Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

مبلغ اسلام…..مرحبا

وزیراعظم شہباز شریف کی جب معروف اور حقیقی اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا ’’کہ اسلامی دنیا آپ پر نازاں ہے، آپ نے اسلام کا صحیح تشخص دنیا میں متعارف کرایا ، آپ کے سامعین میں اکثریت نوجوانوں کی شامل ہوتی ہے،وزیراعظم نے کہا کہ میں آپ کے لیکچر شوق سے سنتا ہوں’’واہ‘‘ اللہ کرے کہ ڈاکٹر صاحب کا کوئی لیکچر ہمارے وزیراعظم کے دل پر بھی اثر کر جائے اور وہ ملک کے قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھال کر پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر ڈال دیں‘‘ پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور سلامتی کا راز نظام اسلام کے عملی نفاذ میں مضمر ہے ،سو چا کہ ذرا حضرت اقدس پیرو مرشد حفظہ اللہ کی خانقاہ کا چکر لگا لیا جائے،حضرت اقدس پیرو مرشد نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے حوالے سے جو کہا وہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے،پیرو مرشد فرما رہے تھے،اللہ تعالیٰ ہمیں عالی مقصد اور بلند ہمت زندگی نصیب فرمائیں۔
مبلغ اسلام، داعی ایمان، ڈاکٹر ذاکر نائک حفظہ اللہ تعالیٰ کے پاکستان تشریف لانے پر قلبی خوشی محسوس ہو رہی ہے والحمدللہ رب العالمین،نہ ان سے کوئی رابطہ ہے نہ ملاقات مگر کلمہ طیبہ کے رشتہ سے وہ ہمارے معزز بھائی ہیں۔ہم انہیں مرحبا، خوش آمدید اور اہلا وسہلا کہتے ہیں وہ امت مسلمہ کا قابل فخر سرمایہ ہیں،اللہ تعالیٰ نے ان کو بے پناہ صلاحیت سے نوازہ ہے اور ان سے دین کا بڑا کام لیا ہے اور وہ کام ہے دعوت ایمان ،یاد رکھیں!انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اور ملائک، اللہ کے علاوہ کوئی بھی غلطیوں اور گناہوں سے معصوم نہیں ہے،ہم حضرات ائمہ اربعہ کا اکرام کرتے ہیں،حضرت امام بخاری ؒ اور دیگر محدثین کا اکرام کرتے ہیںحالانکہ کئی مسائل میں اختلاف بھی ہوتا ہے،ڈاکٹر ذاکر سے بھی غلطیاں ہوئی ہیںجن پر اہل علم انہیں متنبہ کرتے رہتے ہیں۔
آج کل اکثر دین دار لوگ فضول بحثوں اور جدل و جدال میں مبتلا ہیں اور ان مسائل میں زندگیاں کھپا رہے ہیںجن کا قبر، حشر اور آخرت میں سال تک نہ ہوگاجبکہ ڈاکٹر ذاکر کی خوش نصیبی دیکھیں کہ انہوں نے دعوت ایمان کو اپنا اصل موضوع بنایا اور دشمنان اسلام کے دانت کھٹے کر دیئے اور لاکھوں افراد کے قبول اسلام کا ذریعہ بنے،مرنے کے بعد تو یہی چیزیں کام آئیں گی اور اس زمانے میں عملی جہاد فی سبیل اللہ کے بعد دعوت ایمان سے بڑا اور کوئی کام نہیں،اسی لئے ڈاکٹر صاحب کو انڈیا میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ہجرت پر مجبور ہوئے فرماتے ہیں کہ پندرہ ممالک نے انہیں شہریت دینے کی پیشکش کی یعنی ایک سچے داعی کے لئے دوسو ممالک کی سرزمین پر صرف پندرہ ملک کھلے ہیں جبکہ سچے مجاہدین کوکوئی ایک ملک بھی اپنی شہریت نہیں دے گا،پناہ البتہ چند ایک دے دیتے ہیںبے شک دین کے لئے جس نے جتنی قربانی دی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا بدلہ ضرور پائے گا۔
پاکستان حکومت نے ڈاکٹر صاحب کو دعوت دی بیس سال میں پہلی بار کسی حکومتی فیصلے سے اسلام، عزت اور بہادری کی خوشبو آئی ورنہ مشرف کے نامبارک دور سے یہ ملک بد امنی، بزدلی اور محتاجی کی ڈھلوان پر لڑھک رہا ہے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ملحد اور کفر پرست طبقے کے دبائو میں آکر ڈاکٹر صاحب کو محدود نہ کیا جائے،مکمل سیکورٹی میں ان کے فقید المثال اجتماعات رکھے جائیں اس میں آپ کو اجر و ثواب بھی ملے گا اور ترقی بھی ان شااللہ،آخر بے فائدہ سیاسی جلسوں اور اجتماعات کو بھی تو سیکورٹی دی جاتی ہے،بہت افسوس ہو رہا ہے کہ غیروں اور گیدڑوں کے دبائو میں آکر عالم اسلام کے عظیم داعی سے ملک کی عوام کو محروم رکھا جا رہا ہے،بہادری کر بیٹھے ہو بابا تو پھر اسے نبھا بھی لو،تیس لاکھ افراد کا مجمع بٹھا اور ڈاکٹر صاحب کو کھڑا کر دو،جب وہ دنیا کے ہر پادری، پنڈت، گرو، ملحد کو للکاریں گے اور سچے دین کی دعوت دیں گے تو ہمارے ملک میں خوشبو ہی خوشبو پھیل جائے گی۔حضرت اقدس پیرو مرشد کی اس خوشبودار گفتگو سے ’’ماہرین فرقہ واریت‘‘ کی پھیلائی ہوئی بدبو کودفع کر نیاور فضا کو معطر بنانے میں مدد ملے گی۔
فلسطین کی صورتحال پر مسلم دنیا کے اقدامات کے حوالے سے سوال پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کا کہنا تھا کہ مسلمان ممالک کو نیٹو کی طرح کا اتحاد تشکیل دینا چاہیے۔ نیٹو کے 32ممالک ہیں ، اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہو تو تمام ممالک پر حملہ تصور ہوتا ہے۔ 57اسلامی ممالک کو بھی نیٹو کے اصولوں پر مبنی ایک اتحاد تشکیل دینا چاہیے۔ اس طرح مسلمان ممالک ذیادہ طاقت ور ہوں گے، لیکن افسوس کے مسلمان تقسیم کا شکار ہیں۔انہوں نے مزیدکہا کہ ہمیں اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے، اس کے علاوہ مسلمانوں کو انفرادی طور پر جتنا بھی ہوسکے فلسطینیوں کی مالی امداد کرنی چاہیے، چاہیے 100 روپے ہوں یا 1000روپے، اللہ تعالیٰ نیت کو دیکھتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف مقدمات کرنے چاہئیں۔ مسلمانوں کے میڈیا کو چاہیے کہ فلسطین کے حوالے سے آواز بلند کرے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر مسلمان قرآن و سنت پر عمل کریں گے تو اللہ کی مدد اور زیادہ آئے گی۔ اس کے علاوہ اگر مسلمان اسلامی نظام نافذ کریں اور خلافت کا قیام کریں تو ان شااللہ اس طرح کے مسائل کبھی نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں