(گزشتہ سےپیوستہ)
محض ضرورت کی بنا پر ان کی زبانیں سیکھی جائیں تاکہ ان کی اغراض سے واقفیت اور آگاہی حاصل ہو اور ان کے خطوط پڑھ سکیں اور ان سے تجارتی اور دنیاوی امور میں خط وکتابت کرسکیں تو اس صورت میں غیروں کی زبان سیکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
غرض کسی بھی چیز کا استعمال غیروں کی مشابہت کی نیت سے اور دشمنان دین کی مشابہت کے ارادے سے کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے دل میں ان کی طرف رغبت اور میلا ن ہے، اللہ تعالیٰ کویہ گوارہ نہیں کہ اس کے دوست اور نام لیوا(یعنی مسلمان) اس کے دشمنوں(یعنی کافروں)کی مشابہت اختیار کرنے کی نیت وارادے سے کوئی کام کریں۔
شیخ الاسلام علامہ ابن ِ تیمیہؒ نے اپنی مایہ ناز کتاب ’’اقتضا ء الصراط المستقیم‘‘ میں اس مسئلے پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ وہ تحریر فرماتے ہیں:غیروں کی مشابہت اختیار کرنے میں بہت سے نقصانات ہیں ، ہم نہایت اختصار کے ساتھ ذیل میں درج کرتے ہیں(1)کفر اور اسلام میں ظاہری طور پر کوئی امتیاز باقی نہ رہے گا اور حق مذہب یعنی اسلام دیگر مذاہب باطلہ کے ساتھ بالکل مل جائے گا ۔
(2)غیروں کا معاشرہ اور تمدن اور لباس اختیار کرنا درحقیقت ان کی سیادت اور برتری تسلیم کرنے کے مترادف ہے ، نیز اپنی کم تری اورکہتری اور تابع ہونے کا اقرار واعلان کا اظہار ہے اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے تمام اقوام پر برتری عطا فرمائی ہے اور پوری دنیا کا حکمران اور معلم بنایا ہے ، حاکم اپنے محکوم کی تقلید کا حکم کیوں کردے سکتا ہے ؟
(3)غیروں سے مشابہت اختیار کرنے سے ان کے ساتھ محبت پیداہوتی ہے ، جب کہ اسلام میں غیروں سے دلی محبت واضح طور پر ممنوع قرار دی گئی ہے(4)آہستہ آہستہ ایسا شخص اسلامی تمدن کا استہزا اور تمسخر کرنے لگتا ہے ، ظاہر ہے کہ اسلامی تمدن کو اگر اہمیت دیتا اور اسے حقیر نہ سمجھتا تو غیروں کی تمدن کو اختیار ہی نہ کرتا ؟
(5)جب اسلامی وضع کو چھوڑ کر اغیار کی وضع اختیار کرے گا تو قوم میں اس کی عزت باقی نہ رہے گی ، ویسے بھی نقل اتارنے والا خوشامدی کہلاتا ہے(6)دعوی اسلام کا ، مگر لباس، کھاناپینا، معاشرت ،تمدن ، زبان اور طرز زندگی یہ سب کام اسلام کے دشمنوں جیسا اختیار کرنے کا معاذاللہ یہ مطلب نکلتا ہے کہ لاو ہم بھی غیر مسلم بنیں اگر چہ صورت ہی میں سہی(7)دوسری قوموں کا طرز زندگی اختیار کرنا اسلام اور اپنی مسلم قوم سے بے تعلقی کی دلیل ہے۔غیروں کی مشابہت اختیار کرنا غیرت اور حمیت کے خلاف ہے۔
(8)غیروں کا مشابہت اختیار کرنے والوں کے لئے اسلامی احکام جاری کرنے میں دشواریاں پیش آتی ہیں ، مسلمان اس کی شکل وصورت دیکھ کرگمان کرتے ہیں کہ یہ کوئی یہودی یا عیسائی یا ہندو ہے۔سلام جیسی پیاری دعا سے محروم رہتا ہے، دنیا میں اس کی گواہی بھی تسلیم نہیں کی جاتی ، اگر کوئی لاش، کافر نما مسلمان کی مل جاتی ہے تو تردد ہوتا ہے کہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے اور اس کو کس قبرستان میں دفن کیا جائے؟
