ڈیل ، ڈھیل اور ہیجانی سیاست
سیاسی منظر نامے میں انتشار کا عنصر کم نہیں ہونے پا رہا۔ تحریک انصاف اگرچہ صوبہ کے پی میں برسر اقتدار ہے لیکن تمام ادائیں حزب اختلاف والی ہیں۔جیل میں سابق وزیراعظم کی موت کی افواہ پھیلا کر جو ہیجان
سیاسی منظر نامے میں انتشار کا عنصر کم نہیں ہونے پا رہا۔ تحریک انصاف اگرچہ صوبہ کے پی میں برسر اقتدار ہے لیکن تمام ادائیں حزب اختلاف والی ہیں۔جیل میں سابق وزیراعظم کی موت کی افواہ پھیلا کر جو ہیجان
پاکستان نے بھارتی پروردہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کا مستحسن فیصلہ کیا ہے۔ علاقائی منظر نامے پر سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے پاک افغان مذاکرات کا معاملہ چھایا ہوا ہے۔بدقسمتی سے افغانستان آج دہشت
احتجاج آئینی حق ہے ۔لیکن موقع و محل بھی تو کچھ اہمیت رکھتے ہیں ۔رائے کے اظہار کے مختلف طریقے رائج ہیں۔ تحریر ،تقریر، انٹرویو جیسے روایتی طریقوں کے علاوہ اب سوشل میڈیا پر متعدد وسائل دستیاب ہیں۔ مختلف تنظیمیں
پنجاب میں احتجاج کے نام پر انتشار کے مناظر بے حد تکلیف دہ ہیں ۔غزہ کے معاملے پر اجتماعی جذبات یکساں ہیں۔ پاکستان نے عالمی سطح پر قومی جذبات کی ترجمانی کئی مرتبہ کی ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران
دہشت گردی کا معاملہ بے حد گمبھیر ہے ۔ پاکستان میں نسل پرست علیحدگی پسند اور مذہبی شدت پسندی پر یقین رکھنے والے گروہ متحرک ہیں۔ ریاست نے انہیں بالترتیب ’’فتنہ ہندوستان‘‘اور’’فتنہ خوارج‘‘ قرار دیا ہے۔ پاکستان کا ریاستی موقف
برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کی ایک تحریر میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے سرکاری طور پر امریکہ کو بلوچستان کی ساحلی پٹی پر پسنی کے مقام پر ایک بندرگاہ تعمیر کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس خبر
ہندوستان ایک جنون میں مبتلا ہے! پاکستان کو تباہ کرنے کا جنون !نریندر مودی کی قیادت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت میں یہ جنون ختم نہیں ہوگا بلکہ اور بڑھے گا۔ نفرت کا عالم یہ ہے کہ آئی سی
کیا دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کو انسانی حقوق کا علمبردار کہا جا سکتا ہے؟ صوبہ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی کی لہر پوری قوت سے ابھری ہے۔ کالعدم گروہ نہتے بے گناہ شہریوں
عالمی برادری میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کا طے پا جانا ایک حیران کن خبر ثابت ہوئی ہے۔ وطن کے خیر خواہ اس پیش رفت پر مسرور ہیں۔ بلا شبہ یہ رب
سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ ہو رہا ہے۔ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں خون کی ہولی کھیلنے والے دہشت گرد گروہ پڑوسی ملک میں دستیاب محفوظ پناہگاہوں سے متحرک ہیں۔ ازلی دشمن بھارت