ہمیں پاکستانی عدلیہ کی ’’اعلیٰ کارکردگی‘‘پر فخر ہے،میرے جیسا طالب علم پاکستان کی سپریم کورٹ کی سالانہ کارکردگی کا موازنہ افغانستان کی سپریم کورٹ کی سالانہ کارکردگی سے کرنا گناہ بے لذت سمجھتا ہے، کہاں آزادی کا 77واں سال اور کہاں آزادی کے صرف دو سال؟
واے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
بہرحال سپریم کورٹ آف افغانستان کے حکام نے گورنمنٹ میڈیا سینٹر میں حکومتی اداروں کی ایک سالہ کارکردگی پروگرام کے سلسلے میں اپنی ایک سالہ سرگرمیوں اور کارکردگی رپورٹ پیش کر دی۔سپریم کورٹ کے حکام نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران امیر المومنین حفظہ اللہ کے حکم کے مطابق عیدالفطر اور عید الاضحی کے موقع پر 2304 قیدیوں کو رہا کیا گیا، جبکہ 1920 قیدیوں کی سزا کی مدت میں کمی کر دی گئی۔ان کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ملک کی مختلف عدالتوں میں کل 1لاکھ 85ہزار 591کیسز حل کئے گئے ہیں۔سپریم کورٹ کے حکام کے مطابق گزشتہ سال کے دوران ابتدائیہ (ڈسٹرکٹ کورٹ)، مرافعہ (ہائی کورٹ(اور تمیز )اپیلٹ کورٹ)میں مجموعی طور پر2 لاکھ 50 ہزار 762 قانونی اور فوجداری مقدمات زیر سماعت تھے جن میں سے 2 لاکھ 3 ہزار 478 مقدمات ڈسٹرکٹ کورٹس، 34ہزار 762۔ بیس مقدمات ہائی کورٹ اور 7,892 مقدمات اپپیلٹ کورٹ میں حل کئے گئے ہیں جبکہ دیگر مقدمات زیر سماعت ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ کیسز میں منشیات سے متعلق 8005اور خواتین کے شرعی حقوق سے متعلق 3373 کیسز بھی حل کئے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 179,818 دستاویز جاری کر کے ڈیٹا بیس میں رجسٹر کرائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران وفاقی کابینہ کے 335 فیصلے اور امیر المومنین کے احکامات سپریم کورٹ بھیج دیئے گئے تھے، جن پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا ہے۔اسی طرح گزشتہ سال سپریم کورٹ کی ہائی کونسل کے 38 اجلاس ہوئے جن میں 191اہم موضوعات پر ضروری فیصلے کیے گئے۔
سپریم کورٹ کے حکام کی معلومات کے مطابق اس ادارے کے معائنہ ٹیم نے قواعد و ضوابط کے مطابق 533 مخصوص موضوعات کا معائنہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ معائنہ ٹیم نے گزشتہ ایک سال کے دوران تمام صوبوں کا دورہ کیا، مرافعہ، سٹی اور ڈسٹرکٹ کورٹس اور دیگر عدالتوں کا معائنہ کرنے کے علاوہ جیلوں کا بھی دورہ کیا اور قیدیوں کی صورتحال کا جائزہ لیا۔دوسری طرف وزارت تعلیم کی سالانہ کارکردگی رپورٹ بیان کرتے ہوئے افغان حکام نے بتایا کہ سرکاری اور نجی سکولوں میں ایک کروڑ سے زائد طلبا زیر تعلیم ہیں۔وزارت تعلیم کے حکام نے میڈیا سینٹر میں صحافیوں کی موجودگی میں وزارت تعلیم کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کر دی۔وزارت تعلیم کے حکام نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’سرکاری اور نجی سکولوں میں ایک ملین 4 لاکھ 45 ہزار 840نئے طلبا کو داخل کیا گیا ہے جس سے سرکاری اور نجی سکولوں میں طلبا کی مجموعی تعداد تقریبا ً1 کروڑ 9 لاکھ 14 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں 106 سرکاری اور 210پرائیویٹ نئے اسکول قائم کیے گئے جس سے سرکاری اور نجی اسکولوں کی مجموعی تعداد 18 ہزار 337ہوگئی۔ حکام نے مزید کہا کہ کل 152سرکاری اور نجی پرائمری اسکولوں، مڈل اسکولوں اور 119سرکاری اور نجی سیکنڈری اسکولوں کو ہائی اسکولوں میں اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ نیز خانہ بدوش بچوں کے لیے 123 اسکول اور 159مقامی کلاسیں مختص کی گئی ہیں جس میں 41,824طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے 18 صوبوں میں 484 معذور بچوں کو خصوصی تعلیمی مراکز میں تعلیم فراہم کی گئی ہے اور 19صوبوں میں 3,844معذور طلبا کو تدریسی آلات اور سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق مذکورہ وزارت نے گزشتہ ایک سال میں نصابی کتب اور نصاب کا جائزہ لینے اور ان میں بہتری لانے اور تعلیمی اداروں میں خدمات کی فراہمی کے معیار کا جائزہ لینے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔ اسی طرح پہلی سے بارہویں جماعت تک 16 ملین 1 لاکھ 88 ہزار 939 نصابی کتب، اسلامی تعلیم کے مراکز کے لیے 6 لاکھ 17 ہزار 978 درسی کتابیں اور 2 لاکھ 94 ہزار 641درسی کتب چھاپ کر تقسیم کی گئیں۔ اس کے علاوہ 16 ہزار سے زائد سکولوں کے تعلیمی منصوبے پر عمل درآمد اور تعلیمی مراکز میں 21ہزار سے زائد اساتذہ کے تدریسی عمل، مقامی کلاسز اور خواندگی کے پروگراموں کی نگرانی کی گئی جن میں سے 5076 اساتذہ کو کیپسٹی بلڈنگ پروگرام میں متعارف کرایا گیا ہے۔حکام کا مزید کہنا ہے کہ گزشتہ سال مذکورہ وزارت کے 248,113ملازمین اور اساتذہ کے لیے صلاحیت سازی کے پروگرام منعقد کئے گئے تھے اور ملک میں اسلامی تعلیم کے 21257 مراکز قائم کیے گئے جن میں 19669مدارس، 1277دارالحفاظ 115 دارالعلوم اور 39دارالایتام شامل ہیں جن میں3 ملین6 لاکھ87 ہزار 200 افراد اسلامی علوم سے وابستہ ہیں۔ گذشتہ سال ملک کے اندر اور باہر اسلامی تعلیمی مراکز سے فارغ التحصیل افراد کی تعلیمی دستاویزات کا جائزہ لینے کے لیے مرکز اور صوبوں میں 20,000 سے زائد تصدیقی فارم تقسیم کیے گئے امتحان دینے کے بعد 3,532افراد نے پانچویں اور 5,879 پوسٹ سیکنڈری پیریڈ پاس کیے۔ اسی طرح 336 قرا حضرات نے بھی امتحان پاس کیا ہے۔
حکام کے مطابق نتائج اور سرٹیفکیٹس کی منتقلی کے عمل کو آسان اور تیز کرنے کے لیے افغان پوسٹ کے ساتھ تعاون کے معاہدے پر دستخط کئے گئے ہیں۔ مزید تعاون کو راغب کرنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی اداروں کے ساتھ تعاون کی 19یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ہیں اور 3570 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اسی طرح بارہویں جماعت کے فارغ التحصیل طلبا میں 303,000 اسناد تقسیم کی گئی ہیں اور الیکٹرانک سسٹم میں دو ملین 9 لاکھ نتائج کا اندراج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں امتحانات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے معیاری امتحانی بورڈ اور معیاری سوالیہ بنک کا قیام، تعلیمی قانون کے مسودے کی تیاری، مدارس کے قیام کے لیے قوانین کا نفاذ جہادی مدارس کا قیام، قوانین کا نفاذگزشتہ سال مذکورہ وزارت کے اہم اقدامات میں سے ہیں۔ حکام کے مطابق سکولوں، مدارس اور انتظامی دفاتر کی تعمیر کے لیے 804 ایکڑ اراضی واگزار کی گئی ہے۔ 981بنیادی اور تزئین و آرائش کے منصوبے زیر تعمیر ہیں، صوبوں میں 650 اسکول اور مدارس تعمیر کیے گئے ہیں اور 1500سکولوں اور مدارس کی تزئین و آرائش کی گئی ہے۔