ڈاکٹر ذاکر نائیک28روزہ دورے پر پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں، جس پر ہر ذی شعور صاحب علم پاکستانی خوشی اور مسرت کا اظہار کر رہا ہے،مختلف مکاتب فکر کے بعض دل جلے ان کے خلاف جلی کٹی باتیں بھی کر رہے ہیں، لیکن ان کی حیثیت اس لئے نہیں کہ عوام میں انہیں پذیرائی نہیں مل رہی،یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے، کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک نہ تو مفتی ہیں،نہ شیخ الحدیث ہیں اور نہ کسی خانقاہ کے پیر، فقیر، ہاں البتہ وہ ماہر تقابل ادیان ہیں،اور اپنی فیلڈ میں ان کا ہمسر کوئی نہیں، اس لئے ان کے خلاف دل کے پھپھولے پھوڑنے والے ’’ماہرین فرقہ واریت سے میری گزارش ہے،کہ وہ سوشل میڈیا پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کو مناظرے کے چیلنج دینے کی بجائے ان کے کسی پروگرام میں حاضر ہو کر ان سے دوبدو سوالات کر لیں، ڈاکٹر ذاکر نائیک ہندوستانی ہیں، اور ’’نریندر مودی گردی‘‘کانشانہ بننے کی وجہ سے انہیں ملائیشیا کی طرف ہجرت کرنا پڑی،یہ کوئی اپنے ’’جاوید غامدی‘‘تھوڑے ہیں کہ جو اپنی من مرضی سے امریکہ جا بسیں ۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے جس جرات و بے باکی کے ساتھ دوسرے مذاہب بلخصوص ’’ہندوازم‘‘ کے مقابلے میں اسلام کے پرچم کو سربلند رکھا،وہ اپنی مثال آپ ہے ’’ماہرین فرقہ واریت‘‘کو چاہیے کہ وہ حسد کی آگ جلا کر’’بغضی‘‘دوھنواں چھوڑنے کی بجائے ان کے تبحر علمی کو تسلیم کر کے انہیں وطن عزیز پاکستان میں کھل کھلا کر خوش آمدید کہیں، فرقہ وارانہ ’’تبحر‘‘ میں مبتلا عناصر اگر اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم ازکم مہمان کو خوش آمدید کہنے کا طریقہ ہی مولانا فضل الرحمن سے سیکھ لیں، کہا جاتا ہے کہ اپنی نوعیت کے منفرد اور مایہ ناز اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک سخت سیکورٹی میں اپنے صاحبزادے کے ہمراہ منگل کے روز ملاقات کے لئے جب مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پہنچے تو وہ ان کی آمد کے منتظر تھے ،مولانا فضل الرحمن نے باہر آ کر ان کا پرجوش استقبال اور معانقہ کیا۔
اخباری خبر کے مطابق ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنے بیٹے فاروق نائیک کا مولانا فضل الرحمن سے تعارف کروایا تو اس نے انتہا ئی عقیدت واحترام سے مولانا کی پیشانی پر بوسہ دیا اور تو اور ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنے وفد کے ہمراہ مغرب کی نماز بھی مولانا کی امامت میں ادا کی ،مولانا فضل الرحمان نے ڈاکٹر ذاکر نائک کی دینی حوالے سے کی جانے والی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہمارے گھر آکر ہمارے گھر کو رونق بخشی، آپ کی تشریف آوری آپ کے مشن میں مزید برکت کا سبب بنے گی، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جس طریقے سے ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب سوالات کا جواب دیتے ہیں، وہ امت مسلمہ کی طرف سے دفاع ہوتا ہے ، کئی لوگ ان کی دعوت سے ایمان کے نور سے منور ہوئے ہیں، عالم اسلام کے حسین چہرے سے دنیا کو روشناس کرانا اور امت مسلمہ کا اتحاد واتفاق مشترکہ ہدف ہے ،مولانا نے کہا کہ ڈاکٹرصاحب یہاں مہمان نہیں میزبان ہیں یہ ان کا اپنا گھر ہے ڈاکٹر ذاکر نائیک نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میری خواہش تھی جو آج پوری ہوئی،کل کچھ دوست ملنے آئے لیکن میں نے کہا سب سے پہلے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کروں گا۔
میرے نزدیک سب سے اہم پیشہ ڈاکٹری کا تھا،پھر قرآن کریم کا ترجمہ پڑھا تو معلوم ہوا سب سے اچھا مشن دعوت کا ہے،انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی امت مسلمہ کے اتحاد کی کاوشوں کو سراہتا ہوں ، مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ میں اپنائیت محسوس کر رہا ہوں ۔ ’’عالم اسلام کے دو بڑے رہنمائوں کی مندرجہ بالا گفتگو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ سنجیدہ مذہبی قائدین عالم اسلام کے اتحاد کے سب سے بڑے داعی ہیں،عام مسلمانوں کو بھی لنڈے کے لبرزاور سیکولرز کے پروپیگنڈے کا شکار ہونے کی بجائے آپس میں اتحاد و اتفاق سے رہنا چاہئے ،یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ اللہ کا دین کسی شخصیت کا محتاج نہیں ہے،جو اخلاص کے ساتھ دین کو اپنائے گا اور دین کے دفاع میں کھڑا ہو گا اللہ اسے عزتوں سے نواز دے گا،نہ ڈاکٹر صاحب اسلام میں پہلے ماہر تقابل ادیان ہیں اور نہ ہی یہ آخری ہوں گے،لیکن آج بہرحال اپنی فیلڈ میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کا طوطی بولتا ہے،اسی وجہ سے وہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں،امت مسلمہ کو اس وقت ایسے رجال کار کی ضرورت ہے کہ جو مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرو سکیں،جو اتحاد امت کے لئے کوئی کردار ادا کرسکے،ڈاکٹر ذاکر نائیک یہ سب کر سکتے ہیں،لیکن اگر وہ اپنی فیلڈ یعنی ماہر تقابل ادیان تک ہی محدود رہیں، اور مفتی یا شیخ الحدیث بننے سے گریز کریں،کیونکہ اس کے لئے امت کے علما اور مفتیان موجود ہیں،ڈاکٹر ذاکر نائیک امت مسلمہ کا قیمتی سرمایہ ہیں ،پاک سر زمین پر وہ ایک معزز مہمان کی حیثیت سے تشریف لائے ہیں، ایک معزز مہمان کو مناظرے کے چیلنج کرنا ’’تو کون میں خوامخواہ ‘‘والی بات ہو گی،پاکستان پہلے ہی ایک طرف تو سیاسی فرقہ واریت کا شکار ہے ،جبکہ دوسری طرف مقدس ترین ہستیوں کی گستاخیوں کا سلسلہ بھی دراز ہوتا چلا جا رہا ہے،ان حالات میں ایک عزت مند عالمی مسلم شخصیت کا دورہ پاکستان مبارک عمل ہے۔