بلوچ خواتین کا استحصال اور دہشت گردی کی مثلث
یہ بہت تشویش ناک بات ہے کہ فتنہ ہندوستان سے وابستہ دہشت گرد گروہ بلوچستان میں سرحد پار حملوں کے لیے نوجوان طالب علموں کے ساتھ ساتھ گھریلو خواتین کو بھی استعمال کر رہے ہیں۔ 18اپریل کو بلوچستان حکومت کے
یہ بہت تشویش ناک بات ہے کہ فتنہ ہندوستان سے وابستہ دہشت گرد گروہ بلوچستان میں سرحد پار حملوں کے لیے نوجوان طالب علموں کے ساتھ ساتھ گھریلو خواتین کو بھی استعمال کر رہے ہیں۔ 18اپریل کو بلوچستان حکومت کے
آج کل انسانی حقوق کا نقاب بھی بہت زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ صاف ظاہر یے کہ نقاب اصل صورت کو چھپانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ریاست پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے گروہ اور ان کے
تحریک انصاف کی سیاست کس راہ پہ گامزن ہے ۔یہ سوال اس جماعت کےنظریاتی اراکین اور سادہ لوح ہمدردوں کےاذہان میں کلبلا رہا ہے۔ اندھے مقلدین کا معاملہ ذرا مختلف ہےکہ انکی فکرشخصیت پرستی کی زنجیروں میں جکڑی رہتی ہے۔’’کپتان
ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ جارحیت نے دنیا کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ ایران کا عسکری ردعمل امریکہ اور اسرائیل کے لیے غیرمتوقع اورحیران کن رہا ہے۔ خلیجی ریاستوں میں امریکی اڈوں اور اسرائیل پر حملوں
(گزشتہ سے پیوستہ) جی ایس ایل وی-ایف10 (12اگست 2021ء ) میں مشن کرائیوجینک اپر سٹیج(سی یو ایس) کی اگنیشن کے دوران ناکام ہوا۔ ایک تکنیکی خرابی، جو بعد میں لیکوڈ ہائیڈروجن ٹینک میں والو لیک ثابت ہوئی، نے ای او
مودی سرکار پر یہ خبر بجلی بن کر گری ہے کہ دھوم دھام سے خلا میں بھیجے گئے مصنوعی سیارے کا تجربہ ناکام ہوگیا۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ خلائی مشن ایک بار پھر ناکام ہوگیا ہے۔
مودی سرکار پر یہ خبر بجلی بن کر گری ہے کہ دھوم دھام سے خلا میں بھیجے گئے مصنوعی سیارے کا تجربہ ناکام ہوگیا۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ خلائی مشن ایک بار پھر ناکام ہوگیا ہے۔
ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں نے جہاں ایک طرف خطے میں سلامتی کی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے وہیں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے دار بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے مشکوک
مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔ وہ ہو گیا ہے جس کا خطرہ تھا۔ اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر مشترکہ حملے کر کے خطے کے امن کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اس سے قبل سرحد
ایک جانب دہشت گردی کی لہر صوبہ کےپی کو اپنی گرفت میں لے رہی تو دوسری جانب صوبائی حکومت نے اپنی تمام توانائیاں سیاسی ہیجان پھیلانے میں جھونکی ہوئی ہیں۔ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت سے جاری سیاسی کشمکش ہر