جو لوگ غیروں کے معاشرے کو اپنا محبوب معاشرہ بناتے ہیں وہ ہمیشہ ذلیل وخوار رہتے ہیں، کیوں کہ عشق ومحبت کی بنیاد تذلیل پر ہے یعنی عاشق کو ہمیشہ اپنے معشوق کے سامنے ذلیل وخوار بن کر رہنا پڑتا ہے۔
اس قدر مفاسد کے ہوتے ہوئے اپنے دشمنوں کے معاشرے کو پسند کرنا اور اسے عزت وشوکت کی چیز سمجھنا ، انبیا کرام اور صلحا کی مشابہت سے انحراف کرکے اغیار کی مشابہت اختیار کرنا اور ان کے معاشرے میں رنگ جانا ، یقینا ہماری ذلت ورسوائی ، بے غیرتی اور انحطاط اور تنزلی کا سبب ہے ، اس میں عزت ووقعت ہر گز نہیں ہے اور نہ ہی اس سے دشمنان اسلام مسلمانوں سے خوش ہوں گے ، تاوقتیکہ ان ہی کے مذہب کے پیروکار نہ بن جائیں ، قرآن مجید نے صاف کہہ دیا ہے:اور یہود ونصاری تم سے کبھی خوش نہ ہوں گے جب تک تم ان کے مذہب کی اتباع نہ کرنے لگو۔(البقرہ آیت120)
اسلام ایک نور اور کامل ومکمل اور حق مذہب ہے اور تمام مذاہب کا ناسخ بن کر آیا ہے ، وہ اپنے ماننے والوں کو کفر وشرک کی ظلمت اور تاریکی سے نکال کر نور کی طرف اور باطل سے ہٹاکر حق کی طرف اور ذلت سے ہٹا کر عزت کی طرف دعوت دیتا ہے ، وہ اس بات کی ہر گز اجازت نہیں دیتا کہ ایسے مذاہب جو ناقص اور منسوخ ہوچکے ہیں ان کے پیرووں کی مشابہت اختیار کی جائے ، غیروں کی مشابہت اختیار کرنا اسلامی غیرت وحمیت کے خلاف ہے۔
اسلام جس طرح اپنے اعتقادات وعبادات میں مستقل ہے کسی کا تابع دار اور مقلد نہیں ، اسی طرح وہ اپنے معاشرے اور عادات میں بھی مستقل ہے ، کسی دوسرے کا تابع ومقلد نہیں ۔ اسلام کی نام لیوا’’حزب اللہ‘‘ یعنی اللہ کی جماعت ہے ، ان کو یہ اجازت نہیں دی گئی کہ وہ اغیار کی ہیئت اختیار کریں جس سے دوسرے دیکھنے والوں کو اشتباہ پیدا ہو۔
غالباًکسی حکومت میں ایسا نہیں ہے کہ اس سلطنت کی فوج دشمنوں کی فوج کی وردی استعمال کرے ، جو سپاہی ایسا کرے گا وہ باغی قرار دیاجائے گا …اور دشمن کی جماعت اپنا کوئی امتیازی لباس یا نشان اختیار کرے تو حکومت اپنے وفا داروں کو ہر گز ہرگز اس باغی جماعت کا نشان اختیار کرنے کی اجازت نہ دے گی ، کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ایک حکومت اپنی فوج کو دشمن کی شناخت اختیار کرنے کو جرم قرار دے کیوں کہ وہ اس حکومت کی دشمن ہے ، مگر اللہ کے رسول ﷺکو یہ حق حاصل نہ ہو کہ وہ دشمنان خدا کی وضع قطع کو جرم قراردیں ، کیوں نہیں من تشبہ بقوم فھو منھم ‘جو خدا کے دشمنوں کی مشابہت اختیار کرے گا اور ان ہی کی وردی اور ان ہی کا طور طریقہ اور معاشرت اختیار کرے گا تو وہ بلاشبہ دشمنان خدا کی فوج میں سمجھا جائے گا ۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :کیا مسلمانوں کے لئے وقت نہیں آیا کہ اللہ کے ذکر اور اس کے نازل کردہ حق کے سامنے ان کے دل جھک جائیں اور ان لوگوں کے مشابہ نہ بنیں جن کو پہلے کتاب دی گئی(یعنی یہود ونصاری)جن پر زمانہ دراز گزرا، پس ان کے دل سخت ہوگئے اور بہت سے ان میں بدکار ہیں۔(حدیدآیت16)