعمل کیا ہوگا؟
یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ اردنی عوام، مملکت اور اس کی قومی شناخت کو ختم کرنے کے کسی بھی اسرائیلی منصوبے کے بارے میں خاموشی اختیار کرلیں گے۔ اسرائیلی اشتعال انگیزیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے پاس داخلی طور پر سماجی اور سیاسی طور پر ایک مضبوط قومی محاذ تیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اردن میں حکام کے پاس اور کون سا انتخاب ہے؟ 1994 کا وادی عرب امن معاہدہ سب بھول گیا ہے۔ مملکت کو نئے آپشنز اور نئی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو اردن کے مفادات کا تحفظ کریں اور اسرائیلی صہیونی عزائم کوتاراج کردیں۔ اگر “آج لبنان، کل اردن؟” ایک سوال ہے،تو عمان کو بھی جواب تیار رکھنے کی ضرورت ہے۔