Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

کالعدم بی ایل اے پر عالمی پابندیاں ناگزیر ہیں!

بلوچستان لبریشن آرمی(بی ایل اے) گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں میں ملوث ہے، مگر اس کی دہشت گردی کا اصل شکار خود بلوچ عوام، خواتین، بچے اور ترقی کے خواب ہیں۔ یہ تنظیم کسی سیاسی یا قوم پرست جدوجہد کی نمائندہ نہیں بلکہ ایک پرتشدد گروہ ہے جس نے عام شہریوں کا خون بہا کر، خواتین

اللہ کے راستے میں خرچ کیا کرو

گلگت کے جلسوں سے ’’مجھے کیوں نکالا‘‘کی صدائیں آ رہی ہیں،جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جمہوری سیاست ابھی تک 9سالہ پرانے کٹے کے کھونٹے سے ہی بندھی ہوئی ہے،اس لئے ’’سیاہ ست‘‘ کے موضوع پر وقت ضائع کرنے کی بجائے انفاق فی سبیل اللہ کو موضوع بناتے ہیں،قرآن و حدیث کے مطالعہ سے اللہ کی راہ میں خرچ

بھارتی دہشت گردی اور عالمی ضمیر کا امتحان

عالمی سیاست میں طاقتور ریاستیں اکثر اپنے مفادات کے تحفظ کے نام پر ایسے اقدامات کرتی ہیں جنہیں بعد ازاں قومی سلامتی، انسداد دہشت گردی یا داخلی استحکام کے خوشنما عنوانات کے پیچھے چھپا دیا جاتا ہے۔ تاہم بعض اوقات حقائق اتنے واضح ہو جاتے ہیں کہ انہیں محض سفارتی بیانیوں کے ذریعے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔ جنیوا

ناروے اور سویڈش پریس کی مودی سے جواب طلبی

دنیا کی سیاست میں ایسے لمحات کم ہی آتے ہیں جب تجارت، سفارت کاری، انسانی حقوق اور آزادی صحافت ایک ہی منظرنامے میں سمٹ کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا حالیہ دورہٗ سویڈن اور ناروے بھی کچھ ایسا ہی موقع ثابت ہوا ہے۔ بظاہر یہ دورہ اقتصادی تعاون، سبز ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی، خلائی تحقیق

ابراہیمی معاہدات یا ضمیر کا امتحان؟

(گزشتہ سے پیوستہ) سیتھ فرانٹزمین جوموجودہ دورکے ایک معروف امریکی نژاداسرائیل میں مقیم صحافی،سیاسی تجزیہ کار،محقق اورمصنف ہیں،جنہیں خاص طورپرمشرقِ وسطیٰ کی جنگوں،ایران، اسرائیل ، شام،عراق اورعسکری حکمتِ عملی کے تجزیے پرگہری مہارت حاصل ہے۔ان کے مطابق ’’نیوابراہیم اکارڈز‘‘ ایک غیرحقیقی تصورہے کیونکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ان کے مطابق خطہ اس وقت استحکام کے بجائے مزید کشیدگی کی

اڑان پاکستان

پاکستان کی معیشت کے بارے میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ یہاں ہر حکومت آتے وقت خزانہ خالی پاتی ہے اور جاتے وقت مزید خالی چھوڑ جاتی ہے۔ مگر اب تو معاملہ اس سے بھی آگے نکل گیا ہے۔ خزانہ خالی ہونے کی بات پرانی ہو چکی اب تو قرضوں کے انبار لگتے جا رہے ہیں اور ہر گزرتے سال

کالم پروفائل