انتخابی دھاندلی کا تاریخی پس منظر
انتخابات میں دھاندلی کی روایت نئی نہیں ہے اور نہ ہی یہ معاملہ محض کسی ایک ملک یا دور سے متعلق ہے ،یہ سیاسی تاریخ کی ایک قدیم روایت ہے جو انسان کی سیاسی کارگزاریوں میں ہمیشہ دہرائی جاتی رہی
انتخابات میں دھاندلی کی روایت نئی نہیں ہے اور نہ ہی یہ معاملہ محض کسی ایک ملک یا دور سے متعلق ہے ،یہ سیاسی تاریخ کی ایک قدیم روایت ہے جو انسان کی سیاسی کارگزاریوں میں ہمیشہ دہرائی جاتی رہی
2007 ء میں جب میں پہلی بار متحدہ امارات میں آیا تھا، تو یہ خطہ ایک پرسکون مگر خوابیدہ شاہراہوں، محدود افقوں اور نرم و گرم رفتار ترقی کا منظر پیش کررہا تھا۔ میرا بڑا بیٹا حسن سرمد اس وقت
تاریخ کے ہر دور میں مذہب اور تہذیب کے باہمی تعلق نے انسانی معاشروں کی فکری سمت کا تعین کیا ہے۔ قدیم یونانی فلسفہ ہو یا اسلامی عہدِ زریں، یورپ کی نشاِ ثانیہ ہو یا عصرِ حاضر کا گلوبلائزڈ معاشرہ
(گزشتہ سے پیوستہ) اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کے سربراہ کی بہنوں پر کئے جانے والا ظلم و تشدد جسے بہیمیت سے بھی بڑھ کر کوئی نام دیا جاسکتا ہے اسے کیا سمجھنا چاہیئے ۔ایک خونی انقلاب کو
اسلامی جمہوریہ پاکستان جو کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا جانے والا ملک ہے ،وہ ملک جس کی بنیادوں میں لاکھوں شہیدوں کا لہو ہے، ہم نے اس لہو کی حرمت کی کتنی قیمت چکائی ہے یہ ایک تاریخی
مولانا فضل الرحمن کا دور حاضر کے ان پاکستانی پارلیمنٹیرین میں شمار ہوتا ہے جن کی دانش و بیش کے چرچے چہار دانگ مشہور و معروف ہیں۔فیس بک پر بعض متعصب لوگ ان کے بارے جتنے بھی ناروا الفاظ اور
بیسویں صدی کے اختتام اور اکیسویں صدی کے آغاز نے عالمِ اسلام کے سیاسی و فکری نظم پر ایسی کاری ضربیں لگائیں کہ اس کے بنیادی نقشے ہی تبدیل کر کے رکھ دیئے۔ امتِ مسلمہ، جو کبھی ایک ہی اشتراک
اردو ادب میں خودنوشت کی تاریخ بہت زیادہ پرانی نہیں ہے تاہم بیسویں صدی میں یہ اہک مقبول و معتبر صنف کے طور پرابھری۔یوں بھی اردو نثر کے باقاعدہ ارتقا کا دور فورزٹ ولیم کالج سے 1800 کے بعد ہی
اسلامی تہذیب کی فکری روایت میں ’’مکالمہ‘‘ اور ’’مناظرہ‘‘ دو ایسے الفاظ ہیں جن میں امتِ مسلمہ کی علمی روح، استدلالی قوت اور فکری جستجو کا عظیم خزانہ وافر حالت میں ملتا ہے۔ ابتدا ئے اسلام ہی سے یہ امت
شاعرِ مشرق،حکیم الامت علامہ محمداقبالؒ محض ایک شاعر نہیں تھے،بلکہ ایک فلسفیِ حریت فکرِ اورخودی کےمعمارتھے۔ان کے نزدیک آزادی، ایمان اورخودی ایسی ابدی قدریں ہیں جن پر کسی قوم کی زندگی اور موت کا دار و مدار ہے۔اقبالؒ کی نگاہ